?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) محکمہ خزانہ نے منی بجٹ کے ذریعے 80 ارب روپے کے نئے ٹیکسز عائد کرنے کی رپورٹس کو مسترد کردیا۔ایک بیان میں کہا گیا کہ وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے 18 اگست کو پریس کانفرنس میں آرڈیننس کے ذریعے 80 ارب کے ٹیکس نافذ کرنے کا ذکر نہیں کیا تھا۔
بیان میں زور دیا گیا کہ یہ خبریں غلط اور گمراہ کن ہیں جن کے مطابق حکومت کا منی بجٹ پیش کرکے آرڈیننس کے ذریعے 80 ارب روپے اکھٹا کرنے کا منصوبہ ہے۔
وزیر خزانہ نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ حکومت غیر ضروری اور پُرتعیش مصنوعات کی درآمدات سے پابندی اٹھا رہی ہے جو تین ماہ قبل لگائی گئی تھی جبکہ 50 ارب روپے سے زائد ریونیو اکٹھا کرنے کے لیے نئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
محکمہ خزانہ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ حکومت اگلے چند دنوں میں ایک آرڈیننس لا رہی ہے جس کے تحت تمام تاجروں پر 5 فیصد سیلز ٹیکس اور 7.5 فیصد انکم ٹیکس تین مہینے کےلیے لگایا جائے گا۔
یکم اکتوبر سے 50 یونٹ یا اس سے زائد بجلی استعمال کرنے والے تاجروں پر اس کا نفاذ کیا جائے گا جبکہ زیادہ بجلی استعمال کرنے پر تاجروں پر زیادہ شرح سے ٹیکس عائد ہوگا۔
مزید بتایا گیا کہ تاجروں پر فکسڈ ٹیکس عائد نہ کرنے سے 42 ارب روپے کم محصولات جمع ہوں گے، ہم ٹیکس کے پرانے نظام کو لاگو کریں گے جس سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو 15 ارب روپے کم ملیں گے، جس کی وجہ سے ہم تمباکو اور سگریٹ پر 36 ارب روپے کے نئے ٹیکسز عائد کریں گے۔
وزیرخزانہ مفتاح اسمٰعیل نے جمعرات کو کہا تھا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے معاہدے کی روشنی میں تمام اشیا کی درآمدات پر پابندی ختم کی جارہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت درآمدات پر بھاری ریگولیٹری ڈیوٹیز (آر ڈیز) عائد کریں گے جس کے نتیجے میں یہ اشیا بطور ‘تیار مصنوعات’ درآمد نہیں کی جائیں گی۔
مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ ہم موجودہ آر ڈیز میں تین گنا زیادہ اضافہ کرنے کی کوشش کریں گے جس کی اجازت ہے جبکہ کچھ شعبوں میں حکومت کے 400 سے 600 فیصد کے درمیان ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرے گی کیونکہ ملک میں مرسڈیز کاروں جیسی اشیا پر خرچ کرنے کے لیے زرمبادلہ نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ محدود وسائل کی وجہ سے میری ترجیح ہوگی کہ آئی فون اور کاروں کے بجائے آٹا، گندم، کپاس اور خوردنی تیل کو درآمد کریں۔
انہوں نے کہا کہ ہم درآمدات سے پابندیاں ہٹا دیں گے لیکن آر ڈیز، کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کی شکل میں بھاری ڈیوٹیز لگائیں گے تاکہ ان کی مصنوعات کی درآمدات میں اضافہ نہ ہو سکے۔


مشہور خبریں۔
ایران کے خلاف جنگ پر عالمی ذرائع ابلاغ کا رد عمل
?️ 15 جون 2026سچ خبریں:ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی حکومت کی جنگ پر عالمی
جون
ایران کے خلاف امریکی طبی ناکہ بندی انسانیت کے خلاف جرم:اقوام متحدہ میں ایرانی نائب سفیر
?️ 16 فروری 2022سچ خبریں:اقوام متحدہ کے سماجی واجتماعی ترقی کمیشن کے سالانہ اجلاس میں
فروری
جتھوں کو ریاستی رٹ چیلنج نہیں کرنے دیں گے، مذہبی جماعت کے مستقبل کا فیصلہ وفاق کرے گا، عظمیٰ بخاری
?️ 23 اکتوبر 2025 لاہور: (سچ خبریں) وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے واضح کیا ہے
اکتوبر
ایلون مسک 400 ارب ڈالرز کے مالک بننے والے دنیا کے پہلے شخص بن گئے
?️ 14 دسمبر 2024سچ خبریں: اسپیس ایکس کے بانی اور ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹیو ایلون
دسمبر
خفیہ دستاویزات میرے گھر منتقل کرنا معمول تھا: ٹرمپ
?️ 20 فروری 2022سچ خبریں: وائٹ ہاؤس کی برآمد شدہ دستاویزات کے کم از کم
فروری
اسرائیلی معیشت میں طوفان کی وجوہات
?️ 18 مئی 2025سچ خبریں: سنہ 1948 میں فلسطین کے مقبوضہ علاقوں پر جعلی صہیونی ریاست
مئی
سعودی عرب مغربی ایشیا میں منشیات کا مرکز :امریکی اخبار
?️ 24 دسمبر 2021سچ خبریں:ایک امریکی اخبار نے لکھا کہ سعودی ولی عہد کی سعودی
دسمبر
عراقی سرزمین پر امریکہ اور سعودی عرب کی مشترکہ جارحیت
?️ 29 جولائی 2026سچ خبریں: المیادین نیٹ ورک کے نامہ نگار نے رپورٹ دی کہ
جولائی