?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باہمی دفاعی معاہدے میں دیگر عرب ممالک کی شمولیت کے لیے ’دروازے بند نہیں ہیں‘۔
جیونیوز کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں بات کرتے ہوئے معاہدے میں دیگر عرب ممالک کی شمولیت کے حوالے سے سوال کے جواب میں خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ ’میں قبل از وقت اس پر جواب نہیں دے سکتا، لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ دروازے بند نہیں ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ نیٹو جیسے انتظام کی بات کرتے رہے ہیں، خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں یہاں کے ممالک اور عوام، بالخصوص مسلمان آبادی کا بنیادی حق ہے کہ وہ مل کر اپنے خطے، ممالک اور قوموں کا دفاع کریں۔‘
انہوں نے کہا کہ معاہدے میں کوئی ایسی شق شامل نہیں جو کسی دوسرے ملک کو شمولیت سے روکتی ہو یا پاکستان کو کسی اور ملک کے ساتھ ایسا ہی معاہدہ کرنے سے منع کرتی ہو۔
ایٹمی اثاثوں کے استعمال کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس جو کچھ ہے، ہماری صلاحیتیں، وہ یقیناً اس معاہدے کے تحت دستیاب ہوں گی، لیکن یہ بھی کہوں گا کہ جب سے پاکستان ایٹمی طاقت بنا ہے، کسی نے کبھی ہمارے ذمہ دار ایٹمی قوت ہونے کو چیلنج نہیں کیا۔‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنے ایٹمی اثاثے معائنہ کے لیے پیش کیے اور کبھی خلاف ورزی نہیں کی، انہوں نے اسرائیل سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے کبھی معائنے کی اجازت نہیں دی۔
ان سے سوال پوچھا گیا کہ اگر ایک ملک پر حملہ ہو تو دوسرا خودبخود شامل ہوگا، اس حوالے سے خواجہ آصف نے کہا کہ ’جی بالکل، اس میں کوئی شک نہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور نہ ہی سعودی عرب نے دفاعی معاہدے کے نفاذ کو کسی مخصوص ملک سے جوڑا ہے، ’یہ دونوں طرف سے فراہم کردہ ایک چھتری ہے کہ اگر کسی طرف سے کسی پر جارحیت کی جائے تو اس کا مشترکہ دفاع اور جواب دیا جائے گا۔‘
انہوں نے وضاحت کی کہ یہ کوئی ’جارحانہ معاہدہ‘ نہیں بلکہ ایک دفاعی انتظام ہے، جو نیٹو جیسا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کافی عرصے سے سعودی افواج کی تربیت میں شامل رہا ہے اور حالیہ پیش رفت اس سب کی صرف ایک باضابطہ ’توسیع‘ ہے، جو مثبت اقدام ہے۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا کہ ’اگر جارحیت ہوئی، چاہے سعودی عرب کے خلاف ہو یا پاکستان کے خلاف، ہم مل کر اس کا دفاع کریں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اس معاملے پر سعودی عرب کے ساتھ بات کی ہے اور یہ بھی کہ پاکستان کی بری فوج اور پاک فضائیہ کی نفری کئی دہائیوں سے وہاں موجود رہی ہے۔
خواجہ محمد آصف نے مزید کہا کہ سعودی عرب میں اسلامی مقدس مقامات کی حفاظت پاکستان کے لیے ’مقدس فریضہ‘ بھی ہے۔
امریکا کو اعتماد میں لینے کے سوال پر آصف نے کہا کہ انہیں لگتا ہے اس پیش رفت کے حوالے سے کسی تیسرے فریق کی شمولیت کا کوئی جواز ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ بالادستی قائم کرنے کے لیے نہیں بلکہ ایک دفاعی انتظام ہے، ہمارا کسی کا علاقہ فتح کرنے یا حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، لیکن ہمارا بنیادی حق ہم سے چھینا نہیں جا سکتا اور ہم نے کل اسے استعمال کیا۔
انہوں نے دہرایا کہ پاکستان دیگر ممالک کے ساتھ بھی اسی طرح کے انتظامات کر سکتا ہے۔
’کابل کی حکومت مخلص نہیں ہے‘
سیکیورٹی فورسز پر دہشت گرد حملوں کے سوال پر آصف نے دوبارہ کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم افغانستان کی دو جنگیں جو لڑی ہیں، ہمارا کوئی مطلب ہی نہیں تھا کہ سوویت یونین کے خلاف جنگ کرتے، ہمارا کوئی تعلق نہیں تھا کہ ہم نیٹو کے اتحادی بنتے، دونوں مواقع پر امریکا ہمیں بے یار و مددگار چھوڑ کر چلا گیا، اور ہم اب بھی نتائج بھگت رہے ہیں، چاہے وہ طالبان ہوں، کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی)، کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) یا کوئی اور ہو۔
انہوں نے کہا کہ یہاں پر روزانہ شہادتیں ہو رہی ہیں، ہم بچوں، فوجیوں، شہیدوں، سویلین کے جنازے روز اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں آج بھی سمجھتا ہوں کہ کابل حکومت بالکل بھی مخلص نہیں ہے، ان لوگوں کے ذریعے وہ ہمیں بلیک میل کرتے ہیں۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ہمارے بچوں کا خون بہایا جائے، ہماری سرزمین پر حملے ہوں، یہاں موجود دہشتگرد ان سے امداد لیں، یہ ہمسایوں والی بات نہیں ہے۔


مشہور خبریں۔
وزیراعظم نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کی تشکیلِ نو کردی، وزیرخزانہ چیئرمین مقرر
?️ 24 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای
مارچ
ملک کا برا حال ہو گیا ہے ، حکومت اپوزیشن الائنس سے خوف زدہ ہے ، عمر ایوب
?️ 21 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پی ٹی
مارچ
اسرائیل کا امریکی رائے عامہ کو متاثر کرنے کے لیے نے مصنوعی ذہانت کا سہارا:امریکی اخبار
?️ 19 جولائی 2026سچ خبریں:امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ دی ہے کہ صہیونی
جولائی
پاکستان سمیت 8 ممالک کی اسرائیل کی غزہ میں جنگ بندی خلاف ورزیوں کی مذمت
?️ 2 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) اسرائیل کی جانب سے غزہ جنگ بندی کی
فروری
یوکرین کے وزیر خارجہ کا اہم دورے پر پاکستان آنے کا امکان
?️ 18 جولائی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں)یوکرین کے وزیر خارجہ دیمیترو کولیبا ہنگامی دورے پر جمعرات
جولائی
حلب جنگ میں اردگان کی موقع پرستی؟
?️ 29 نومبر 2024سچ خبریں: 2018 میں جب تہران میں آستانہ سربراہی اجلاس منعقد ہوا
نومبر
بدامنی کا سلسلہ جاری اور یوکرین میں انسداد بدعنوانی کے اداروں کی آزادی کی بحالی
?️ 2 اگست 2025سچ خبریں: یوکرین کی پارلیمنٹ نے عوامی مظاہروں اور مغربی ممالک کے
اگست
شمالی غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کی تعداد میں کمی
?️ 9 جنوری 2024سچ خبریں:نیویارک ٹائمز کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں
جنوری