سیکیورٹی خدشات کے شکار علاقوں میں انتخابات ملتوی کیے جا سکتے ہیں، رہنما پیپلزپارٹی کی تجویز

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) سابق وفاقی وزیر و رہنما پیپلزپارٹی عبدالقادر بلوچ نے سیکیورٹی خدشات کے شکار علاقوں میں انتخابات ملتوی کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان حلقوں میں بعد میں ضمنی انتخابات کرائے جا سکتے ہیں۔

ڈان نیوز کے پروگرام ’دوسرا رخ‘ میں انٹرویو کے دوران عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ انتخابات مکمل طور پر ملتوی کرنے کے بجائے حساس علاقوں میں انتخابات مؤخر کرنا زیادہ مناسب ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ 6 یا 7 نشستوں پر سیکیورٹی خدشات کے باعث پورے ملک میں انتخابات نہ کرواکے جمہوریت کو ڈی ریل کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی طرح بلوچستان کو بھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے خطرہ ہے۔

عبدالقادر بلوچ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں کالعدم ٹی ٹی پی کے حملے بلوچ علیحدگی پسندوں کے حملوں سے کہیں زیادہ ہیں، قلات، مستونگ اور گردونواح کے علاقوں کو اکثر کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطرات تو واقعی موجود ہیں، علیحدگی پسند عناصر پارلیمانی سیاست پر یقین نہیں رکھتے، یہ عناصر صوبے میں انتخابی مہم میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔

رہنما پیپلزپارٹی نے مزید کہا کہ نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کو میڈیا پر آکر مولانا فضل الرحمٰن کو درپیش سیکیورٹی خدشات کا ذکر نہیں کرنا چاہیے تھا، اس کے بجائے وہ اُن سے براہ راست اس بارے میں بات کر لیتے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو خطرات کا ادراک کرتے ہوئے ملک میں سیاستدانوں کے تحفظ کے لیے کارروائی کرنی چاہیے اور اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ الیکشن کمیشن اور صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آئندہ برس 8 فروری 2024 کو انتخابات کی تاریخ پر اتفاق کیا تھا، اس پیش رفت کے سبب بیشتر سیاسی جماعتوں نے اپنی انتخابی سرگرمیاں تیز کردیں۔

تاہم گورنر خیبرپختونخوا غلام علی نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا تھا کہ امن و امان کی مخدوش صورتحال کے باعث خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے کچھ علاقوں میں سیاسی سرگرمیاں مشکل ہے۔

اسی طرح سربراہ جے یو آئی (ف) فضل الرحمٰن نے بھی امن و امان کی ناقص صورتحال کے دوران انتخابات کے انعقاد پر سوالات اٹھائے ہیں۔

2 روز قبل نگران وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی نے واضح کیا تھا کہ پُرامن عام انتخابات کا انعقاد یقینی بنانے کے لیے حکومت پوری طرح تیار ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ انہوں نے اعتراف کیا کہ فروری میں عام انتخابات سے قبل سیاسی رہنماؤں کو دہشت گردی کے خطرات درپیش ہیں۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے سیاسی رہنماؤں، بالخصوص مولانا فضل الرحمٰن کے حوالے سے تھریٹ الرٹ کا ذکر کیا تھا۔

مشہور خبریں۔

دنیا میں بھوک کے بحران کی سنگینی

?️ 21 ستمبر 2022سچ خبریں:    200 سے زائد غیر سرکاری تنظیموں نے عالمی رہنماؤں

ایران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کے دو ریاستی حل کی حمایت پر ہونے والی ووٹنگ میں کیوں غیر حاضر تھا؟

?️ 13 ستمبر 2025ایران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کے دو ریاستی حل

جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثوں کی کوششوں کا جائزہ لے رہے ہیں: قطر

?️ 29 اپریل 2026 سچ خبریں: قطر کی اقوام متحدہ میں نمائندے، علیاء بنت احمد بن

ایران کے خلاف حالیہ جنگ کے اثرات پر عالمی ذرائع ابلاغ کی مختلف آراء

?️ 12 جولائی 2026سچ خبریں:ایران کے خلاف حالیہ جنگ کے بعد عالمی ذرائع ابلاغ نے

معاریو: اسرائیل شام کے ساتھ پس پردہ مذاکرات کر رہا ہے

?️ 4 دسمبر 2025سچ خبریں: معاریو اخبار نے اعلان کیا کہ کنیسٹ میں ہونے والی

چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کیلئے کمیٹی کے قیام کی قرارداد منظور

?️ 15 مئی 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) قومی اسمبلی کے اجلاس میں چیف جسٹس سمیت

ایران کی کوششوں کے بعد توسکا جہاز کے 6 ایرانی عملے کے ارکان رہا 

?️ 30 اپریل 2026 سچ خبریں:دہشت گرد امریکی حکومت نے کچھ عرصہ قبل ایک کھلی

آسٹرا زینیکا ویکسین کی پہلی کھیپ پاکستان پہنچ گئی

?️ 8 مئی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) کوویکس کی فراہم کردہ مفت کورونا ویکسین کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے