?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) نیب قانون میں ترامیم سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین، سابق وزیر اعظم عمران خان کو بطور درخواست گزار ویڈیو لنک کے ذریعے سپریم کورٹ میں پیش کردیا گیا۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کا 5 رکنی لارجر بینچ مقدمے کی سماعت کر رہا ہے، بینچ میں جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی شامل ہیں۔
سماعت کے دوران ویڈیو لنک پر موجود عمران خان نے وہاں موجود پولیس اہلکاروں کو پاس بلا لیا اور اپنے چہرے پر تیز روشنی پڑنے کی شکایت کی، شکایت کرنے پر اہلکاروں نے لائٹ کو ایڈجسٹ کر دیا، تاہم اس دوران عمران خان کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس میں عمران خان کو نیلے رنگ کی قمیض میں ملبوس دیکھا گیا۔
ویڈیو وائرل ہونے کے معاملے پر سپریم کورٹ انتظامیہ نے تحقیقات شروع کردیں، پولیس ذرائع کے مطابق انتظامیہ نے اسٹاف کو سی سی ٹی وی کیمرے دیکھ کر تصویر وائرل کرنے والے کی نشاندہی کرنے کی ہدایت کردی، پولیس تصویر کو وائرل کرنے والے کے خلاف ایکشن لے گی، تصویر کورٹ روم رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لی گئی، عدالت میں عمران خان کی ویڈیو چھوٹی کردی گئی۔
مقدمے کی سماعت براہ راست نشر نہیں کی جارہی اور اس کی وجہ بھی بیان نہیں کی گئی ہے، واضح رہے کہ گزشتہ روز سماعت براہ راست نشر کی گئی تھی۔
یاد رہے کہ متعدد مقدمات میں تقریباً 9 ماہ سے جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان قومی احتساب بیورو (نیب) قانون میں ترامیم سے متعلق کیس میں بطور درخواست گزار ویڈیو لنک کے ذریعے سپریم کورٹ میں پیش ہونے کے لیے تیار تھے جبکہ جیل حکام نے ان کی پیشی کے انتظامات بھی مکمل کرلیے تھے۔
گزشتہ سال اگست میں زمان پارک سے گرفتاری اور توشہ خانہ کیس میں سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کی عدالت عظمیٰ میں یہ پہلی پیشی ہونی تھی جب کہ وزیر قانون اعظم نذیر نے اس حوالے سے سپریم کورٹ کے حکم پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
اس کے علاوہ سابق وزیر اعظم کی پارٹی نے اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں پر پابندی کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اقدام پارٹی سربراہ کو سپریم کورٹ کی کارروائی سے دور رکھنے کے لیے کیا گیا ہے جس میں 5 رکنی بینچ نے عمران خان کی حاضری کا حکم دیا تھا۔
دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کی ویڈیو لنک سے سپریم کورٹ میں ممکنہ حاضری کے پیش نظر جیل حکام نے انتظامات مکمل کر لیے تھے، عمران خان کو بھی آگاہ کر دیا گیا تھا، متوقع ویڈیو لنک پیشی سے قبل مواصلاتی ٹیسٹ بھی کیا گیا۔
واضح رہے کہ 14 مئی کو سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو ترامیم کو کالعدم قرار دینے کے خلاف سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کو بذریعہ وڈیولنک پیش ہونے کی اجازت دی تھی۔


مشہور خبریں۔
غزہ میں کس کی حکومت ہے؟صیہونی تجزیہ کار کی زبانی
?️ 18 دسمبر 2023سچ خبریں: صہیونی تجزیہ نگار حماس کی سرنگ سلطنت سے ششدر ہیں
دسمبر
مغربی تسلط کا خاتمہ کیسے ہو رہا ہے؟
?️ 8 اگست 2023سچ خبریں: بولیویا کے وزیر خارجہ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ
اگست
بھارت نے مقبوضہ کشمیرمیں سول ملیشیا وی ڈی جی کو بحال کردیا، امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی
?️ 28 فروری 2023سرینگر: (سچ خبریں) امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے انکشاف
فروری
بھارت امن کا سب سے بڑا دشمن ہے: گورنر پنجاب
?️ 13 ستمبر 2021لاہور (سچ خبریں) گورنر پنجاب چوہدری سرور کا کہنا ہے کہ بھارت
ستمبر
پاکستان کی بھارت کے ساتھ کشیدگی پر تحقیقات میں روس اور چین کو شامل کرنے کی پیشکش
?️ 28 اپریل 2025سچ خبریں:پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ روس، چین
اپریل
نیویارک میں غزہ کی ماؤں کے ساتھ ہمدردی کرنے پر ایک نرس نوکری سے باہر
?️ 31 مئی 2024سچ خبریں: فلسطینی نژاد امریکی نرس مڈوائف حسن جبر نیویارک یونیورسٹی لینگون
مئی
بحیرہ احمر میں خونی شطرنج؛ تل ابیب کے خفیہ کردار کے سائے میں متحدہ عرب امارات کی مشکوک حرکات
?️ 27 دسمبر 2025سچ خبریں: یمن اب صرف داخلی تنازعات یا عرب مقابلے کا میدان
دسمبر
صہیونیوں کا ایک بار پھر صحافی حملہ
?️ 13 اگست 2022سچ خبریں:مغربی کنارے پر صہیونی فوج کے حملے کے دوران ایک اور
اگست