?️
کراچی: (سچ خبریں) صوبے میں قحط جیسی صورتحال سے بچنے کے لیے سیلاب سے متاثرہ کسانوں کو زیادہ گندم اگانے کی ترغیب دینے کے لیے سندھ کابینہ نے گندم کی امدادی قیمت 4000 روپے فی من مقرر کردی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعلیٰ ہاؤس میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں صوبائی وزرا، مشیران، چیف سیکریٹری اور متعلقہ محکموں کے سیکریٹریز نے شرکت کی۔
اجلاس میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے مختلف وزرا، مشیران اور معاونین خصوصی نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے 9 ہزار روپے فی من کے حساب سے درآمدی گندم خریدی جس کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے ممالک کے کاشتکاروں کو فائدہ پہنچایا گیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اب ہمیں اپنے کاشتکار کے بارے میں سوچنا ہے جسے ابھی بھی سیلاب کے پانی سے اپنی زمین کو دوبارہ حاصل کرنا، اسے بوائی کے لیے تیار کرنا، اور فصل اگانے کے لیے مہنگے بیجوں کا استعمال کرنا ہے، اس لیے بہتر قیمت کا فائدہ ہمارے مقامی کاشتکار کو جانا چاہیے۔
وزیر اعلیٰ کے مشیر زراعت منظور وسان نے کہا کہ زرعی زمین زیر آب آچکی ہے اور پانی نکالنے اور اگلی فصلوں کے لیے کھیتوں کو تیار کرنے کے لیے بہت زیادہ محنت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر گندم کو ایک خاص تناسب سے نہیں اگایا گیا تو صوبے کو قحط جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور کاشتکاروں کو ترغیب کے طور پر زیادہ قیمت کی پیشکش کی گئی ہے۔
کابینہ کے ارکان نے مکمل بحث کے بعد گندم کی فصل برائے سال 23-2022 کے لیے امدادی قیمت 4 ہزار روپے فی من مقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔
اجلاس کے شرکا نے فیصلہ کیا کہ محکمہ خوراک یکم اکتوبر سے گندم کا ذخیرہ جاری کرنا شروع کردے گا جبکہ قیمتیں مشیر زراعت منظور وسان، وزرا مکیش چاولہ اور اسمٰعیل راہو، معاونین خصوصی قاسم نوید اور حارث گزدار اور چیف سیکریٹری سہیل راجپوت پر مشتمل ذیلی کمیٹی تجویز کرے گی۔
کابینہ نے ذیلی کمیٹی کو ایک ہفتے میں اپنی سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی۔
اس کے علاوہ سلیکشن بورڈز/کمیٹیوں کی سفارش پر صوبائی کابینہ نے عمران صمد کی بطور صدر سندھ بینک تعیناتی کی منظوری دی۔
ایک الگ اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے صوبے کے سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو راشن بیگز، ٹینٹ اور مچھر دانی فراہم کرکے امدادی سرگرمیوں کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا۔
وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے اجلاس کو بتایا کہ 6 لاکھ سے زائد بے گھر افراد کیمپوں میں رہ رہے ہیں جب کہ مختلف پیچیدگیوں کے شکار 13 لاکھ 63 ہزار 312 مریضوں کا علاج کیا جاچکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کُل مریضوں میں سے 28 فیصد کو گیسٹرو، 27 فیصد کو جلد کی بیماریاں، 7 فیصد ڈینگی اور ملیریا اور 38 فیصد کو دیگر صحت کے مسائل لاحق ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ کیمپوں میں 5 ہزار 636 حاملہ خواتین رہ رہی ہیں جن میں سے 439 کے ہاں جلد پیدائش متوقع ہے۔
ادھر پی ڈی ایم اے حکام نے اجلاس کو بتایا کہ مجموعی طور پر ایک لاکھ 83 ہزار 424 خیمے تقسیم کیے جاچکے ہیں اور 9 ہزار 945 تقسیم سے پہلے کے مرحلے میں ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کو ایک لاکھ 45 ہزار 90 ترپالیں فراہم کی گئی ہیں جبکہ 60 ہزار آئندہ چند روز میں موصول ہونے کی توقع ہے۔


مشہور خبریں۔
اداروں کے خلاف اکسانے کا کیس: شہباز گل پر فردِ جرم پھر مؤخر
?️ 1 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شہباز
اپریل
مسلم لیگ (ن) کو پی ٹی آئی کا مقابلہ کرنے کیلئے نئے بیانیے کی تلاش
?️ 16 جنوری 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) پی ٹی آئی کے ہاتھوں کئی بار شکست
جنوری
عمران خان سے پرویز الہیٰ کی ملاقات کی اندرونی کہانی
?️ 1 دسمبر 2022لاہور: (سچ خبریں) چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ
دسمبر
غزہ کے بحران میں یونیورسٹیوں کی فعال سرگرمی کے امکانات کا جائزہ
?️ 12 مئی 2025سچ خبریں: تہران یونیورسٹی کی فیکلٹی آف گورننس نے ہاؤس آف تھنکرز
مئی
ایران کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے کوشاں ہیں۔ اسحاق ڈار
?️ 3 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے
اگست
خبر رساں ادارے روئٹرز میں ایران کے صدر کی پریس کانفرنس کا ردعمل
?️ 17 ستمبر 2024سچ خبریں: ہمارے ملک کے صدر مسعود پزشکیان کی پریس کانفرنس تہران
ستمبر
روس کی فوجی مشقوں پر جاپان کی شدید تشویش کا اظہار
?️ 5 ستمبر 2022سچ خبریں: جاپان کے ساتھ متنازع جزائر کے ایک حصے میں
ستمبر
صیہونی حکومت نے یورپی پارلیمنٹ کے وفد کو مقبوضہ فلسطین کا سفر کرنے سے روکا
?️ 23 مئی 2022سچ خبریں: اسپن پارلیمانی وفد کے سربراہ پر ویزا پابندی کے باعث
مئی