سپریم کورٹ میں عمران خان کے لانگ مارچ کے خلاف ایک اور درخواست دائر کر دی گئی

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ میں عمران خان کے لانگ مارچ کے خلاف ایک اور درخواست دائر کر دی گئی۔سینیٹر کامران مرتضی ٰنے آئینی درخواست دائر کر دی۔

درخواست میں وفاق، چاروں صوبوں، عمران خان اور تحریک انصاف کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاق اور صوبوں کو حکم دیا جائے کہ لانگ مارچ کے دوران عوام کے بنیادی حقوق متاثر نہ ہوں۔

وفاق اور صوبے کو حکم دیا جائے کہ لانگ مارچ والوں کا جلسہ اسلام آباد کی آبادی سے باہر ہو۔تحریک انصاف کو احتجاج سے متعلق قوانین اور پیرامیٹرز پر عمل کا حکم دیا جائے،درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ تحریک انصاف نے 25 مئی کو سپریم کورٹ کو کرائی گئی یقین دہانی کی خلاف ورزی کی۔اس سے قبل سپریم کورٹ نے لانگ مارچ کے خلاف پہلے سے کوئی بھی حکم جاری کرنے سے انکار کی تھا اور ریمارکس دئیے ہیں کہ حکومت قانون کے مطابق صورتحال سے نمٹ سکتی ہے،جب ہجوم آئے گا اور قانون کی خلاف ورزی ہوگی تب ہی ہم مداخلت کریں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں عمران خان کے خلاف وفاقی حکومت کی توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی۔سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا کہ وزارت داخلہ نے عمران خان کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست ہے،سپریم کورٹ میں عمران خان نے لانگ مارچ کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دی تھی، اس درخواست کی سماعت کے دوران عدالت کو یقین دہانی کرائی گئی لیکن یقین دہانی کے باوجود عمران خان نے کارکنان کو ڈی چوک کی کال دی۔

اشتر اوصاف نے کہا کہ میری عدالت سے عبوری حکم کی بھی استدعا ہے جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا عبوری حکم جاری کریں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عمران خان اسلام آباد پر چڑھائی کو جہاد قرار دے رہے ہیں، عمران خان تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں میں جارہے ہیں،ریاست کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے آئین اور قانون کے مطابق اقدامات اٹھانا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے،کوئی آ کر کہہ دے کہ عمران خان کا لانگ مارچ کا کوئی ارادہ نہیں، کیا آپ چاہتے ہیں ہم دوسری بار ان سے یقین دہانی لیں؟ انتظامیہ اپنے آپ کو صورتحال کے لیے مکمل تیار کرے،جب کسی بھی طرف سے قانون کی خلاف ورزی ہوگی تو مداخلت کریں گے۔

مشہور خبریں۔

کیا صیہونی حماس کو ختم کر سکتے ہیں؟

?️ 25 نومبر 2023سچ خبریں: تحریک فتح کے ایک عہدیدار نے غاصبوں کے خلاف حماس

پشاور ہائیکورٹ: آئینی ترمیم، پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کیخلاف درخواستوں پر لارجر بینچ تشکیل

?️ 15 اکتوبر 2024پشاور: (سچ خبریں) پشاور ہائیکورٹ نے موجوزہ آئینی ترمیم اور پریکٹس اینڈ

ججز کی تعیناتی میں کیا تنازع ہے؟ لاہور ہائیکورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس کون ہیں؟

?️ 3 جولائی 2024سچ خبریں: سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی

اسلام آباد ہائیکورٹ عافیہ صدیقی کیس میں سستی برتنے پر حکومت پر برہم، فوزیہ صدیقی کو ویزا جاری کرنے کا حکم

?️ 13 دسمبر 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی

ایران کے خلاف امریکی پابندیاں غیر قانونی ہیں: اقوام متحدہ

?️ 15 فروری 2023سچ خبریں:اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے ایک بیان میں تھیلیسیمیا

روس کا یوکرینی بندرگاہوں اور جہازوں پر حملہ

?️ 29 جولائی 2026سچ خبریں: روس کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ

کیا صہیونی منصوبے کو خطے سے مٹانے کا مرحلہ آ گیا ہے؟

?️ 2 مئی 2022سچ خبریں:حزب اللہ کے سکریٹری جنرل کے نئے پیغامات اور مساوات پر

ٹرمپ گالف کلب کے سامنے امیگریشن پالیسیوں کے خلاف احتجاج

?️ 9 فروری 2025سچ خبریں: ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں کے خلاف مظاہرین کا ایک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے