?️
لاہور: (سچ خبریں) جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے ہفتے کے روز حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے کی کوششوں کا آغاز کیا اور چند گھنٹوں کے اندر وزیراعظم شہباز شریف اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان سے ملاقاتیں کیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں اطراف سے ان کے اقدام پر ’مثبت ردِ عمل‘ ظاہر کیا گیا جس کا مقصد متحارب فریقوں کو انتخابات کے معاملے پر مذاکرات کے قریب لانا تھا۔
جماعت اسلامی کی ایک پریس ریلیز کے مطابق سراج الحق نے پہلے ماڈل ٹاؤن میں وزیراعظم شہباز سے ملاقات کی اور بعد میں عمران خان سے زمان پارک میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔
پارٹی ذرائع زمان پارک میٹنگ کو دونوں جماعتوں کے درمیان ممکنہ مشاورت کے راستے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھتے ہیں۔
جس کے دوران عمران خان نے کہا کہ پی ٹی آئی ہمیشہ آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن صرف بدعنوان اور قومی دولت لوٹنے والوں کے ساتھ نہیں۔
ملاقات کے دوران، سراج الحق نے تجویز پیش کی کہ پنجاب، خیبر پختونخوا اور پورے ملک میں انتخابات کے انعقاد کے لیے وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کی جائے۔
عمران خان، کے چیف آف اسٹاف سینیٹر شبلی فراز ان کے ہمراہ تھے، چیئرمین پی ٹی آئی نے جماعت کے سربراہ کے ساتھ ملک بھر کی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال کے ساتھ ساتھ موجودہ پی ڈی ایم اور پنجاب نگراں حکومتوں کی جانب سے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
دونوں جماعتوں نے مستقل بنیادوں پر مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
جماعت اسلامی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام جماعتوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر امیر جماعت نے عید کے بعد پی پی پی کے رہنما آصف زرداری سے ملاقات کرنے کا ارادہ کیا ہے اور آئندہ دو ہفتوں میں ایک پیش رفت کی توقع ہے۔
قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں سراج الحق نے کہا کہ وزیراعظم ہونے کی حیثیت سے وہ 23 کروڑ پاکستانی شہریوں کے ذمہ دار ہیں لہذا انہیں ’موجودہ بحرانوں کا حل تلاش کرنے کے لیے کھلے دل کے ساتھ دوسروں سے آگے آنا چاہیے‘۔
وزیر اعظم شہباز اور عمران خان دونوں نےسراج الحق کی کوششوں کو سراہا اور انہیں اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ انتخابات ملک کو موجودہ معاشی، سیاسی اور آئینی بحران سے نکالنے کا راستہ ہیں۔
جماعت کی پریس ریلیز کے مطابق شہباز شریف نے کہا کہ اگر جماعت اسلامی قومی اہمیت کے معاملات پر مثبت کردار ادا کرنا چاہتی ہے تو مسلم لیگ (ن) جماعت اسلامی کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ہر کسی کو ضد سے باہر آنا چاہیے اور کچھ اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے لچک کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔


مشہور خبریں۔
آرٹیکل 63-اے کی تشریح کے لیے صدر مملکت کی جانب سے دائر کردہ ریفرنس سماعت کے لیے مقرر کردیا
?️ 17 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں)سپریم کورٹ آف پاکستان نے منحرف اراکین کی نااہلی سے
اپریل
ترکی کا 9 سال بعد مصر میں سفیر تعینات کرنے کا فیصلہ
?️ 7 اپریل 2022سچ خبریںترکی نے قاہرہ میں نئے سفیر کا انتخاب کرتے ہوئے نو
اپریل
وفاقی وزیر نے پانچ ہزار نوجوانوں کو نوکریاں دینے کی خوش خبری سنادی
?️ 14 نومبر 2021کراچی(سچ خبریں) وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی امین الحق نے پانچ ہزار
نومبر
سینٹ کام کی جانب سے ایران کے خلاف امریکی جارحیت کی نئی لہر کا اعلان
?️ 12 جولائی 2026سچ خبریں: امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اپنے صفحے پر تصدیق کی
جولائی
سید حسن نصراللہ کی شہادت
?️ 28 ستمبر 2024سچ خبریں: حزب اللہ نے ایک بیان میں اپنے سکریٹری جنرل سید
ستمبر
اسلام آباد ہائی کورٹ ججز ٹرانسفر اور سینیارٹی کیس کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلیں دائر
?️ 9 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اور لاہور بار
جولائی
نئے آڈیٹر جنرل کو ’مہنگی ترین غلطی‘ کے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا
?️ 16 ستمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) نیا آڈیٹر جنرل اپنے پیش رو کی چھوڑی
ستمبر
عراقی عوام کا ہر طبقہ صیہونیوں کا مخالف
?️ 2 اکتوبر 2021سچ خبریں:عراقی ثقافتی شخصیات نے ایک بیان میں اربیل سمٹ کی شدید
اکتوبر