?️
لاہور: (سچ خبریں) فصلوں کے اعداد و شمار خصوصاً پنجاب میں پائے جانے والے تنازعات کو حل کرنے کی کوشش کے طور پر ایک نئے پروگرام کے تحت سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے کاشت کے درست اعداد و شمار حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کسی خاص فصل کی کل رقبہ بندی اور پیداوار کے ناقابلِ اعتماد اعداد و شمار ملک کے لیے ایک مستقل مسئلہ رہے ہیں۔
درست معلومات کی کمی کی وجہ سے اسٹیک ہولڈرز، بشمول سرکاری محکمے، قومی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے درآمد اور برآمد کی حکمتِ عملی تیار کرنے میں مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔
آئندہ سال شروع ہونے والے اس نئے سیٹلائٹ پر مبنی نظام کے ذریعے اس دیرینہ مسئلے کے حل کی توقع ہے۔
یہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کا منصوبہ ہے، جو چین اور ملک کے لینڈ انفارمیشن اینڈ مینجمنٹ سسٹم (ایل آئی ایم ایس) کے درمیان تعاون پر مبنی ہوگا، جو 2023 میں جدید ٹیکنالوجیز اور پائیدار زرعی طریقوں کے ذریعے زرعی پیداوار کو بہتر بنانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
یہ اقدام ممکنہ طور پر ایک بڑے تنازع کو ختم کرنے میں مدد دے گا، جو پنجاب کراپ رپورٹنگ سروس (سی آر ایس) کے طریقۂ کار سے متعلق ہے، جس پر صوبے کی کپاس کی پیداوار کے اعداد و شمار بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
تاہم سی آر ایس حکام کا کہنا ہے کہ کاٹن جنرز کم رسید ظاہر کرتے ہیں اور صرف وہی روئی گنتے ہیں جو فیکٹری کے دروازے تک پہنچتی ہے، بجائے اس کے کہ کھیتوں میں براہِ راست پیداوار کا تخمینہ لگایا جائے۔
ناقدین کا الزام ہے کہ سی آر ایس ایکڑ میں فی پودا بیلز کی تعداد کو بڑھا کر یا بعض اضلاع میں چھوٹے نمونہ جاتی پلاٹوں (آٹھ فٹ ضرب چھ فٹ) کی بنیاد پر حساب لگا کر مجموعی کپاس کی پیداوار کو فرضی اندازوں سے نکالتی ہے۔
اس وجہ سے پنجاب کے سی آر ایس اور پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کے درمیان طویل عرصے سے اعداد و شمار میں تضاد پایا جاتا ہے، جہاں سی آر ایس ہمیشہ زیادہ پیداوار رپورٹ کرتا ہے۔
یہ فرق کپاس کی صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کے لیے فیصلہ سازی کو مشکل بنا دیتا ہے۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سی آر ایس کے بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے اعداد و شمار کا تعلق کچھ جنرز کی غیر رجسٹرڈ فروخت سے ہے، لیکن دو متضاد قومی ڈیٹاسیٹس کی موجودگی نے بین الاقوامی کپاس فورمز میں پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔
مالی سال 2025 میں سی آر ایس نے کہا کہ پنجاب میں کپاس کی پیداوار 31 جولائی تک حاصل ہونے والے ڈیٹا کی بنیاد پر 6 لاکھ 9 ہزار گانٹھوں تک پہنچ گئی، اس کے برعکس پی سی جی اے نے صرف 3 لاکھ ایک ہزار گانٹھیں رپورٹ کیں، جو سرکاری اعداد و شمار کا نصف سے بھی کم ہے۔
سی آر ایس نے اپنے ڈیٹا کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعداد و شمار بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ، سائنسی طور پر ثابت شدہ طریقوں سے حاصل کیے گئے ہیں، جن میں رینڈم سیمپلنگ اور گراؤنڈ ٹرتھنگ تکنیک شامل ہیں، جو دنیا کے کئی ممالک میں استعمال ہوتی ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل سی آر ایس ڈاکٹر عبدالقیوم نے وضاحت کی کہ یہ سروس جی پی ایس سے لیس ٹولز اور ایف اے او کے توثیق شدہ طریقۂ کار استعمال کرتی ہے، جسے ایک ریئل ٹائم ڈیجیٹل ڈیش بورڈ سہارا دیتا ہے جو شفافیت کو یقینی بناتا ہے اور شواہد پر مبنی پالیسی فیصلوں میں مدد کرتا ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پی سی جی اے کے اعداد و شمار اس کی اصل پیداوار سے قطع نظر صرف اس کپاس کو ظاہر کرتے ہیں جو پنجاب کی چلتی ہوئی جننگ فیکٹریوں میں پہنچی ہے۔
پی سی جی اے کے اعداد و شمار اس کپاس کو شامل نہیں کرتے جو اب بھی کھیتوں میں موجود ہے، دوسرے صوبوں میں منتقل کی گئی ہے، یا ذخیرہ اندوزوں کے پاس رکھی گئی ہے۔
