صدر زرداری کی جانب سے متنازع 6 نہروں کی اصولی منظوری دیے جانے کا انکشاف

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے دریائے سندھ سے نکالی جانے والی متنازع اسٹریٹجک نہروں کی اصولی منظوری دیے جانےکا انکشاف ہوا ہے۔

ڈان نیوز نے 8 جولائی 2024کوصدرمملکت کی زیرصدارت ہونے و الے اجلاس کے منٹس حاصل کرلیے۔

پاکستان پیپلز پارٹی دریائے سندھ سے نئی نہریں نکالے جانے کے معاملے پر مسلسل تحفظات کا اظہار اور احتجاج کررہی ہے، تاہم دوسری طرف صدر مملکت آصف علی زرداری نے تمام اسٹریٹجک نہروں پر بیک وقت عمل درآمد کی اصولی منظوری دی۔

8 جولائی 2024 کو صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس کے منٹس کے مطابق آصف علی زرداری کی زیرصدارت ایوان صدر میں گرین پاکستان انشیٹیو پر اجلاس ہوا تھا۔

دوران اجلاس صدر مملکت کو 6 اسٹریٹجک نہروں کی اہمیت پر بریفنگ دی گئی تھی اور ان نہروں کی بیک وقت تعمیر کی ضرورت پر بریف کیا گیا تھا۔

صدر مملکت کو بریف کیا گیا تھا کہ یہ نہریں گرین پاکستان انیشیٹیو کےتحت اہم حصہ ہیں اور ان نہروں کی تعمیر کو ملکی فوڈ سیکیورٹی بڑھانے اور زرعی ترقی کےلیے ضروری قرار دیا گیا تھا۔

اسٹریٹجک اہمیت کی حامل 6 نہروں میں تھر کینال، رینی کینال، چولستان کینال، گریٹر تھر کینال، کچھی کینال اور چشمہ رائٹ بینک کینال شامل ہیں۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے تمام اسٹریٹجک نہروں کی تعمیر پر بیک وقت عمل درآمد کی اصولی منظوری دیتے ہوئے نہروں کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مسلسل فنڈنگ پر زور دیا تھا۔

یاد رہے کہ 10 مارچ 2025 کو صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ کچھ یک طرفہ پالیسیاں وفاق پر شدید دباؤ کا باعث بن رہی ہیں، بطور صدر دریائے سندھ سے مزید نہریں نکالنے کے یک طرفہ حکومتی فیصلے کی حمایت نہیں کرسکتا۔

پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں صدر آصف زرداری نے کہا تھا کہ حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس موجودہ تجویز کو ترک کردے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کیا جائے تاکہ وفاق کی اکائیوں کے درمیان متفقہ اتفاق رائے کی بنیاد پر قابل عمل، پائیدار حل نکالا جاسکے۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے دریائے سندھ پر 6 کینالوں کے منصوبے کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے اور 25 مارچ کو سندھ بھر کے تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں احتجاج کا اعلان کیا تھا۔

25 مارچ کو کینالز کی تعمیر کے خلاف پیپلز پارٹی کی جانب سے سندھ کے مختلف شہروں میں مظاہرے کیے گئے تھے، احتجاج کے دوران گھوٹکی، تھرپارکر، شکارپور سمیت دیگر شہروں میں وفاقی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی گئی تھی۔

مشہور خبریں۔

معاہدے کے بعد ایران اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کی دوسری ملاقات

?️ 3 جون 2023سچ خبریں:حسین امیرعبداللہیان اور فیصل بن فرحان، جو کہ برکس فرینڈز سمٹ

رقم ادا کرنا اور زمین دینا؛ غزہ میں اسرائیلی فوج کے لیے کرائے کے فوجیوں کا انعام

?️ 18 ستمبر 2025سچ خبریں:  ہآرتض اخبار نے اسرائیلی فوجی افسران کے حوالے سے خبر

آئی ایم ایف مذاکرات: پاکستان نے ایس آئی ایف سی کے آپریشنز میں شفافیت کی یقین دہانی کرادی

?️ 15 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان نئے

تل ابیب کا جنوبی لبنان سے دستبردار نہ ہونے کا بہانہ

?️ 4 جنوری 2025سچ خبریں: آج اعلان کیا گیا ہےکہ تل ابیب سے توقع ہے کہ

ایران کے خلاف پابندیوں کا الٹا اثر

?️ 1 جولائی 2022سچ خبریں:ایرانی پارلیمانی وفد کے ساتھ ملاقات کے دوران روسی فیڈریشن کونسل

غزہ میں صیہونی جرائم کے تازہ ترین اعدادوشمار

?️ 24 نومبر 2023سچ خبریں:غزہ میں حماس کی اطلاعاتی ایجنسی فطرکے مطابق صیہونی حکومت نے

اگست میں پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کا امکان

?️ 29 جولائی 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) ملک میں یکم اگست سے پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا ہونے کا

ایرانی میزائل آئرن ڈوم پار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں: امریکی سینیٹر

?️ 22 دسمبر 2025سچ خبریں:  امریکی سینیٹر لنڈسی گراہم نے اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کو انٹرویو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے