دسمبر میں آٹو فناسنگ بڑھ کر 235 ارب روپے سے تجاوز کر گئی، اسٹیٹ بینک

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) آٹو فنانسنگ دسمبر 2024 میں بڑھ کر 235 ارب روپے کی سطح سے تجاوز کر گئی، جو اس سے پچھلے مہینے میں 234 ارب 60 کروڑ روپے تھی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2024 میں آٹو فنانسنگ منفی رہی، جو اکتوبر میں 236 ارب روپے، ستمبر 2024 میں 227.541 ارب روپے اور اگست 2024 میں 227.296 ارب روپے تھی، جون 2022 میں یہ 368 ارب روپے کی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کی گئی تھی۔

اسٹیٹ بینک نے 10 جون کو پالیسی ریٹ کو 22 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کردیا، اس کے بعد 29 جولائی کو مزید کمی کرکے 19.5 فیصد، 12 ستمبر کو 17.5 فیصد، 4 نومبر کو 15 فیصد اور 16 دسمبر کو 13 فیصد کر دی تھی۔

آٹو پارٹس بنانے والے/ برآمد کنندہ اور مہران کمرشل کے ڈائریکٹر مشہود علی خان نے کہا کہ 2025 کے پہلے 6 ماہ امید افزا ہوں گے، کیوں کہ بینک اور اسمبلرز شرح سود میں کمی کے رجحان کے درمیان پروموشنل آفرز کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں اور کچھ بڑی نجی کمپنیوں میں کام کرنے والے افراد اپنی اچھی تنخواہوں کی وجہ سے آٹو فنانسنگ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ تنخواہ لینے والا یا ڈھائی لاکھ روپے ماہانہ کمانے والا شخص 50 ہزار روپے ماہانہ کی قسط کی وجہ سے بینک قرض پر 660 سی سی سوزوکی آلٹو خریدنے سے بھی قاصر ہے، اور اس کے علاوہ تعلیمی، گروسری اور یوٹیلٹی بلوں میں اضافے کے مسائل سے بھی دوچار ہے۔

مشہود علی خان نے کہا کہ آئندہ بجٹ اقدامات، سیاسی ماحول، زرمبادلہ کے ذخائر، روپے اور ڈالر کے مقابلے میں برابری آٹو سیکٹر کے نقطہ نظر کا تعین کریں گے، یہ دیکھا گیا ہے کہ درآمدی اشیا کی زیادہ مانگ غیر ملکی زرمبادلہ کا بحران پیدا کرتی ہے، اس طرح کھپت کو روکنے کے لیے پابندیاں سامنے آتی ہیں۔

مارکیٹ کے تجزیہ کاروں نے توقع ظاہر کی ہے کہ 27 جنوری کو ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں اسٹیٹ بینک کی پالیسی ریٹ میں مزید 100 بی پی ایس کی کمی کی جائے گی، جس کی بنیاد کنزیومر پرائس انڈیکس میں کمی ہے۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کو توقع ہے کہ جنوری کے لیے سی پی آئی سال بہ سال 2.5 سے 3.0 فیصد (0.6 فیصد ایم او ایم) رہنے کی توقع ہے، جس سے مالی سال 25 کے 7 ماہ کی اوسط 6.66 فیصد ہوجائے گی، جب کہ مالی سال 24 کے 7 ماہ میں یہ 28.73 فیصد تھی۔

تاہم کار اسمبلرز اور بینکرز کا خیال ہے کہ اگر اسٹیٹ بینک آٹو لونز کی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر 50 سے 60 لاکھ روپے کر دے تو آٹو فنانسنگ میں مزید شدت سے اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

اس سے قبل قرضوں کی حد 1000 سی سی تک کی گاڑیوں کی ادائیگی کی مدت میں 5 سال کی کمی اور 1000 سی سی سے کم کی گاڑیوں کے لیے 3 سال کی ادائیگی کی مدت میں کمی اور ڈاؤن پیمنٹ کی شرط کو بڑھا کر 30 فیصد کرنے کی وجہ سے کار فنانسنگ دباؤ کا شکار رہی تھی۔

مشہور خبریں۔

دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر ایرانی حملے جاری

?️ 5 اکتوبر 2022سچ خبریں:عراق کے کردستان ریجن میں واقع دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر ایرانی

بھارت مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق پامال کررہا ہے

?️ 25 ستمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ دورہ

وزیر اعظم نے سبسڈی کے لیے رجسٹریشن کا عمل تیز کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں

?️ 2 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے

معاشی استحکام کیلئے ایک اور آئی ایم ایف پروگرام چاہیے، وزیراعظم

?️ 21 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ

فروری میں مہنگائی 31.6 فیصد کی تاریخی بلند ترین سطح پر رہی

?️ 1 مارچ 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) ملک میں فروری میں مہنگائی کی شرح 31.6

کیا ٹرمپ جنگ بندی اور امن بحال کرنی کی کوششوں کو جاری رکھیں گے

?️ 12 اکتوبر 2025کیا ٹرمپ جنگ بندی اور امن بحال کرنی کی کوششوں کو جاری

اسلام آباد میں ایرانی سفیر کی جانب سے افطار ڈنر

?️ 29 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں)یوم القدس کی مناسبت سے جمہوری اسلامی ایران کے سفیر

ٹرمپ کی اپیل پر نظرثانی 

?️ 6 جنوری 2024سچ خبریں:گزشتہ روز، امریکی سپریم کورٹ نے کولوراڈو ریاست کے پرائمری انتخابات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے