سپریم کورٹ: غیرقانونی تارکین وطن کی بے دخلی کا کیس کھلی عدالت میں لگانے کا حکم

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے غیرقانونی طور پر پاکستان میں مقیم غیر ملکی شہریوں کے بےدخلی کے خلاف دائر درخواست پر چیمبر اپیل میں رجسٹرار آفس کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے اسے کھلی عدالت میں لگانے کا حکم دے دیا۔

رہنما پیپلزپارٹی فرحت اللہ بابر، جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد، چیئرمین این ڈی ایم محسن داوڑ اور انسانی حقوق کے لیے سرگرم سماجی کارکنوں سمیت دیگر فریقین کی جانب سے غیر ملکی شہریوں کی وطن واپسی روکنے کے لیے سپریم کورٹ میں دائر اِن چیمبر اپیل پر جسٹس یحییٰ آفریدی نے سماعت کی۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے رجسٹرار آفس کی جانب سے لگائے گئے اعتراضات کو مستردکرتے ہوئے غیرقانونی طور پر پاکستان میں مقیم غیرملکی شہریوں کی وطن واپسی کے خلاف کیس کھلی عدالت میں لگانے کا حکم دیا۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے مذکورہ درخواست اعتراضات لگا کر واپس کر دی تھی، بعد ازاں رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے خلاف چیمبر اپیل دائر کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ افغان مہاجرین اور سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لیے تگ و دو کرنے والے افراد کی بے دخلی کے خلاف رواں ماہ یکم نومبر کو کئی سیاست دانوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے نگران حکومت کے فیصلے کو چیلنج کردیا تھا۔

سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے والوں میں پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے رہنما فرحت اللہ بابر، جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد، انسانی حقوق کے کارکن امینہ مسعود جنجوعہ، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ (این ڈی ایم) کے چیئرمین محسن داوڑ، وکیل جبران ناصر، روحیل کاسی، سید معاذ شاہ، غزالہ پروین، وکیل ایمان زینب مزاری، احمد شبر، وکیل عمران شفیق، لیوک وکٹر اور سجل شفیق شامل تھے۔

ڈان ڈاٹ کام کو موصول درخواست کی کاپی کے مطابق غیر ملکیوں کی بے دخلی آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت چیلنج کی گئی تھی۔

درخواست میں نگران وزیراعظم کے ذریعے وفاق، سیکریٹری داخلہ کے توسط سے حکومت کی اپیکس کمیٹی، تمام چاروں صوبے اور اسلام آباد، چیف کمشنر برائے افغان مہاجرین اور نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے چیئرمین سمیت 15 افراد کو فریق بنایا گیا۔

سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ غیر ملکیوں کو بے دخل کرنے کے فیصلے سے تقریباً 44 لاکھ افغان باشندوں کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہو رہی ہے جو وقتی طور پر پاکستان میں مقیم ہیں۔

اس میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلے سے پاکستان کی 45 سالہ پالیسی تبدیل ہو رہی ہے جس میں مہاجرین، سیاسی پناہ کے درخواست گزاروں اور یہاں تک کہ غیر رجسٹرڈ غیر ملکیوں کی میزبانی میں توسیع کا عزم کیا گیا تھا، اسٹریٹجک اعتبار سے کیا گیا فیصلہ نگران حکومت کو حاصل آئینی اختیارات سے ماورا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ بے دخلی رضاکارانہ طور پر نہیں ہو رہی ہے اور نہ ہی افغان حکومت اس حوالے سے سہولت کاری کر رہی ہے اور یہ بھی خطرہ ہے کہ ان افراد میں سے کئی سردی اور بھوک کی وجہ سے موت کا شکار ہوسکتے ہیں، ان میں سے کئی پاکستانی شہری اور حقیقی مہاجرین بھی ہوسکتے ہیں جنہوں نے اپنی قانونی حیثیت ثابت کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا ہوگا۔

مزید کہا گیا کہ بغیردستاویزات کے مقیم افغان شہریوں کو بے دخل کرنے کا فیصلہ غیرمنتخب کابینہ کے ذریعے کیا گیا ہے، جس نے غیرانسانی فیصلہ کیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے کیے گئے فیصلے میں غیر جانبدار زبان استعمال کی گئی ہے لیکن یہ واضح ہے کہ لاکھوں افغان مہاجرین نشانہ بنیں گے جو حالات کے جبر کی وجہ سے پاکستان میں رہنے پر مجبور ہیں۔

سپریم کورٹ سے کہا گیا ہے کہ یہ انتہائی پریشان کن بات ہے کہ نگران حکومت انتخابات کرانے کا اپنا کام سرانجام دینے کے بجائے اسٹریٹجک فیصلے کر رہی ہے، جس کے نتائج اس ملک کے عوام کو بھگتنا ہوں گے۔

انہوں نے عدالت عظمیٰ پر زور دیا کہ حکومت کی جانب سے غیرقانونی مہاجرین کو بے دخل کرنے کے لیے کیا گیا فیصلہ غیرقانونی اور غیرآئینی قرار دے کر ختم کردے۔

درخواست گزاروں نے سپریم کورٹ پر زور دیا کہ وفاق کو غیر ملکیوں کو گرفتار کرنے، واپس بھیجنے یا دوسرے طریقوں سے ہراساں کرنے سے روکا جائے جو یا تو مہاجرین یا سیاسی پناہ کے متلاشی ہیں اور ان کے پاس رجسٹریشن کا ثبوت ہیں، افغان شہریت کا کارڈ (اے سی سی)، یواین ایچ سی آر کی جانب سے جاری کی گئی سیاسی پناہ کی درخواست یا اس کے شراکت داروں کی جانب سے جاری پری اسکریننگ سلپ موجود ہے۔

مزید کہا گیا کہ عدالت وفاق کو ہدایت کرے کہ وہ یو این ایچ سی آر اور اس کی شراکت تنظیموں کو رجسٹر کرنے، عمل میں تیزی لانے اور پاکستان میں مقیم غیرملکی شخصیات کی سیاسی پناہ کی درخواست کے فیصلے کی اجازت دے۔

درخواست گزاروں نے کہا کہ وفاق کو ہدایت کی جائے کہ وہ وفاقی اور صوبائی قانون نافذ کرنے والے ادارے وقتی طور پر پاکستان میں رہنے والے تمام افراد کے بنیادی حقوق کا تحفظ کریں۔

مشہور خبریں۔

میانمار کی فوج کی اسکول پر بمباری؛11 بچے ہلاک

?️ 21 ستمبر 2022سچ خبریں:اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ نے اعلان کیا ہے کہ

غزہ سے متعلق ٹرمپ کے منصوبے پر الجولانی کا ردعمل

?️ 11 فروری 2025 سچ خبریں:شام پر قابض دہشت گردوں کے رہنما احمد الشرع نے

کرسیاں مارنا، مائیک اکھاڑنا، لڑنا جھگڑنا احتجاج نہیں۔ اعظم نذیر تارڑ

?️ 7 جولائی 2025لاہور (سچ خبریں) وفاقی وزیر قانون و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر

اسرائیل مزاحمتی تحریک کے انتقام سے خوفزدہ ہے:صیہونی میڈیا

?️ 11 اگست 2022سچ خبریں:نابلس میں مزاحمتی فورسز کے ایک کمانڈر کی شہادت کے بعد

سینیٹ کمیٹی میں سڑک اور ٹول پلازہ کی تعمیر کے دوران ٹول ٹیکس وصولی کا انکشاف

?️ 12 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات میں سڑک

گیس کی منتقلی کے لیے صیہونیوں کے یورپی یونین اور مصر کے ساتھ خفیہ مذاکرات

?️ 31 مئی 2022سچ خبریںاسرائیلی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ مصر کے راستے

امید ہے کہ اگلی پارلیمنٹ لیبر ، کنسٹرکشن اور حکومتی معاونت کی پارلیمنٹ ہوگی؛ عراقی وزیراعظم

?️ 12 اکتوبر 2021سچ خبریں:عراقی وزیراعظم نے پیر کی رات اس ملک میں ہونے والے

دہشت گرد غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دیں، ان سے مذاکرات نہیں کریں گے، نگران وزیر اعظم

?️ 12 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے ملک میں دہشت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے