?️
اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں کنٹونمنٹ اراضی پر کمرشل سرگرمیوں کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت جس سلسلے میں سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ میاں ہلال عدالت میں پیش ہوئے اور رپورٹ پیش کی۔
سپریم کورٹ نے کنٹونمنٹ اراضی پر کمرشل سرگرمیوں سے متعلق سیکرٹری دفاع کی رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دے دی۔ اٹارنی جنرل کی استدعا پرعدالت نے رپورٹ واپس لینے کی اجازت دے دی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا سنیما، شادی ہالز، سکول اور گھر بنانا دفاعی مقاصد ہیں؟ کراچی میں تمام غیر قانونی عمارتیں مسمار کروا رہے ہیں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ فوج کی غیر قانونی تعمیرات کو چھوڑ دیں، فوج کی غیر قانونی تعمیرات کو چھوڑ دیا تو باقی کو کیسے گرائیں گے؟کارسازمیں بڑی بڑی دیواریں کھڑی کرکے سروس روڈ بھی اندرکردی گئی، کنٹونمنٹ زمین کو مختلف کیٹیگریزمیں تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پرل مارکی اور گرینڈ کنونشن ہال ابھی تک برقرار ہیں، کالا پُل کےساتھ والی دیوار اور گرینڈ کنونشن ہال آج ہی گرائیں، کارساز اور راشد منہاس روڈ پراشتہارات کے لیے بڑی بڑی دیواریں بنادی ہیں، یہ حکومت کی زمین ہے، سنیما، پیٹرول پمپ، ہاؤسنگ سوسائٹی، شاپنگ مال اور میرج ہال دفاعی مقاصد تو نہیں، اٹارنی جنرل بتائیں وزارت دفاع کیسے اس استعمال کو دفاع تک محدود رکھے گی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ فیصل بیس پر اسکول، شادی ہال بھی بنے ہوئے ہیں، کوئی بھی شادی کا مہمان بن کر رن وے پر بھاگ رہا ہوگا، کہا جا رہا ہے کہ مسرور اور کورنگی ایئر بیسز بند کیے جا رہے ہیں، ایئر بیس بند کرکے وہاں کمرشل سرگرمی شروع کریں گے، کنٹونمنٹ زمین دفاعی مقاصد پورا ہونے پر حکومت کو واپس کرنا ہوتی ہے، حکومت زمین انہیں واپس کرے گی جن سے ایکوائر کی گئی ہوں۔
پورے پاکستان میں کنٹونمنٹ بورڈ کی اراضی پر یہ سلسلہ جاری ہے، سی ایس ڈی کو بھی اب اوپن کمرشل ڈپارٹمنٹل اسٹوربنادیا گیا ہے، گِزری روڈ پر راتوں رات بلڈنگ کھڑی کردی گئی، ہم ابھی سوکر نہیں اٹھے تھے کہ انہوں نے بلڈنگ کھڑی کردی۔ ایک ریٹائرڈ میجر گلوبل مارکی کیلئے زمین کیسے لیز پر دے سکتا ہے؟ ریٹائرڈ میجر کا کیا اختیار ہے کہ دفاعی زمین لیز پر دے سکے، فوج نے اس میجر کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا، گلوبل مارکی سے روزانہ کروڑوں روپے کمائے جا رہے ہیں، سینما، شادی ہال اور گھر بنانا اگر دفاعی سرگرمی ہے تو پھر دفاع کیا ہوگا؟؟ چند لاکھ میں فوجی افسران نے زمین بیچی اب وہ گھر کروڑوں کے ہیں، جہاں چھوٹی سی جگہ دیکھتے ہیں وہاں اشتہار لگا دیتے ہیں، اتنی بڑی بڑی دیواریں بنانے کی وجہ سمجھ نہیں آتی۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل صاحب فوج کو قانون کون سمجھائے گا؟ فوج کے ساتھ قانونی معاونت نہیں ہوتی وہ جو چاہتے ہیں کرتے رہتے ہیں ، فوج جن قوانین کا سہارا لے کر کمرشل سرگرمی کرتی ہے وہ غیرآئینی ہیں۔ جسٹس گلزار نے سیکرٹری دفاع سے سوال کیا کہ ہمیں بتائیں آپ کا آگے کا پلان کیا ہے؟ جس پر سیکرٹری دفاع نے بتایا کہ تینوں سروسزکی کمیٹی بنادی ہے جوغیرقانونی عمارتوں کی نشاندہی کرےگی۔
