?️
اسلام آباد:(سچ خبریں)تاریخی مون سون بارشوں کی وجہ سے غیرمعمولی سیلاب سے زراعت کو بڑے پیمانے پر نقصانات کے پیش نظر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سال 23-2022 کے لیے زرعی قرضے کا ہدف 18 کھرب روپے سے کچھ زیادہ مقرر کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ برس بنیادی طور پر مالیاتی اداروں کے محتاط اندازِ قرض کی وجہ سے 17 کھرب روپے کا قرض ہدف حاصل نہ کیا جاسکا تھا۔
رواں سال ملک تباہ کن سیلاب کے شدید دباؤ میں ہے، زرعی شعبے میں فصلوں، مویشیوں اور دیگر متعلقہ قیمتی اشیا کے نقصان کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں، البتہ ایک بروکریج ہاؤس نے ابتدائی طور پر 900 ارب روپے کے نقصان کا تخمینہ لگایا ہے۔
تاہم بروکریج ہاؤسز یا آزاد این جی اوز کی محدود صلاحیت کی وجہ سے ممکنہ نقصانات کا اندازہ لگانا مشکل ہے، صرف حکومت ہی سیلاب سے ہونے والے صحیح نقصانات کے اعداد و شمار فراہم کر سکتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح ہے کہ قدرتی آفات سے ہونے والے بڑے نقصانات کے ازالے کے لیے زرعی شعبے کو بہت زیادہ مالی امداد کی ضرورت ہے۔
چنانچہ اسٹیٹ بینک نے زرعی قرضوں کی طلب کو پورا کرنے کے لیے مالیاتی اداروں کے لیے رواں مالی سال میں 18 کھرب روپے کےسالانہ زرعی قرضوں کی تقسیم کا ہدف تفویض کیا ہے۔
مزید برآں نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے تقاضوں اور زراعت کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے لیے فارمز کی میکانائزیشن کی ضرورت کے مطابق، گندم کی فصل کے پیداواری قرضوں کے لیے 140 ارب روپے، ٹریکٹر کی مالی امداد کے لیے 45 ارب روپے، اور کٹائی کرنے, پودے لگانے اور دیگر زرعی مشینری کے لیے 20 ارب روپے کے مخصوص اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔
علاوہ ازیں زرعی فنانسنگ کے لیے فی ایکڑ قرض کی حد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے تاکہ کاشتکار برادری کو بینکوں سے مناسب فنانسنگ حاصل کرنے اور ان کے زرعی استعمال کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کی جا سکے۔
اس سال گندم کی قلت کے پیش نظر گندم کے قرضے میں 40 فیصد فی ایکڑ اضافہ کیا گیا ہے، امکان ہے کہ ملک 20 لاکھ ٹن گندم کی درآمد پر 17 ارب ڈالر خرچ کرے گا۔
اس ضمن میں ایک بیان میں اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ‘غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے گندم کے لیے علامتی حدِ قرضہ موجودہ 60 ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کردی گئی ہے جس کی مدد سے کاشتکار بہتر فصلوں کے لیے معیاری خام مال استعمال کرسکیں گے’۔
بینک کا کہنا تھا کہ مالی سال 2022 کے دوران مالی ادارے زرعی شعبے کو 14 کھرب 19 ارب روپے کے قرضے فراہم کرنے میں کامیاب ہوئے، جس کے مقابلے میں مالی سال 2021 کے دوران 13 کھرب 66 ارب روپے فراہم کیے گئے تھے جبکہ واجب الادا زرعی قرضوں میں 10 فیصد سے زائد کی حوصلہ افزا نمو ریکارڈ کی گئی جو جون 2022 تک 6 کھرب 91 ارب روپے تک پہنچ گئی۔
اسٹیٹ بینک نے کہا کہ زرعی قرضے کے پورٹ فولیو میں بے مثال تقسیم اور نمو کو ملک میں زرعی قرضوں اور مالی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے کیے گئے مختلف حالیہ اقدامات سے مدد ملی۔
اس میں مزید کہا گیا کہ اسٹیٹ بینک کے اہم حالیہ اقدامات میں سے ایک جامع زرعی کریڈٹ اسکورنگ ماڈل متعارف کرانا تھا تاکہ بینکوں کی توجہ کوالٹی پہلوؤں کو بہتر بنانے اور ملک میں زرعی فنانسنگ کی علاقائی تقسیم کی جانب مبذول کیا جا سکے۔


مشہور خبریں۔
صیہونی میڈیا کا یمن کی اسٹریٹجک فتح کا اعتراف
?️ 21 جولائی 2025سچ خبریں: غزہ کے محاذ کی حمایت میں یمنی مسلح افواج کے
جولائی
امریکی صدارتی دوڑ میں کون آگے ہے؟
?️ 28 اکتوبر 2024سچ خبریں:تازہ ترین سروے کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ امریکی
اکتوبر
ملک میں گیس کا نیا ذخیرہ دریافت کرلیا گیا
?️ 8 اپریل 2024کراچی: (سچ خبریں) ملک میں گیس کا نیا ذخیرہ دریافت ہوگیا۔ تفصیلات
اپریل
پی ٹی آئی کا 24 نومبر کے احتجاج پر نظر رکھنے کیلئے مانیٹرنگ یونٹ قائم کرنے کا فیصلہ
?️ 20 نومبر 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے
نومبر
اسٹیٹ بینک کا شرح سود میں مزید ایک فیصد کمی کا اعلان
?️ 27 جنوری 2025 کراچی: (سچ خبریں) اسٹیٹ بینک آف پاکستان ( ایس بی پی)
جنوری
میانمار میں صحافیوں کے خلاف کاروائی جاری، متعدد افراد پر فرد جرم عائد کردی گئی
?️ 13 مارچ 2021میانمار (سچ خبریں) میانمار میں جب سے باغی فوج نے جمہوری حکومت
مارچ
آئی ایم ایف نے حکومت سے 5 اشیائے ضروریہ پر سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ کیا
?️ 29 ستمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے حکومت
ستمبر
آدھا رمضان گزر گیا مگر کے پی حکومت نے پیکج کی تقسیم شروع نہیں کی۔ عظمی بخاری
?️ 5 مارچ 2026لاہور (سچ خبریں) عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ آدھا رمضان گزرنے
مارچ