’ریاست خطرے میں ہے‘ مولانا فضل الرحمان کا حکومت مخالف تحریک چلانے کا اعلان

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) جمیعت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت مخالف تحریک چلانے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس سلسلے میں مجلس عمومی کا اجلاس بلالیا ہے، عید کے بعد مزید فیصلہ کیا جائے گا، چیف الیکشن کمشنر اور دو ممبران کی مدت مکمل ہو چکی ہے اور انہیں مستعفی ہو جانا چاہیئے۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم، صدر اور وزیر داخلہ اہل نہیں ہیں، موجودہ حکمران الیکشن جیت کر نہیں آئے، ریاست خطرے میں ہے لیکن حکومت ملکی مسائل پر توجہ نہیں دے رہی، پوسٹل سروسز، پی ڈبلیو ڈی سمیت دیگر اداروں سے ملازمین نکالے جا رہے ہیں، اگر ملازمین نااہل ہیں تو حکمران کیسے اہل ہیں؟ ملازمتوں سے نکالے جانے والے نوجوان کہاں جائیں گے؟

تحریک انصاف کے ساتھ ممکنہ اتحاد سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمان نے جواب دیا کہ اس پارٹی کی اصل قیادت جیل میں ہے اور جو باہر ہیں ان میں یکسوئی نہیں، پی ٹی آئی سے معاملات میں تلخی کم ہوئی ہے اور بیان بازی ممکنہ اتحاد میں رکاوٹ نہیں بنے گی، تاہم جے یو آئی حکومت مخالف تحریک میں پی ٹی آئی سے اتحاد کا حتمی فیصلہ پالیسی ساز اجلاس میں کرے گی۔

جے یو آئی ف کے سربراہ کہتے ہیں کہ آصف علی زرداری ملکی سیاست کو انجوائے کر رہے ہیں اور وہ واحد شخص ہیں جو ایوان صدر اور صوبائی اسمبلیاں خریدنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، نواز شریف ملکی سیاست میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں لیکن اگر وہ ایک صوبے کی حکومت کو کافی سمجھ رہے ہیں تو یہ ملک کے ساتھ ناانصافی ہوگی، اگر پنجاب ٹھنڈا ہے تو یہ کوئی بات نہیں، دو صوبوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا، جب ہم نکلیں گے تو یہ کہیں گے کہ ملک کا خیال کریں۔

اس دوران کابل ایئرپورٹ دھماکے میں ملوث ملزم کی گرفتاری میں پاکستان کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے آنے سے اپوزیشن خوش اور حکومت خوفزدہ تھی، اسی لیے حکومت ٹرمپ کو بکرا پیش کرنے کے انتظار میں تھی تو اسی کے تحت حکومت نے امریکہ کو بکرا پیش کیا اور اپنی خودمختاری کی پرواہ نہیں کی، جس پر ٹرمپ خوش ہوا، اس موقع پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کی بات کی جا سکتی تھی لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

بلوچستان کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بات چیت کی ضرورت ہے، یکطرفہ بیانیے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، پاکستان فوج کی ملکیت نہیں بلکہ یہ ہم سب کا ملک ہے، اگر اسٹیبلشمنٹ سیاستدانوں پر اعتماد نہیں کرتی تو خود پیچھے ہٹ جائے کیوں کہ سیاستدان ملک کو بہتر انداز میں چلا سکتے ہیں، اگر ملک میں یکطرفہ فیصلے بند نہ کیے گئے تو سیاسی شدت بڑھے گی، عوام پارلیمنٹ سے ناراض ہیں اور ایسے ملک نہیں چل سکتا۔

مشہور خبریں۔

یورپ کو سب سے زیادہ کس چیز کی ضرورت ہے؟ چینی سفیر کا جواب

?️ 14 جون 2023سچ خبریں:روس میں چین کے سفیر کا کہنا ہے کہ یوکرین کے

یمن کے بیلسٹک میزائل حملے کی انفرادیت؛اسرائیل کے دل پر کاری وار

?️ 19 ستمبر 2024سچ خبریں: مشرق وسطیٰ کے ایک سینئر تجزیہ کار کا کہنا ہے

سابق جاپانی صدر کے قاتل کے اعترافات

?️ 20 جولائی 2022سچ خبریں:جاپانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ سابق جاپانی وزیر اعظم

پاکستان، سعودی عرب کے مابین ورکرز کی بھرتیوں سے متعلق اہم معاہدہ

?️ 6 دسمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دو اہم معاہدوں

ایمن الظواہری ہم نے مارا: بائیڈن

?️ 2 اگست 2022سچ خبریں:  امریکی صدر جو بائیڈن نے منگل کی صبح افغانستان کے

سیلاب کے پاکستانی معیشت پر اثرات کو آئی ایم ایف کے جائزے میں شامل کیا جائے۔ وزیراعظم

?️ 24 ستمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے مطالبہ کیا ہے کہ

آئی ای اے کے گورننگ بورڈ کے اجلاس میں ایران کے خلاف قرارداد کے موافقین اور مخالفین

?️ 12 جون 2025سچ خبریں: گورننگ بورڈ آف دی انٹرنیشنل ایٹامک انرجی ایجنسی (آئی ای

سندھ طاس معاہدے کی معطلی پاکستان کے آبی حقوق، خطے کے امن کیلئے خطرہ ہے۔ احسن اقبال

?️ 13 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے