?️
اسلام آباد(سچ خبریں) سپریم کورٹ نے سرکاری زمینوں کے ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن سے متعلق کیس میں سندھ بھر میں سرکاری زمینوں سے قبضہ ختم کرانے کا حکم دے دیا چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں شہر قائد میں تجاوزات اور قبضے سے متعلق مختلف مقدمات کی سماعت کی۔
دوران سماعت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے بورڈ آف ریونیو کے سینئر افسر سے استفسار کیا کہ کتنی سرکاری زمین واگزار کرائی؟
تاہم سینئر عہدیدار کی جانب سے تسلی بخش جواب نہ ملنے پر عدالت نے افسر کی سرزنش کی اور ریمارکس دیے کہ ہمارے ساتھ کھیل مت کھیلیں، آدھے سے زیادہ سندھ کی سرکاری زمینیں قبضے میں ہیں، وہ نظر نہیں آتی؟ کونے کونے کی تصویریں لگا کر ہمیں بیوقوف بنانے کی کوشش کرتے ہیں؟۔
انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ کمیٹی کی کہانیاں ہمیں مت سنائیں، قبضہ ختم کرائیں، اینٹی انکروچمنٹ عدالتیں بھی کچھ نہیں کررہیں، سکھر جیسے شہر میں ایک کیس ہے۔دوران سماعت ریونیو کے سینئر افسر نے کہا کہ ہم ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
اس دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ پورا حیدر آباد انکروچڈ ہے، حیدرآباد، لاڑکانہ ، سکھر اور بے نظیر آباد میں کوئی کیس نہیں ہے جبکہ پورے کراچی پر قبضے کے صرف 9 کیسز ہیں۔
چیف جسٹس نے اکاؤنٹنٹ جنرل کو مخاطب کرکے کہا کہ ’اے جی صاحب یہ افسران کیا کررہے ہیں، صرف اپنے مفادات کا تحفظ کررے ہیں، کس کی خدمت کررہے ہیں یہ لوگ؟ کہیں اور جاتے ہیں تو فوری عمل درآمد ہوتا ہے۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ یہ افسران قبضہ کراتے اور بھتہ لیتے ہیں، جو فیلڈ میں کام کرنے والے ہوتے ہیں وہ الگ ہوتے ہیں، سینئر ممبر کا تمغہ لگالیا لیکن سینئر رکن والا کام کرنا ہے یا نہیں؟
دوران سماعت جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ کسی کے ذات کے نہیں بلکہ ریاست کے ملازم ہیں، آپ شکایت کیوں نہیں بھیجتے؟ کیا مفادات ہیں آپ کے؟
جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ آپ مافیا کے ساتھ ملے ہوئے ہیں؟ ان کا تحفظ کررہے ہیں؟ آدھے کراچی پر قبضہ ہوا ہے، ملیر، گلستان جوہر، یونیورسٹی روڈ سب دیکھ لیں۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ یہ جو 15 اور 20 منزلہ عمارتیں بن گئی ہیں، کیا یہ قانونی ہیں؟ آپ کو نہیں نظر آتا سب غیر قانونی ہے۔
انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ سب ریونیو کی ملی بھگت سے بنی ہیں، سب جعلی کاغذات پر بنائی گئی ہیں، ملیر ندی اور کورنگی برج کے پاس دیکھیں۔جس پر ریونیو افسر نے کہا کہ کورنگی میں کارروائی شروع کررہے ہیں۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ ’اب تو آپ کے لیے وہاں کے ریٹ بڑھ گئے ہوں گے، اب تو کہیں گے سپریم کورٹ کا حکم ہے گرانے کا زیادہ ریٹ ہوں گے۔
جسٹس قاضی محمد امین نے ریمارکس دیے کہ ’سینئر عہدیدار کا کنڈکٹ قابل افسوس ہے اے جی صاحب، جب یہ عدالتی حکم پر عمل نہیں کررہا تو یہ کیا کرے گا؟
چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ جائیں جو نام نہاد موٹر وے بنایا ہے وہاں سب قبضہ ہے، بحریہ ٹاؤن کے پیچھے اور اطراف میں زمینوں پر کیا ہورہا ہے نظر نہیں آتا؟


مشہور خبریں۔
امریکہ دنیا کی ہنسی بن گیا ہے: ٹرمپ
?️ 6 اکتوبر 2022سچ خبریں: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن کی موجودہ انتظامیہ
اکتوبر
وزیر اعظم سعودی عرب روانہ
?️ 28 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وزیراعظم شہباز شریف 13 رکنی وفد کے ہمراہ سعودی عرب
اپریل
صیہونی جارحیت کو روکنے کے لیے اسلامی ممالک کے درمیان اتفاق رائے کی ضرورت
?️ 20 دسمبر 2024سچ خبریں: اسلامی جمہوریہ ایران اور ترکی کے وزرائے خارجہ سید عباس عراقچی
دسمبر
بن گویر کے بیانات جنگی جرائم کا اعتراف ہیں:جهاد اسلامی
?️ 6 ستمبر 2025بن گویر کے بیانات جنگی جرائم کا اعتراف ہیں:جهاد اسلامی جماعت جهاد
ستمبر
الازہر کا گزشتہ شب رفح میں صیہونی جارحیت پر ردعمل
?️ 28 مئی 2024سچ خبریں: مصر کے جامعۃ الازہر نے گزشتہ شب غزہ کی پٹی
مئی
ہم امریکی میزائل سسٹم کے ممکنہ خطرے کا مقابلہ کریں گے: روس
?️ 27 نومبر 2025سچ خبریں: روسی نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے خبردار کیا ہے کہ
نومبر
غزہ جنگ میں امریکہ نے اب تک صیہونی حکومت کی کتنی مالی امداد اور اسلحہ جاتی امداد کی ہے؟
?️ 13 اپریل 2024سچ خبریں: امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ کے خلاف صیہونی حکومت
اپریل
مزاحمتی تحریک نے صیہونیوں اور تکفیریوں کی جارحیت کے مقابلے میں لبنان کا دفاع کیا: لبنانی رکن پارلیمنٹ
?️ 15 نومبر 2021سچ خبریں:لبنانی پارلیمنٹ کے رکن نے اس ملک میں مزاحمتی تحریک کے
نومبر