?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے اٹک جیل میں قید چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی سائفر کیس میں ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کردیے۔
سابق وزیراعظم نے گزشتہ ہفتے بیرسٹر سلمان صفدر کے توسط سے ضمانت بعد از گرفتاری کے لیے درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی تھی جب کہ اس سے دو روز قبل آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت نے سابق وزیر اعظم کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی۔
چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی، اس موقع پر چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر اور دیگر وکلا روسٹرم پر موجود تھے۔
دوران سماعت چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے سماعت جلدی رکھنے کی استدعا کی جس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ایک پروسیجر کے تحت معاملات چلتے ہیں، آپ سینئر وکیل ہیں، عدالتی طریقہ کار کو جانتے ہیں، آئندہ پیر کے لیے نوٹس جاری کر دیتے ہیں۔
عدالت عالیہ نے فریقین کو 25 ستمبر کے نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔
یاد رہے کہ 14 ستمبر کو اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سفارتی سائفر سے متعلق آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے تحت درج مقدمے میں عمران خان اور پارٹی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری مسترد جب کہ سابق وفاقی وزیر اور پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد عمر کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرلی تھی۔
یہ کیس سفارتی دستاویز سے متعلق ہے، جو مبینہ طور پر عمران خان کے قبضے سے غائب ہو گئی تھی، اسی کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی اور وائس چیئرمین پی ٹی آئی 26 ستمبر تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں۔
پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ اس سائفر میں عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے امریکا کی جانب سے دھمکی دی گئی تھی، پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی بھی اسی کیس میں ریمانڈ پر ہیں۔
ایف آئی اے کی جانب سے درج فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) میں شاہ محمود قریشی کو نامزد کیا گیا اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعات 5 (معلومات کا غلط استعمال) اور 9 کے ساتھ تعزیرات پاکستان کے سیکشن 34 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
ایف آئی آر میں 7 مارچ 2022 کو اس وقت کے سیکریٹری خارجہ کو واشنگٹن سے سفارتی سائفر موصول ہوا، 5 اکتوبر 2022 کو ایف آئی اے کے شعبہ انسداد دہشت گردی میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں سابق وزیر اعظم عمران خان، شاہ محمود قریشی اور اسد عمر اور ان کے معاونین کو سائفر میں موجود معلومات کے حقائق توڑ مروڑ کر پیش کرکے قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال کر اپنے ذاتی مفاد کے حصول کی کوشش پر نامزد کیا گیا تھا۔
اس میں کہا گیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان، سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ان کے معاونین خفیہ کلاسیفائیڈ دستاویز کی معلومات غیر مجاز افراد کو فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
سائفر کے حوالے سے کہا گیا کہ ’انہوں نے بنی گالا (عمران خان کی رہائش گاہ) میں 28 مارچ 2022 کو خفیہ اجلاس منعقد کیا تاکہ اپنے مذموم مقصد کی تکمیل کے لیے سائفر کے جزیات کا غلط استعمال کرکے سازش تیار کی جائے‘۔
مقدمے میں کہا گیا کہ ’ملزم عمران خان نے غلط ارادے کے ساتھ اس کے وقت اپنے پرنسپل سیکریٹری محمد اعظم خان کو اس خفیہ اجلاس میں سائفر کا متن قومی سلامتی کی قیمت پر اپنے ذاتی مفاد کے لیے تبدیل کرتے ہوئے منٹس تیار کرنے کی ہدایت کی‘۔
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا کہ وزیراعظم آفس کو بھیجی گئی سائفر کی کاپی اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے جان بوجھ کر غلط ارادے کے ساتھ اپنے پاس رکھی اور وزارت خارجہ امور کو کبھی واپس نہیں کی۔
مزید بتایا گیا کہ ’مذکورہ سائفر (کلاسیفائیڈ خفیہ دستاویز) تاحال غیر قانونی طور پر عمران خان کے قبضے میں ہے، نامزد شخص کی جانب سے سائفر ٹیلی گرام کا غیر مجاز حصول اور غلط استعمال سے ریاست کا پورا سائفر سیکیورٹی نظام اور بیرون ملک پاکستانی مشنز کے خفیہ پیغام رسانی کا طریقہ کار کمپرومائز ہوا ہے‘۔
ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ’ملزم کے اقدامات سے بالواسطہ یا بلاواسطہ بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچا اور اس سے ریاست پاکستان کو نقصان ہوا‘۔
ایف آئی اے میں درج مقدمے میں مزید کہا گیا کہ ’مجاز اتھارٹی نے مقدمے کے اندراج کی منظوری دے دی، اسی لیے ایف آئی اے انسداد دہشت گردی ونگ اسلام آباد پولیس اسٹیشن میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن 5 اور 9 کے تحت تعزیرات پاکستان کی سیکشن 34 ساتھ مقدمہ سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف آفیشنل خفیہ معلومات کا غلط استعمال اور سائفر ٹیلی گرام (آفیشل خفیہ دستاویز)کا بدنیتی کے تحت غیرقانونی حصول پر درج کیا گیا ہے اور اعظم خان کا بطور پرنسپل سیکریٹری، سابق وفاقی وزیر اسد عمر اور دیگر ملوث معاونین کے کردار کا تعین تفتیش کے دوران کیا جائے گا‘۔


مشہور خبریں۔
اسرائیل کی معیشت کی حزب اللہ کے میزائلوں آگ میں
?️ 13 اکتوبر 2024سچ خبریں: مقبوضہ فلسطین کے شمال میں حزب اللہ کے میزائلی حملوں
اکتوبر
غزہ جنگ کے بارے میں صیہونی جنرل کا اہم اعتراف
?️ 16 جون 2024سچ خبریں: ایک صیہونی جنرل نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ میں
جون
محمد بن زاید نے صیہونی حکومت کے سربراہ کو تعزیت پیش کی
?️ 13 جنوری 2022سچ خبریں: بہت سے صیہونی اور اماراتی ذرائع ابلاغ نے ابوظہبی کے
جنوری
وزیراعظم نے لاک ڈاؤن کا امکان مسترد کردیا
?️ 23 جنوری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر کورونا وائرس
جنوری
جو بائیڈن کے ڈاکٹرنے کہا کہ وہ صحیح ہے
?️ 23 جولائی 2024سچ خبریں: جو بائیڈن کی کووِڈ 19 سے موت کے بارے میں سوشل
جولائی
جرمن کمپنی کا موم سے اڑنے والے راکٹ کو خلا میں بھیجنے کا کامیاب تجربہ
?️ 7 مئی 2024سچ خبریں: جرمن کمپنی ہیلمپلس نے جمعے کو کمرشل سیٹلائٹس کو خلا
مئی
فلسیطنیوں کو کیسے بھوکا پیاسا رکھا جائے؛ صیہونی حکومت کے زیر غور منصوبہ
?️ 14 اکتوبر 2024سچ خبریں: رپورٹس کے مطابق، صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو صیہونی جنرلوں
اکتوبر
صیہونیوں کی حماس کے خلاف ناکامی کی وجوہات؛ صیہونی جنرل کا تجزیہ
?️ 24 دسمبر 2024سچ خبریں:ایک صیہونی جنرل نے غزہ میں حماس کے خلاف اسرائیل کی
دسمبر