?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کا ٹرائل شروع ہونے سے متعلق وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کو آگاہ کر دیا۔وفاقی حکومت نے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل شروع ہونے سے متعلق سپریم کورٹ کو متفرق درخواست کے ذریعے آگاہ کیا جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے 3 اگست کے حکمنامے کی روشنی میں عدالت کو ٹرائلز کے آغاز سے مطلع کیا جا رہا ہے۔
وفاقی حکومت نے متفرق درخواست میں بتایا کہ 9 اور 10 مئی کے واقعات کی روشنی میں 102 افراد گرفتار کیے گئے، زیر حراست افراد کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹرائل کیا جا رہا ہے اور جو فوجی عدالتوں میں ٹرائل میں قصوروار ثابت نہ ہوا وہ بری ہوجائے گا۔
متفرق درخواست کے مطابق فوجی عدالتوں میں ہونے والا ٹرائل سپریم کورٹ میں جاری مقدمے کے فیصلے سے مشروط ہوگا، فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے بعد جو قصوروار ثابت ہوگا ان کو معمولی سزائیں ہوں گی جبکہ 9 اور 10 مئی کے واقعات میں ملوث جو افراد جرم کے مطابق قید کاٹ چکے انہیں رہا کر دیا جائے گا، فوجی ٹرائل کے بعد سزا یافتہ افراد قانون کے مطابق سزاؤں کے خلاف متعلقہ فورم سے رجوع کر سکیں گے۔
متفرق درخواست میں بتایا گیا ہے کہ فوجی تحویل میں لیے گئے افراد کو پاکستان آرمی ایکٹ 1952 اورآفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا، گرفتار افراد جی ایچ کیو راولپنڈی،کور کمانڈر ہاؤس لاہور، پی اے ایف بیس میانوالی،آئی ایس آئی سول لائنز فیصل آباد پر حملے میں ملوث ہیں، گرفتار افراد حمزہ کیمپ، بنوں کیمپ اور گوجرانوالہ کیمپ پر حملے میں ملوث ہونے پر تحویل میں ہیں۔
واضح رہے کہ 2 روز قبل 20 اکتوبر کو عدالت عظمیٰ کی جانب سے جاری کردہ کاز لسٹ کے مطابق فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کے خلاف کیس کی سماعت کل 23 اکتوبر بروز پیر دن ساڑھے 11 بجے شروع ہوگی۔
جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ سماعت کرے گا، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر نقوی اورجسٹس عائشہ ملک بینچ میں شامل ہیں۔
یاد رہے کہ فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کے خلاف کیس کی آخری سماعت 3 اگست کو ہوئی تھی، جس کے دوران اُس وقت کے چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے تھے کہ مسلح افواج کو ’غیر آئینی اقدامات‘ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ اس سے قبل عدالت عظمیٰ نے مقدمے کی سماعت کے لیے فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد کردی تھی۔
کیس کی سماعت سابق چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس عائشہ اے ملک پر مشتمل 6 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی۔
چیئرمین پی ٹی آئی، سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ، معروف قانون دان اعتزاز احسن اور سول سائٹی کی جانب سے عام شہریوں پر مقدمات آرمی ایکٹ کے تحت فوجی عدالتوں میں چلانے کے خلاف درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔
20 جون کو جواد ایس خواجہ نے اپنے وکیل ایڈووکیٹ خواجہ احمد حسین اور ایڈووکیٹ عزیر چغتائی کے توسط سے دائر درخواست میں استدعا کی تھی کہ عام عدالتیں ہوتے ہوئے ملٹری عدالتوں کے ذریعے عام شہریوں کا ٹرائل غیر آئینی قرار دیا جائے اور آرمی ایکٹ کے مختلف سیکشنز آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق سے متصادم ہیں، جنہیں کالعدم قرار دیا جائے۔
اس درخواست سے قبل مختلف شہروں سے سول سوسائٹی کے 5 ارکان نے اپنے وکیل فیصل صدیقی کے ذریعے 9 مئی کے تشدد کے سلسلے میں فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کو غیر قانونی قرار دینے کی درخواست دائر کی تھی۔
اسی طرح 18 جون کو پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر وکیل اعتزاز احسن نے 9 مئی کے واقعات میں ملوث شہریوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔
اعتزاز احسن کی جانب سے وکیل سلمان اکرم راجا نے دائر درخواست میں کہا تھا کہ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کور کمانڈر فیصلے پر ربر اسٹمپ کا کردار ادا کیا، سویلین کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 اور 59 آئین سے متصادم ہیں، آرمی ایکٹ قانون کے سیکشن 2 اور 59 کو کالعدم قرار دیا جائے۔
21 جون کو سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے فوجی عدالتوں میں آرمی ایکٹ کے تحت عام شہریوں کے مقدمات چلانے کے خلاف دائر 4 درخواستوں کو سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے اپنی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا۔
21 جولائی کو فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے تھے کہ سپریم کورٹ کو آگاہ کیے بغیر فوجی عدالتوں میں ملزمان کا ٹرائل شروع نہیں کیا جائے، حکم کی خلاف ورزی پر ذمہ داروں کو طلب کریں گے۔


مشہور خبریں۔
عمران خان کی توشہ خانہ کیس کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست
?️ 5 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے
اکتوبر
صیہونی افسروں کا لبنان میں لوٹ مار پر پابندی عائد کرنے سے انکار
?️ 6 مئی 2026 سچ خبریں:اسرائیلی میڈیا بشمول اسرائیل ٹی وی چینل 14 کی شائع
مئی
کیا عام شہریوں کو مارنا ہی جنگ ہے ؟
?️ 27 اکتوبر 2023سچ خبریں:وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے
اکتوبر
حماس: فلسطینی رہنماؤں کے بچوں کو نشانہ بنانے سے مزاحمت متاثر نہیں ہوگی
?️ 7 مئی 2026سچ خبریں: فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے اپنے سربراہ کے بیٹے
مئی
غزہ اور مغربی پٹی شہدا کے تازہ ترین اعداد و شمار
?️ 19 مئی 2021سچ خبریں:غزہ کی وزارت صحت نے فلسطینی شہدا کے بارے میں نئے
مئی
صورتحال گورنر راج لگانے کی طرف جاتی دکھائی دے رہی ہے
?️ 9 نومبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ کا کہنا ہے چند لوگ
نومبر
چین کی کینیڈین شہری کو 11 سال قید کی سزا
?️ 12 اگست 2021سچ خبریں:چین کی ایک عدالت نے 2018 میں گرفتارکیے جانے والے کینیڈین
اگست
عمان کے ساحل کے قریب امریکی حملے میں بھارتی تیل بردار جہاز کے 3 ملاح ہلاک
?️ 11 جون 2026سچ خبریں:بھارت کے وزیر جہاز رانی نے ایک بیان میں عمان کے
جون