?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل سے متعلق کیس،وفاقی حکومت نے درخواستوں کیخلاف 8 صفحات پر مشتمل جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کیخلاف درخواستیں مسترد کرنے کی استدعا کر دی ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا کہ قانون کیخلاف درخواستیں انصاف کے حصول کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش ہے،درخواست گزاروں کی قانون کو چیلنج کرنے کی نیت صاف نہیں،پارلیمنٹ کے قانون سازی کے اختیار پر کوئی قدغن نہیں۔
جواب میں کہا گیا کہ ماسٹر آف روسٹر کے تصور کو قانونی تحفظ حاصل نہیں،قانون سے چیف جسٹس کا آرٹیکل 184 تھری کا اختیار ریگولیٹ ہو گا،قانون میں آرٹیکل 184 تھری کے اختیار میں اپیل کا حق دیا گیا ہے۔قانون سے عدلیہ کے اختیارات میں کمی نہیں ہو گی،آرٹیکل 184 تھری میں نظر ثانی کا اختیار بڑا محدود ہے،فیئر ٹرائل کے لیے اپیل کا حق ضروری ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے سیاسی جماعتوں اور وکلا تنظیموں سے 8 مئی تک جواب طلب کررکھا ہے،سپریم کورٹ نے قائمہ کمیٹی میں ہونے والی بحث اور ایکٹ پر پارلیمانی کارروائی کا ریکارڈ بھی طلب کیا۔
جواب میں کہا گیا کہ ماسٹر آف روسٹر کے تصور کو قانونی تحفظ حاصل نہیں،قانون سے چیف جسٹس کا آرٹیکل 184 تھری کا اختیار ریگولیٹ ہو گا،قانون میں آرٹیکل 184 تھری کے اختیار میں اپیل کا حق دیا گیا ہے۔قانون سے عدلیہ کے اختیارات میں کمی نہیں ہو گی،آرٹیکل 184 تھری میں نظر ثانی کا اختیار بڑا محدود ہے،فیئر ٹرائل کے لیے اپیل کا حق ضروری ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے سیاسی جماعتوں اور وکلا تنظیموں سے 8 مئی تک جواب طلب کررکھا ہے،سپریم کورٹ نے قائمہ کمیٹی میں ہونے والی بحث اور ایکٹ پر پارلیمانی کارروائی کا ریکارڈ بھی طلب کیا۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ قانون سازی کے اختیارات سے متعلق وفاقی فہرست کی کچھ حدود و قیود بھی ہیں،وفاقی قانون سازی لسٹ کے سیکشن 55 کا بھی جائزہ لیں،یہ حقیقت تبدیل نہیں ہو سکتی ہے کہ آزاد عدلیہ آئین کا بنیادی جز ہے۔ گزشتہ حکم نامہ عبوری نوعیت کا تھا،جمہوریت آئین کے اہم خدوخال میں سے ہے،آزاد عدلیہ اور وفاق بھی آئین کے اہم خدوخال میں سے ہیں۔چیف جسٹس نے قرار دیا کہ دیکھنا ہے عدلیہ کا جزو تبدیل ہوسکتا ہے،عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے یہ مقدمہ منفرد نوعیت کا ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
غزہ میں اسرائیل دانستہ طو رپر جنگ بندی کو سبوتاژ کرہا ہے: حماس
?️ 24 فروری 2026غزہ میں اسرائیل دانستہ طو رپر جنگ بندی کو سبوتاژ کرہا ہے:
فروری
جو بائیڈن کو پیچھے دھکیلنے کے لیے امریکہ میں صیہونی منصوبہ
?️ 29 اکتوبر 2021سچ خبریں: ٹرمپ سنچری ڈیل ایک خالصتاً صہیونی منصوبہ تھا جسے ریاستہائے
اکتوبر
بحری ناکہ بندی اور دھمکیوں کے باوجود مذاکرات ناقابل قبول کیوں؟
?️ 24 اپریل 2026 سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ رویوں میں ایران کے
اپریل
اردوغان اور حزب اختلاف ترکی کے علوی سے حمایت چاہتے ہیں
?️ 17 اگست 2025سچ خبریں: ترک صدر کی درخواست پر ملک کے علویوں کی حمایت
اگست
ایران سعودی عرب تعلقات کے بارے میں شامی صدر کا اظہار خیال
?️ 2 اکتوبر 2023سچ خبریں: شام کے صدر نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان
اکتوبر
سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع دینے کا فیصلہ غلط تھا، اسد قیصر
?️ 3 دسمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پی
دسمبر
یورپ کی سخت سردی میں ہلاکتوں کی تعداد یوکرین کی جنگ سے زیادہ ہوگی:دی اکانومسٹ
?️ 27 نومبر 2022سچ خبریں:ایک نئے تجزیے کے مطابق اس موسم سرما میں یوکرین کی
نومبر
مغربی ممالک کو ہمارے ساتھ احترام سے پیش آنا چاہیے:پیوٹن
?️ 27 ستمبر 2022سچ خبریں:روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے پیر کو سوچی میں اپنے
ستمبر