عالمی اداروں کو بھارت میں مسلمانوں پر ہورے ظلم کے خلاف بولنا ہوگا

?️

اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مودی حکومت خطے کے ’امن کے لیے ایک حقیقی اور موجودہ خطرہ‘ ہے جبکہ بھارت میں تمام اقلیتیں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سرپرستی میں کام کرنے والے انتہا پسند گروپوں کے نشانے پر ہیں۔گزشتہ ماہ بھارت میں کئی انتہائی دائیں بازو کے گروہوں کے رہنماؤں نے ملک میں اقلیتوں کی نسلی کشی کا اعلان کیا تھا جس کا خاص طور پر نشانہ ملک کی 20 کروڑ مسلمان آبادی تھی۔

دی کوئنٹ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ہندوتوا کے رہنما یاتی نرسنگھانند نے 17 سے 19 دسمبر تک اتراکھنڈ کے یاتری شہر ہریدوار میں نفرت انگیز تقاریر سے بھرپور اجتماع کا اہتمام کیا تھا، جہاں اقلیتوں کا قتل کرنے اور ان کے مذہبی مقامات پر حملہ کرنے کی جانب اکسایا گیا تھا۔

وزیر اعظم عمران نے آج ایک سلسلہ وار ٹوئٹس میں مودی کو ان کی ’مسلسل خاموشی‘ اور انتہا پسند ہندوتوا گروپوں کے خلاف بے عملی پر تنقید کا نشانہ بنایا جو ملک میں اقلیتوں کی نسل کشی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی اقلیتوں کے خلاف اشتعال انگیزی کے پیچھے حکمران بی جے پی حکومت کا ’انتہا پسند نظریہ‘ ہے۔انہوں نے کہا کہ ’بھارتیہ جنتا پارٹی کی مودی سرکار کے شدت پسندانہ نظریے کے سائے میں ہندوتوا جتھے پوری ڈھٹائی اور آزادی سے بھارت میں تمام مذہبی اقلیتوں پر حملہ آور ہیں‘۔

وزیر اعظم نے مودی حکومت کی مسلسل خاموشی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بی جے پی حکومت اقلیتوں کے خلاف انتہا پسندوں کی ترغیب کی حامی ہے۔انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف انتہاپسندوں کی ان اپیلوں کا نوٹس لے اور اس کے خلاف کارروائی کرے۔

اکتوبر میں دی پرنٹ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق، ہندو رہنما نرسنگھ نند پر کئی مواقع پر مسلم کمیونٹی کے خلاف فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے کا الزام لگایا گیا ہے۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ہندو رکشا سینا کے صدر سوامی پربودھانند گیری نے کہا کہ ’میانمار کی طرح، ہماری پولیس، ہمارے سیاست دان، ہماری فوج اور ہر ہندو کو ہتھیار اٹھانا ہوں گے اور صفائی ابھیان (نسل کشی ) کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا ہے۔‘سیاسی جماعت ہندو مہاسبھا کی جنرل سکریٹری سادھوی اناپورنا نے بھی ہتھیاروں اور نسل کشی پر اکسانے کی ترغیب دی تھی۔

دی وائر نے ان کی تقریر کا حوالہ دیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہتھیاروں کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں، اگر تم ان کی آبادی کو ختم کرنا چاہتے ہو تو انہیں مار دو، مارنے کے لیے تیار ہو جاؤ اور جیل جانے کے لیے تیار رہو، یہاں تک کہ اگر ہم میں سے 100 لوگ بھی ان میں سے 20 لاکھ (مسلمانوں) کو مارنے کے لیے تیار ہو جائیں، تب بھی ہم جیت جائیں گے اور جیل جائیں گے۔‘

رپورٹ کے مطابق مذہبی رہنما سوامی آنندسوروپ نے ایک مثال دی کہ سڑک پر مسلمان دکانداروں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ’میں جس گلی میں رہتا ہوں وہاں ہر صبح مجھے ایک ملا نظر آتا تھا جس کی داڑھی ہے اور آج کل وہ زعفرانی داڑھی رکھتا ہے۔ یہ ہریدوار ہے مہاراج، یہاں کوئی مسلمان خریدار نہیں ہے، اس لیے اس شخص کو اٹھا کر باہر پھینک دو۔‘

دی وائر نے لکھا کہ اس تین روزہ سربراہی اجلاس میں حکمران جماعت کی طرف سے سیاسی حوصلہ افزائی کے لیے بی جے پی رہنما اشونی اپادھیائے اور بی جے پی مہیلا مورچہ کی رہنما ادیتا تیاگی نے بھی شرکت کی۔

تاہم انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئےاشونی اپادھیائے نے کہا ’یہ تین روزہ پروگرام تھا اور میں وہاں ایک دن کے لیے گیا تھا، اس دوران میں تقریباً 30 منٹ تک اسٹیج پر رہا اور آئین کے بارے میں بات کی، اس سے پہلے اور بعد میں دوسروں نے کیا کہا، میں اس کا ذمہ دار نہیں ہوں۔‘

مشہور خبریں۔

زیادہ ترفرانسیسی میکرون کے پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے کے خالف 

?️ 25 اپریل 2022سچ خبریں:  ایک نئے سروے سے پتہ چلتا ہے کہ 60 فیصد

نیتن یاہو کو خطے کی سلامتی میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں

?️ 13 مارچ 2024سچ خبریں:اردنی وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے بدھ کے روز کہا کہ

عارضی جنگ بندی اور بنیامین نیتن یاہو کا غیر یقینی سیاسی مستقبل 

?️ 8 اپریل 2026سچ خبریں:ایران کے ساتھ جنگ کے بعد اعلان کردہ عارضی جنگ بندی

بن زائد کی نیتن یاہو کو عجیب پیشکش

?️ 14 مئی 2021سچ خبریں:برسلز میں یوروپی انسٹی ٹیوٹ آف یورپی لاء اینڈ انٹرنیشنل ریلیشنس

ٹرمپ کی ثالثی کی تجویز نے امن کا دروازہ کھولا، بھارت کا انکار جنگی ذہنیت کا ثبوت ہے، محسن نقوی

?️ 13 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے

استقامتی محاذ کے نشانے پر سب سے حساس صیہونی مراکز

?️ 29 نومبر 2022سچ خبریں:مزاحمتی ذرائع ابلاغ میں ایسی متعدد رپورٹیں شائع ہوئی ہیں جن

خداکا واسطہ مخلوط حکومت کانام نہ لیں، ایک جماعت کو پورامینڈیٹ ملنا ضروری ہے، نوازشریف

?️ 8 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے