?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ آرمی چیف کے عہدے کے حلف کی تشریح کرے تاکہ ریاست کے معاملات میں اُن کے کردار کا تعین کیا جا سکے اور وفاقی حکومت کو ملک میں آئینی طرز حکمرانی یقینی بنانے کا حکم دیا جائے۔
سابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل راجا محمد ارشاد کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی گئی کہ وہ یہ ڈکلیئر کرے کہ پاکستان میں ہنگامی صورتحال ہے اور ملک میں آئین کی حکمرانی کی کمی کی وجہ سے انتشار اور لاقانونیت کا سامنا ہے۔
درخواست میں استدلال کیا گیا کہ سپریم کورٹ کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ ان لاکھوں لوگوں کو ریسکیو کرنے کے لیے آگے آئے جو ریاست کے انتظامی اداروں کے رحم و کرم پر ہیں۔
درخواست میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ لوگوں کی زندہ رہنے کی امیدیں دن بہ دن ختم ہوتی جارہی ہیں اور آئینی نظم و نسق کی کمی کی وجہ سے ریاست کا پورا اسٹرکچر تباہی کے دہانے پر ہے، عام آدمی اپنی زندگی کم سے کم بنیادی ضروریات کے ساتھ گزارنے کے لیے بھی امید کی کرن کھو چکا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ آئین کی محافظ ہونے کے ناطے ملک میں آئینی طرز حکمرانی یقینی بنانے کی پابند ہے اور وہ اس حقیقت سے غافل نہیں رہ سکتی کہ ریاست کا انتظامی ادارہ شہریوں کے بنیادی حقوق کو پامال کر رہا ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ اصل اسٹیٹسمین شپ کسی قوم کو موجودہ صورتحال سے نکال کر اس صورتحال میں ڈھالنے کا فن ہے جس میں اسے ہونا چاہیے، اس لحاظ سے ملک میں اس وقت کوئی ایک بھی سیاستدان ایسا نہیں ہے جو مایوس قوم کو نئی تقدیر دے سکے۔
درخواست گزار کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پوری قوم کی جان، آزادی، ملکیت اور عزت محفوظ نہیں ہے اور سپریم کورٹ اب اِس قوم کے لیے واحد اور آخری امید ہے، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا ملک بھر میں پیش آنے والے خوفناک اور دل دہلا دینے والے حادثات و واقعات سے بھرا ہوا ہے۔
درخواست کے مطابق مدعا علیہ نمبر 3 یعنی آرمی چیف آئین کی پاسداری کے حلف کے پابند ہیں، آئین کے تحت یہ صرف عدالت عظمیٰ کا اختیار اور استحقاق ہے کہ وہ ریاست کے معاملات میں ان کے کردار کی تشریح اور تعین کرے تاکہ ریاستی ڈھانچے میں ان کے ظاہر اور خفیہ کردار کے بارے میں اس تنازع کو ختم کیا جا سکے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملک کی معاشی ترقی کا مکمل انحصار ملک میں آئینی طرز حکمرانی پر ہے، فوج کے اعلیٰ افسران اور اعلیٰ انٹیلی جنس ایجنسی پر منتخب حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے اور انتخابات میں دھاندلی کا انتہائی سنگین الزام ہے۔
اس تناظر میں درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ فوج کے ادارے کو ’طاقت کے بھوکے‘ سیاستدانوں کے ہاتھوں بدنام ہونے سے بچانا قومی مفاد میں ہے، فل کورٹ اس آئینی مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرے اور ریاست کے ایگزیکٹو اور قانون ساز اداروں کی رہنمائی کے لیے ایک معتبر فیصلہ جاری کرے۔


مشہور خبریں۔
صیہونیوں کے لیے برازیلی صدر کا بیان ناقابل برداشت
?️ 21 فروری 2024سچ خبریں: برازیل اور صیہونی حکومت کے درمیان سفارتی تنازع تیسرے روز
فروری
سوڈان میں اقوام متحدہ کی انسانی امداد کی لوٹ مار
?️ 3 جون 2023سچ خبریں:اقوام متحدہ سے منسلک ورلڈ فوڈ پروگرام نے ایک بیان میں
جون
ایران امریکہ مذاکرات میں ایران کی بالادستی؛ امریکہ کا چند مطالبات سے پیچھے ہٹنے کا عندیہ
?️ 14 اپریل 2025 سچ خبریں:ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں ایران
اپریل
بھارت اور کینیڈا ایک قدم اور دور
?️ 4 اکتوبر 2023سچ خبریں: بھارت سے 40 کینیڈین سفارت کاروں کی ممکنہ بے دخلی
اکتوبر
کیا عرب اجلاس ایران اور 4 عرب ممالک کے تعلقات کے لئے بہتر ہوگا؟
?️ 19 مئی 2023سچ خبریں:الڈپلومیسی ویب سائٹ نے مصری مصنف اشرف ابو عارف کے لکھے
مئی
یوکرین کی پیش رفت | ٹرمپ نے روس سے نمٹنے کے لیے اچانک حکمت عملی تبدیل کر دی
?️ 23 اکتوبر 2025سچ خبریں: ٹرمپ کی روس سے لڑائی کو فوری طور پر ختم
اکتوبر
او آئی سی اجلاس: ایک فون آیا اور اپوزیشن ڈھیر: شیخ رشید
?️ 20 مارچ 2022اسلام آباد(سچ خبریں)او آئی سی اجلاس سے متعلق اپوزیشن کے دھمکی آمیز
مارچ
بانی پی ٹی آئی سے ڈیل ہے نہ ڈھیل۔ فیصل واوڈا
?️ 13 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ بانی پی ٹی
فروری