ان کا کہنا کہ حالیہ برسوں میں مستقل کم رسید ظاہر کرنے کی وجہ سے جننگ فیکٹریوں کے اعداد و شمار کی درستگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ قومی کپاس کی پیداوار کا سرکاری ریکارڈ فصل رپورٹنگ کے تخمینوں پر مبنی ہے جو تمام صوبوں سے مرتب کیے جاتے ہیں، لہٰذا ان کا پی سی جی اے کے 15 روزہ جننگ ڈیٹا سے موازنہ غیر منطقی ہے۔
ابہام سے بچنے کے لیے سی آر ایس کے اہلکار نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے کہا کہ وہ تمام چلتی ہوئی جننگ فیکٹریوں میں ایک ناقابلِ خطا نظام نافذ کرے، تاکہ موصول ہونے والی اور پروسیس ہونے والی کپاس کی درست اور بروقت رپورٹنگ کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام شفافیت میں اضافہ، ڈیٹا کی ساکھ کو مضبوط بنانے اور کپاس کی نگرانی و پالیسی سازی میں شامل اداروں کے درمیان ہم آہنگ کوششوں کے لیے ناگزیر ہے۔
اے پی ٹی ایم اے کا پی سی سی سی سنبھالنے کا عندیہ
ایک اور پیشرفت میں آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اے پی ٹی ایم اے) نے پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی (پی سی سی سی) کو اپنے انتظام میں لینے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
یہ اقدام ایک حالیہ اجلاس کے بعد سامنے آیا ہے، جو ڈپٹی وزیراعظم اسحٰق ڈار کی صدارت میں کپاس کی بحالی کے موضوع پر منعقد ہوا تھا، جس میں اے پی ٹی ایم اے اور پی سی سی سی کے درمیان اربوں روپے کے واجبات کے دیرینہ مسئلے کو حل کر لیا گیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی سی سی نے اس تجویز سے اتفاق کر لیا ہے۔
اگر یہ انتظامی تبدیلی ہو جاتی ہے تو اس سے ملک میں کپاس کی تحقیق کو تیز کرنے کی توقع ہے، جس کے نتیجے میں نئی، زیادہ پیداوار دینے والی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت رکھنے والی اقسام تیار ہو سکتی ہیں۔
کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق کے مطابق اس سے فی ایکڑ کپاس کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ادھر پاکستان کے بیشتر کپاس اگانے والے علاقوں میں حالیہ بارشوں کے باعث اعلیٰ معیار کی کپاس کی کمی پیدا ہو گئی، جس کی وجہ سے قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔
مقامی منڈیوں میں کپاس کی قیمت فی من 200 سے 300 روپے بڑھ کر 16 ہزار 400 سے 16 ہزار 600 روپے تک جا پہنچی۔
احسان الحق نے خبردار کیا کہ اگر پاکستانی روپے کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں مزید کم ہوئی تو کپاس کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔


مشہور خبریں۔
دل کا برقی نظام ڈیجیٹل شکل میں تیار کرنے میں کامیابی
?️ 26 ستمبر 2025سانتیاگو: (سچ خبریں) محققین نے پہلی بار انسانی دل کے برقی نظام
ستمبر
ہم خانہ جنگی کے دہانے پر ہیں:صیہونی سربراہ
?️ 14 فروری 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے سربراہ نے عدالتی اصلاحات کے میدان میں نیتن
فروری
سیلوان مومیکا کو سویڈن سے ڈی پورٹ کیا گیا
?️ 8 فروری 2024سچ خبریں:سویڈن کی امیگریشن عدالت نے سٹاک ہوم میں مقیم عراقی نژاد
فروری
شوال کا چاند نظر آگیا، ملک بھر میں عیدالفطر کل بروز ہفتہ منائی جائے گی
?️ 20 مارچ 2026لاہور (سچ خبریں) شوال المکرم 1447 ہجری کا چاند نظر آگیا، ملک
مارچ
فضل الرحمٰن کا فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے لاہور، کراچی، کوئٹہ میں ملین مارچ کا اعلان
?️ 23 اپریل 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل
اپریل
عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس قابل سماعت قرار دینے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم
?️ 4 اگست 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف
اگست
ایران اور امریکہ کے درمیان ابھی تک کوئی حتمی سمجھوتہ نہیں ہو سکا
?️ 30 مئی 2026 سچ خبریں:ابھی تک ایران اور امریکہ کے درمیان حتمی مفاہمت حاصل
مئی
دو اہم اداروں نے خیبر پختونخوا ٹرانسمیشن اینڈ گرڈ سسٹم کمپنی کے لائسنس کی مخالفت کی
?️ 25 جنوری 2021دو اہم اداروں نے خیبر پختونخوا ٹرانسمیشن اینڈ گرڈ سسٹم کمپنی کے
جنوری