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگریہ غیرقانونی عمارتیں رہیں گی تو باقیوں کےخلاف کیا ایکشن لیں گے؟ یہ فیصلہ ایک روایت بن جائےگا، کنٹونمنٹ زمین دفاعی مقاصد پورا ہونے پرحکومت کو واپس کرنا ہوتی ہے، اعلیٰ فوجی افسران کو گھر دینا دفاعی مقاصد میں نہیں آتا، فوج ریاست کی زمین پرکمرشل سرگرمیاں کیسے کرسکتی ہے؟ ریاست کی زمین کا استحصال نہیں کیا جاسکتا۔
جسٹس قاضی امین کا کہنا تھا کہ فوج کو معمولی کاروبار کیلئے اپنے بڑے مقاصد پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہئیے ، اپنے ادارے کے تقدس کا خیال رکھنا چاہئیے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کوئٹہ اور لاہور میں بھی دفاعی زمین پر شاپنگ مالز بنے ہوئے ہیں، سمجھ نہیں آ رہی وزارت دفاع کیسے ان سرگرمیوں کو برقرار رکھے گی۔ جسٹس قاضی امین نے کہا کہ سمجھ نہیں آتا فوج کو کاروباری سرگرمیاں کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ فوجی سرگرمیوں کیلئے گیریژن اور رہائش کیلئے کنٹونمنٹس ہوتے ہیں، سی ایس ڈی پہلے صرف فوج کیلئے تھا اب وہاں ہر بندا جا رہا ہوتا ہے۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل آپ سیکرٹری دفاع کوکہیں جو رپورٹ جمع کرائی ہے یہ درست نہیں، رپورٹ میں لکھا ہے کہ بلڈنگز گرادی ہیں جب کہ وہاں بلڈنگز کھڑی ہیں، آرمی اور ہمارے دونوں کیلئے یہ صورتحال باعث شرمندگی ہے۔ عدالت نے کہا کہ جامع رپورٹ داخل کریں کہ کنٹونمنٹ کی کون سی زمین کن مقاصد کے لیے ہے، قانون کے مطابق اسٹریٹیجک لینڈ صرف ڈیفنس مقاصد کے لیے استعمال ہوگی۔ جس کے بعد عدالت نے سیکرٹری دفاع کو 4 ہفتوں میں تفصیلی رپورٹ جمع کروانے کا حکم دے دیا۔


مشہور خبریں۔
جیل میں بندھ سیاسی رہنما کہاں ووٹ ڈالیں گے
?️ 3 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) سینیٹ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں
مارچ
این سی او سی نے ایس او پیزپر سخت عملدرآمد کرانے کی ہدایات جاری کر دیں
?️ 9 اگست 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پاکستان میں کورونا کی چوتھی لہر جاری ہے،کورونا کیسز
اگست
صنعا مظاہرے کا بیان: بعض عرب حکمرانوں کی صیہونیوں کی حمایت کی مذمت
?️ 23 اگست 2025سچ خبریں: یمنی عوام کے مختلف طبقات نے آج صنعاء میں "غزہ
اگست
توشہ خانہ 2 کیس: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کرنے کیلئے 2 اکتوبر کی تاریخ مقرر
?️ 26 ستمبر 2024راولپنڈی: (سچ خبریں) بانی پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) عمران خان اور
ستمبر
کیا بانی پی ٹی آئی کو جیل میں ضروری سہولتیں مل رہی ہیں؟
?️ 6 جولائی 2024سچ خبریں: بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جیل میں سہولیات
جولائی
ملک میں کورونا کا قہر جاری 113 نئے کیسز سامنے آگئے
?️ 5 مئی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے ایس
مئی
صدر عارف علوی کا عمران خان سے رابطہ
?️ 14 فروری 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) صدر مملکت عارف علوی نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے
فروری
لبنان میں جنگ بندی کا کیا مطلب ہے؟ نیتن یاہو کے لیے کارنامہ یا مجبوری؟
?️ 27 نومبر 2024سچ خبریں: لبنان کی حزب اللہ اور صیہونی حکومت کے درمیان جنگ بندی
نومبر