سینیٹ اجلاس: فوجی عدالتوں کے حق میں قرارداد کے خلاف سینیٹرز کا احتجاج

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) ملک کی مرکزی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز  نے فوجی عدالتوں کی حمایت میں متنازع قرارداد کی منظوری کے خلاف گزشتہ روز شدید احتجاج ریکارڈ کرایا اور قرارداد فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سینیٹرز کے شدید احتجاج اور کورم پورا نہ ہونے کے باعث ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی نے اجلاس کی کارروائی چند لمحوں میں ہی ملتوی کر دی۔

اجلاس کے آغاز میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سعدیہ عباسی نے ایجنڈے کے برخلاف قرارداد کی عجلت میں منظوری کی مذمت کی، انہوں نے کہا کہ یہ قرارداد ایسے وقت میں پاس کی گئی جب ایوان میں صرف ایک درجن سینیٹرز موجود تھے۔

سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ ہم قرارداد کی کسی صورت توثیق نہیں کرتے، ہم فوجی عدالتیں فعال ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے اور نہ ہی ہم ان کی حمایت کرتے ہیں، سپریم کورٹ نے جو بھی فیصلہ کیا ہے، عوام کے وسیع تر مفاد میں کیا ہے۔

وہ یہ بات پیر (13 نومبر) کو سینیٹ میں منظور کی گئی اس قرارداد کے حوالے سے کہہ رہی تھیں جس میں سپریم کورٹ کے 23 اکتوبر کے اُس فیصلے کو مسترد کیا گیا تھا جس کے مطابق 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث شہریوں کے فوجی ٹرائل کو ’غیر آئینی‘ قرار دیا گیا تھا۔

2 صفحات پر مشتمل یہ قرارداد آزاد سینیٹر دلاور خان نے پیش کی تھی اور اس کی حمایت صرف بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کے سینیٹرز نے کی تھی۔

قرارداد میں سپریم کورٹ کے 23 اکتوبر کے فیصلے کو ’قانون کو دوبارہ لکھنے کی کوشش‘ اور ’پارلیمنٹ کے قانون سازی کے اختیار سے ٹکراؤ کے مترادف قرار دیا گیا تھا اور سپریم کورٹ سے اس پر دوبارہ غور کرنے کا کہا گیا تھا۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اجلاس ملتوی کرنے سے چند منٹ قبل کسی بحث کے بغیر قرارداد پیش کرنے کی اجازت دی جبکہ اس وقت ایوان میں صرف ایک درجن ارکان موجود تھے۔

صرف پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی اور جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے قرارداد کی عجلت میں منظوری کے خلاف احتجاج کیا تھا لیکن صادق سنجرانی نے ان کے احتجاج کو نظر انداز کر دیا۔

سینیٹر سعدیہ عباسی کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے جو سرکاری طور پر 9 مئی کے واقعات کے تناظر میں عام شہریوں کے فوجی ٹرائل کی حمایت کرتی ہے، تاہم سعدیہ عباسی نے اعلان کیا کہ سینیٹ کی مذکورہ قرارداد سینیٹ کے ارکان کی اکثریت کے نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم فوجی عدالتوں کی حمایت نہیں کر سکتے، کل کو سینیٹ میں کوئی ایسی قرارداد بھی پیش کی جا سکتی ہے جس میں ملک میں مارشل لا لگانے کا مطالبہ کیا جائے۔

انہوں نے قرار داد کی منظوری میں دکھائی دینے والی جلد بازی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس قرارداد کو واپس لیں جو اراکین کی امنگوں کی عکاسی نہیں کرتی، انہوں نے اس عمل کو جمہوری اصولوں کی نفی اور پارلیمانی روایات کے خلاف قرار دیا اور ڈپٹی چیئرمین سے کہا کہ وہ ایجنڈے سے ہٹ کر انہیں اس متنازع قرارداد پر بحث کرنے کی اجازت دیں۔

سینیٹر سعدیہ عباسی سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی بہن ہیں، پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی، جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد اور نیشنل پارٹی (این پی) کے طاہر بزنجو نے سینیٹر سعدیہ عباسی کی حمیات کی، اِن سینیٹرز نے اُس وقت احتجاج کیا جب ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد نے انہیں اس معاملے پر مزید بحث کرنے سے انکار کردیا۔

سینیٹر مشتاق احمد نے ڈپٹی چیئرمین کے ڈائس کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے ان سے کہا کہ وہ اس معاملے پر بولنے کی اجازت دیں، تاہم ڈپٹی چیئرمین نے زور دیا کیا کہ وہ ایجنڈے پر کارروائی پوری ہونے کے بعد ہی اس مسئلے پر بات کرنے کی اجازت دیں گے۔

سینیٹرز کا احتجاج جاری تھا، اس دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی کی، دریں اثنا ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس جمعہ کی صبح تک ملتوی کر دیا۔

خیال رہے کہ کورم پورا ہونے کے لیے 100 رکنی ایوان میں ایک چوتھائی اراکین (26 اراکین) کی موجودگی ضروری ہوتی ہے، گزشتہ روز کورم کی نشاندہی کے وقت ایوان میں صرف 15 سینیٹرز موجود تھے۔

دریں اثنا پیپلز پارٹی کے بہرام تنگی کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے تحریری جواب میں سینیٹ کو آگاہ کیا گیا کہ صدر سیکرٹریٹ نے گزشتہ 5 برس کے دوران ایک ارب 80 کروڑ روپے کے اخراجات کیے ہیں۔

مشہور خبریں۔

اکیاسی فیصد امریکی ریاستہائے متحدہ میں زندگی سے غیر مطمئن

?️ 4 فروری 2022سچ خبریں:ریاستہائے متحدہ میں کیے گئے تازہ ترین سروے کے مطابق، ریاستہائے

8فروری کو انتخابات میں بدترین دھاندلی کی گئی، یہ تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے

?️ 9 فروری 2025مردان: (سچ خبریں) سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمان نے

بائیڈن حکومت عراق اور شام میں داعش کی بحالی کا ارادہ رکھتی ہے: شامی پارلیمنٹ کے ممبر

?️ 6 فروری 2021سچ خبریں:شام کے رکن پارلیمنٹ نے عراق اور شام میں داعشی دہشت

عمران خان کی ’موجودہ بحرانوں‘ کے درمیان وزیر اعظم، وزیر خارجہ کے غیر ملکی دوروں پر کڑی تنقید

?️ 7 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیراعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان

ایران کے مرحوم وزیر خارجہ فلسطینی عوام کے لیے کیا تھے؟عراقی ساسی شخصیت کی زبانی

?️ 29 مئی 2024سچ خبریں: عراقی عراقی سپریم اسلامی اسمبلی کے ترجمان نے شہید امیرعبداللہیان

سیاسی جماعتوں کا انتخابات کی تاریخ کے اعلان کا خیرمقدم

?️ 3 نومبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں نے عام انتخابات کی

اگر شادی ہو چکی ہوتی تو تین چار بچوں کا باپ ہوتا،عثمان خالد بٹ

?️ 4 اپریل 2024کراچی: (سچ خبریں) مقبول اداکار عثمان خالد بٹ نے کہا ہے کہ

ٹرمپ کی پیوٹن کو غزہ امن کونسل میں شمولیت کی دعوت

?️ 19 جنوری 2026سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو غزہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے