عدت کے بغیر دوسرے نکاح پر لاہور ہایئکورٹ کا عجیب و غریب فیصلہ

لاہور کورٹ

?️

اسلام آباد(سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق مذکورہ فیصلہ ایک شہری کی دائر کردہ درخواست پر دیا گیا جس نے اپنی سابقہ زوجہ کے خلاف درخواست دائر کی تھی، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ اس کی سابقہ اہلیہ نے طلاق کے بعد عدت مکمل کیے بغیر شادی کی ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس علی ضیا باجوہ نے وضاحت دی کہ خاتون کا عدت کے بغیر شادی کرنا ’غیر فطری‘ ہے لیکن منع نہیں ہے، اس کیس میں عدت سے مراد وہ مدت ہے جو خاتون کو نکاح ٹوٹنے کے بعد گزارنی پڑتی ہے۔

درخواست گزار امیر بخش نے مظفر گڑھ کےجج کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس کے تحت اس کی سابقہ بیوی اور اس کے نئے شوہر کے خلاف فوجداری مقدمہ کے اندراج کی درخواست خارج کردی گئی تھی۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ مدعا علیہ آمنہ بی بی نے اس سے قانونی طور پر شادی کی تھی اور وہ اس کی قانونی بیوی ہونے کے ناطے اس کے گھر میں مقیم تھی، خاتون نے ناپاک ارادوں کے ساتھ، خفیہ طور پر شادی کو ختم کرنے کا دعویٰ دائر کیا تھا اور فیملی کورٹ نے اس کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔

درخواست گزار نے حکم نامے کو چیلنج کیا تھا جس کی درخواست ابھی متعلقہ فیملی کورٹ میں زیر التوا ہے۔درخواست گزار نے کہا کہ اس کی اہلیہ نے عدالت کے سابقہ حکم کے بعد دوسرے دن قرآن پاک میں بیان کردہ عدت کے احکامات کی پابندی کے بغیر محمد اسماعیل سے شادی کر لی۔

انہوں نے کہا کہ ان کی اہلیہ اور مدعا علیہ کا یہ فعل اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے اور یہ جرم (انفورسمنٹ آف حدود) آرڈیننس 1979 کے تحت زنا کے ارتکاب کے مترادف ہے، جو کہ قابلِ سزا جرم ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ فیملی کورٹ کے جج نے اپنے منصفانہ ذہن کو استعمال کیے بغیر اور کیس کے حقائق کو اس کے حقیقی تناظر میں جانچے بغیر ان کی درخواست کو مسترد کر دیا۔

اپنے فیصلے میں جسٹس باجوہ نے مشاہدہ کیا کہ صحیح نکاح وہ ہے جو ہر قسم کے نقائص اور کمزوریوں سے پاک ہو اور شریعت کے تقاضوں کے عین مطابق ہو۔ایک جائز نکاح کے لیے ضروری ہے کہ ایسی کوئی قانونی ممانعت نہ ہو جس سے فریقین کی شادی کی متاثر ہو، نکاح کی دو اقسام ہیں جو فاسد اور باطل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’فاسد نکاح وہ ہے جہاں اس طرح کی شادی کے جواز میں رکاوٹ عارضی ہوتی ہے، جبکہ باطل شادی کی صورت میں ایسی رکاوٹ مستقل ہوتی ہے۔

مشہور خبریں۔

ریاض اور صیہونی حکومت کے تعلقات کا فلسطینی ریاست کی تشکیل پر کوئی اثر نہیں

?️ 2 اکتوبر 2023سچ خبریں:عبدالرحمن الراشد نے بتایا کہ سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ

دشمن میڈیا اور مزاحمتی محاذ کے خلاف نفسیاتی جنگ؛ طریقے اور نتائج  

?️ 5 اپریل 2025 سچ خبریں:عراقی سیاسی تجزیہ نگار نجاح محمد علی نے دشمن میڈیا

غزہ کی پٹی میں تمام صحت مراکز تباہ

?️ 25 جنوری 2025سچ خبریں: غزہ کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ قابض

ایران کی جانب سے یمن کے لیے جنگ بندی اور امن کے اقدام کی حمایت

?️ 24 جولائی 2022سچ خبریں:  اٹلی وزارت خارجہ برائے یمن اور افغانستان کے خصوصی نمائندے

ہمارے پاس یمن کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے :صیہونی

?️ 22 دسمبر 2024سچ خبریں: یمن کی جانب سے کل صبح تل ابیب پر کامیاب

امریکی محکمہ انصاف کی کولمبیا یونیورسٹی کے مظاہروں میں مداخلت  

?️ 16 مارچ 2025 سچ خبریں:غزہ جنگ کے خلاف طلبہ کے احتجاجی مظاہروں پر امریکی

غزہ میں جاری نسل کُشی کے دوران اسرائیل نے برطانوی فوجیوں کو تربیت دی

?️ 29 نومبر 2025 غزہ میں جاری نسل کُشی کے دوران اسرائیل نے برطانوی فوجیوں

دنیا بھر میں امریکہ کی بڑھتی مخالف ؛ امریکی میگزین کی زبانی

?️ 23 جنوری 2024سچ خبریں: سینئر امریکی صحافی اور تجزیہ نگار رچرڈ اسٹنگل نے غزہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے