سیلاب کے پانی میں کمی، سندھ میں 98 فیصد رقبہ گندم کی فصل کی کاشت کیلئے تیار

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سندھ کے جن علاقوں میں سیلابی پانی کی سطح میں کمی آئی ہے وہاں کسان اگلے موسم کے لیے گندم کی بویائی کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں صوبے میں گندم کی کاشت کے لیے کل رقبے کا 98 -فیصد حصہ اگلی کاشت کے لیے تیار ہے۔

 اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (یو این او سی ایچ اے) کی جانب سے پاکستان کی حالیہ صورتحال پر رپورٹ جاری کی گئی جس میں بتایا گیا کہ سندھ اور بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سیلابی پانی کی سطح میں کمی آرہی ہے البتہ کئی اضلاع اب بھی زیر آب ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ 2 ماہ سے سندھ کے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع دادو، خیرپور اور میرپورخاص کے علاقے زیر آب ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ خوراک اور زراعت آرگنازیشن (ایف اے او) کی جانب سے اگست کی رپورٹ کے مطابق 94 لاکھ ایکڑ فصل سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوچکی ہے، اس کے مقابلے ستمبر میں 10 لاکھ 90 ہزار ایکڑ فصل سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوئی۔

رپورٹ میں اس بات کا بھی حوالہ دیا گیا کہ آنے والے موسم سے قبل سیلاب سے متاثرہ فصلوں کی بحالی میں مدد کے لیے سبزیوں کی فصل کی کاشت کے لیے بیجوں اور کھادوں کی فراہمی کی بھی اشد ضرورت ہے۔

خوراک اور زراعت آگنائزیشن کی رپورٹ سے معلوم ہوا کہ حالیہ موسم میں مویشیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے، اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کسان ربیع کی فصل کی کٹائی کے موسم سے محروم نہ ہوں۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، پیداوار میں کمی اور موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے سیلاب زدہ علاقوں میں خوراک کی قلت اور بنیادی غذائیت سمیت مختلف چیلنجز کی وجہ سے ملک کو معاشی بحران کا سامنا ہے۔

قومی غذائیت کے سروے کے مطابق سندھ اور بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں ایک لاکھ 60 ہزار بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہوسکتے ہیں جنہیں جلد علاج کی فوری ضرورت ہے۔

اس کے علاوہ بچوں میں نشوونما میں کمی کی شرح سیلاب سے پہلے ہی کئی گنا زیادہ تھی لیکن سیلاب کے بعد اس شرح میں مزید اضافے کا امکان ہے، غذائیت میں کمی سے دوچار حاملہ خواتین کے بچے مستقبل میں خوراک کی کمی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ سندھ اور بلوچستان میں شدید غذائی قلت کی وجہ سے ہر 5 سال سے کم عمر ہر 9 میں سے ایک بچے کو صحت کی سہولیات میں داخل کرانا پڑتا ہے۔

اس کے علاوہ ملک میں بالخصوص سندھ اور بلوچستان میں سیلابی پانی کھڑے ہونے کی وجہ سے ملیریا کے کیسز میں بھی اضافہ ہورہا ہے جبکہ ڈائریا کے کیسز میں بھی 5 گنا زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ سیلابی پانی کھڑے ہونے کی وجہ سے مچھروں کی افزائس میں اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں 32 اضلاع میں ملیریا پھیل گیا۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروس کے مطابق رواں سال جولائی اور اکتوبر کے دوران سندھ میں تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار لوگ ملیریا میں مبتلا ہوئے جبکہ 7 لاکھ سے زائد لوگ ڈائریا اور 7 لاکھ 70 ہزار سے زائد لوگ جلد کی بیماریوں میں مبتلا ہوئے۔سیلاب سے تعلیمی شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا اور 26 ہزار 632 اسکول تباہ ہو چکے ہیں۔

مشہور خبریں۔

عراق میں امریکہ کی تباہی

?️ 23 جون 2023سچ خبریں:سیٹاو ویب سائٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ

سیالکوٹ واقعے پر عدنان صدیقی کا ردعمل

?️ 6 دسمبر 2021کراچی (سچ خبریں) پاکستان شوبز انڈسٹری کے سینئر اداکار عدنان صدیقی نے

آبنائے ہرمز کے بحران سے کون فائدہ اٹھا رہا ہے؟ ایران جنگ کے بعد عالمی توانائی کا نیا نقشہ

?️ 20 مئی 2026سچ خبریں:ایران کے خلاف جنگ کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش اور

زرعی اور تعمیراتی صنعتوں میں بحران؛ نیتن یاہو کی لامتناہی جنگوں کا نتیجہ!

?️ 27 جولائی 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت کے وزارت جنگ کی تازہ ترین رپورٹ کے

تارکین وطن ایک بار پھر پانی کی نظر

?️ 12 اپریل 2022سچ خبریں:تیونس کے پانیوں میں تارکین وطن کی دو کشتیاں ڈوب جانے

سپریم کورٹ نے وہی پوزیشن تسلیم کی جو الیکشن کمیشن نے لی، مریم نواز

?️ 5 مارچ 2021لاہور{سچ خبریں} مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا

عرب رہنماؤں کا ٹرمپ کو پیغام؛ جنگ روکنا خطے کے مفاد میں ہے

?️ 24 مئی 2026 سچ خبریں:نیوز ایجنسی ایکسیوس نے ایک ذریعے کے حوالے سے رپورٹ

ترکی میں 2026 اجرت کی شرح پر وسیع مایوسی

?️ 24 دسمبر 2025سچ خبریں: مزدور یونین کے نمائندوں نے 2026 کے لیے اجرت کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے