?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا پر جھوٹی اور من گھڑت خبروں کی روک تھام کے لیے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز (پیکا) قانون میں مزید ترمیم کا فیصلہ کرلیا اور اس حوالے سے ابتدائی ڈرافٹ بھی تیار کرلیا گیا ہے۔
ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ملکی اداروں اور کسی بھی فرد کے خلاف غلط خبر پھیلانے والے کو 3 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق حکومتی مسودے کے مطابق فیک نیوز اور اس پر سزا کا تعین ٹربیونل کرے گا، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ترمیم کے تحت حکومت کو سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کرنے اور ختم کرنے کا اختیار بھی ہوگا۔
پارلیمانی ذرائع کے مطابق یہ قانون سوشل میڈیا کے لیے ہوگا لیکن مین اسٹریم ٹی وی چینلز پر بھی لاگو کیا جاسکتا ہے۔
واضح رہے کہ مئی 2024 میں سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے پیکا ایکٹ 2016 میں ترمیم کی منظوری دی تھی۔
مجوزہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) ایکٹ 2024کے تحت ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن ایجنسی کے قیام کی منظوری بھی دے گی گئی تھی بعد ازاں وفاقی کابینہ کو بھیجے گئے ابتدائی مسودے پر سیاسی جماعتوں اور ڈیجیٹل حقوق کے رہنماؤں کی جانب سے شدید تنقید کے بعد، شکایت کے اندراج کے عمل کو ریگولیٹ کرنے کے لیے مجوزہ ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی (ڈی آر پی اے) میں کچھ تبدیلیاں تجویز کی گئی تھیں۔
ذرائع نے ڈان کو بتایا تھا کہ مسودے میں کی گئی کچھ تبدیلیوں کے ذریعے کسی بھی سوشل میڈیا مواد کے خلاف شکایت درج کرانے کے عمل کو ہموار کرنا شامل ہے۔
ذرائع نے بتایا تھا کہ ان تجاویز میں شامل کیا گیا ہے ’صرف متاثرہ شخص ہی شکایت درج کراسکتا ہے اور اس بات کا تعین کرنے کے لیے میکنزم ہونا چاہیے کہ آیا شکایت کنندہ متاثرہ شخص تھا یا نہیں۔
اس کے علاوہ اس بات کا تعین بھی پہلے سے کیا جانا چاہیے کہ آیا درج کی گئی شکایت، درخواست گزار کے حقوق کی خلاف ورزی میں شمار ہوتی ہے یا نہیں۔
کمیٹی کے ارکان نے ڈان کو بتایا تھا کہ کچھ سخت شقوں پر تنقید کے بعد، یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مسودہ کو واپس آئی ٹی کی وزارت کو بھیج دیا جائے گا تاکہ اس میں توازن پیدا ہو اور مجوزہ ڈی آر پی اے کے معاملات میں مزید شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے۔
کمیٹی کے ایک رکن نے کہا تھا ، ’ہم سب تسلیم کرتے ہیں کہ نفرت انگیز تقریر، بچوں کے ساتھ بدسلوکی، ہراساں کرنے، تشدد پر اکسانے یا ریاست مخالف سرگرمیوں کو ہوا دینے کے لیے آن لائن ٹولز سب سے مؤثر اور آزاد ذریعہ ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا تھا کہ اس چیز کو اب روکنا ہوگا، لیکن اس کے ساتھ ہی کسی بھی قانون میں حکام کو سیاسی انتقام کے لیے آزادی نہیں ملنی چاہیے اور نہ ہی انہیں احتساب سے بالاتر اختیارات دینے چاہئیں۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا تھا کہ سوشل میڈیا کے مواد کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے، سوشل میڈیا اصولوں اور اخلاقیات کے احترام اور تحفظات کے بغیر بڑی حد تک بے لگام تھا۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک میڈیا بھی پختگی کا مظاہرہ کرتے ہیں کیونکہ ان سے متعلق ضوابط ہیں، لہذا سوشل میڈیا پر جعلی خبروں کو روکنے کے لیے کچھ قوانین ہونے چاہیے۔
ایک اعلیٰ عہدے دار نے کہا تھا کہ میڈیا اور تفریحی مواد سماجی طور پر قابل قبول ہونا چاہیے، لیکن یہ ذمہ داری سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے انسٹاگرام، ٹک ٹاک، ایکس (سابقہ ٹویٹر)، یوٹیوب اور فیس بک پر بھی عائد ہوگی کہ وہ ایسے مواد کو بلاک کریں جو کسی بھی ملک کی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہو۔


مشہور خبریں۔
عین الاسد بیس پر راکٹ حملہ
?️ 31 مئی 2022سچ خبریں: بعض عراقی ذرائع ابلاغ نے منگل کی صبح اطلاع دی
مئی
اس بار مقبوضہ حیفا کا بجلی گھر یمنی میزائلوں کے نشانے پر
?️ 5 جنوری 2025سچ خبریں:یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحییٰ سریع نے فلسطینی عوام
جنوری
ہم صرف 4 ملین افغانوں کی مدد کرسکتے ہیں: ورلڈ فوڈ پروگرام
?️ 9 جون 2023سچ خبریں:ورلڈ فوڈ پروگرام نے اعلان کیا کہ فنڈز کی کمی کی
جون
فلسطینیوں نے صیہونی فوج کی کیا حالت کر دی ہے؟ صیہونی وزیر کی زبانی
?️ 31 اکتوبر 2023سچ خبریں: صیہونی وزیر صحت نے صیہونی فوج کے خلاف فلسطینی مزاحمتی
اکتوبر
ایران-امریکہ مذاکرات کی تفصیلات؛سی این این کی زبانی
?️ 13 اپریل 2025 سچ خبریں:امریکی نیوز چینل سی این این کی رپورٹ کے مطابق،
اپریل
نجی شعبے نے ایک ماہ میں بینکوں کا 48 فیصد قرض اتار دیا
?️ 28 فروری 2025کراچی: (سچ خبریں) بینکوں نے ایک ماہ کے اندر نجی شعبے کو
فروری
پاکستان کے جے 10 نے 2 بھارتی طیارے مار گرائے، امریکی عہدیدار
?️ 8 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) دو امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پاکستان
مئی
میں انتقام کی سیاست کرنے والا بندہ نہیں، نواز شریف
?️ 9 جون 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) قائد مسلم لیگ (ن) نواز شریف نے کہا
جون