عام انتخابات کی تاریخ میں کسی قسم کی تاخیر نہ کی جائے، پیپلز پارٹی

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ آئین کے مطابق عام انتخابات کی تاریخ میں کسی قسم کی تاخیر نہ کی جائے اور آزادانہ اور منصفانہ عام انتخابات کے لیے تمام اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی دن کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کور کمیٹی کا اجلاس جمعہ کی شام زرداری ہاﺅس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس کی صدارت مشترکہ طور پر پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے کی۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا کہ سیکریٹری جنرل فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مذاکرات کے دروازے بند کرنا کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ اتحادی حکومت میں شامل تمام پارٹیوں سے رابطہ کرکے سیاسی پارٹیوں میں مذاکرات کے نکتے پر ایک مشترکہ پوزیشن اختیار کی جائے۔

بیان میں کہا گیا کہ پارٹی نے کہا کہ موجودہ بحران کی متعدد وجوہات ہیں جن میں سے ایک اس بات پر اسرار ہے کہ عدالت کا اقلیتی فیصلہ اکثریتی فیصلے پر فوقیت حاصل کر لے، اس موقف کا قانونی، اخلاقی اور سیاسی طور پر کوئی جواز نہیں اور اس پر نظرثانی کی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات اشد ضروری ہے کہ عدلیہ کی ساکھ اور عزت کو زک پہنچانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے، اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ عدلیہ کے متضاد فیصلوں کے مسئلے کو فوری طور پر حل کیا جائے۔

اس حوالے سے کہا گیا کہ پارٹی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ آئین کے مطابق آزادانہ اور منصفانہ عام انتخابات کے لیے تمام اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی دن کرائے جائیں۔

پارٹی نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ آئین کے مطابق عام انتخابات کی تاریخ میں کسی قسم کی تاخیر نہ کی جائے۔

اس اجلاس میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، سید نیر حسین بخاری، نوید قمر، رضا ربانی، قمر زمان کائرہ، شیری رحمٰن، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، شازیہ عطا مری، نثار کھوڑو، محمد علی شاہ باچا، ہمایوں خان، فیصل کریم کنڈی، اخونزادہ چٹان اور فرحت اللہ بابر نے شرکت کی۔

واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے یہ اعلان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب چیئرمین تحریک انصاف عمران خان مسلسل انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کررہے ہیں جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ان کا یہ مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ عام انتخابات بہرحال اس سال کے آخر میں ہی ہوں گے۔

عمران خان کا مطالبہ ہے کہ جنوری میں تحلیل کی گئی پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات آئینی مدت کے تحت 90 روز کے اندر منعقد کرائے جائیں لیکن حکومت تمام ملک میں ایک ہی ساتھ انتخابات کی خواہاں ہے۔

حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سال دو صوبوں میں الیکشن کی حفاظت سے حکومتی سیکیورٹی ایجنسیوں پر بہت زیادہ دباؤ پڑے گا کیونکہ وہ سرحدوں کے ساتھ ساتھ ملک میں دوبارہ سر اٹھانے والے خطرے سے نمٹنے میں بھی مصروف ہے۔

یہ صورتحال اس وقت ڈرامائی شکل اختیار کر گئی تھی جب سپریم کورٹ نے ان دونوں صوبائی اسمبلیوں کے لیے قبل از وقت انتخابات کا حکم دیا تھا لیکن حکومت نے عدالتی حکم کو مسترد کر دیا تھا۔

تاہم سپریم کورٹ نے اس معاملے پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے حکومت اور الیکشن کمیشن کو صوبہ پنجاب میں 14مئی کو انتخابات کے انعقاد کا حکم دیا ہے۔

مشہور خبریں۔

ایران کا صیہونی حکومت کو سبق سکھانے کے بارے میں پینٹاگون نے کیا کہا؟

?️ 18 اپریل 2024سچ خبریں: امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے ترجمان پیٹرک رائڈر نے اسرائیل

تونس کی پارلیمنٹ میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات برقرار کرنے کے بارے میں اہم بل پیش کردیا گیا

?️ 8 جون 2021تونس (سچ خبریں)   تونس کی پارلیمنٹ میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات برقرار

پاکستانی وزیر خارجہ کی نیٹو سیکرٹری جنرل سے خطے کی سلامتی اور عالمی امور پر گفتگو

?️ 21 نومبر 2025 پاکستانی وزیر خارجہ کی نیٹو سیکرٹری جنرل سے خطے کی سلامتی

یمن میں سعودی اتحاد کے جنگجوؤں نے ایک سینئر کمانڈر کو ہلاک کیا

?️ 23 دسمبر 2021سچ خبریں: یمنی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ منصور ہادی کی

حماس کی اپنی فوجی طاقت کا بڑا حصہ برقرار ہے؛ صیہونی سکیورٹی جائزہ

?️ 16 جولائی 2026سچ خبریں:صیہونی نشریاتی ادارے نے سکیورٹی اداروں کے جائزے کے حوالے سے

سیف علی خان کی جان بچانے والے رکشا ڈرائیور کو بطور انعام کتنی رقم ملی؟

?️ 23 جنوری 2025سچ خبریں: بولی وڈ اداکار سیف علی خان نے بروقت ہسپتال پہنچانے

متحدہ عرب امارات کے قومی سلامتی مشیر کی امیر قطر سے ملاقات

?️ 28 جون 2022سچ خبریں:   قطر کے امیر تمیم بن حمد الثانی نے آج منگل

غیرفعال جی میل اکاؤنٹس دو دن بعد ختم کردیے جائیں گے

?️ 29 نومبر 2023سچ خبریں: ای میل کے لیے گوگل کی جی میل کا استعمال

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے