?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی حکومت قومی احتساب آرڈیننس (این اے او) کو غیر قانونی قرار دینے والے نیب ترامیم کے حوالے سے سپریم کورٹ کے 15 ستمبر کے فیصلے کو چیلنج کردیا ہے۔
درخواست میں عدالت سے نیب ترامیم کو بحال کرنے کی استدعا کرتے ہوئے موقف اپنایا گیا کہ نیب ترامیم میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کی گئی اور قانون سازی پارلیمان کا اختیار ہے۔
اپیل میں فیڈریشن، نیب اور چیئرمین پی ٹی آئی کو فریق بناتے ہوئے کہا گیا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ پارلیمانی اختیار سے متجاوز ہے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی نیب ترامیم کے خلاف دائر درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے کئی شقیں کالعدم قرار دے دی تھیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بینچ پر مشتمل 3 رکنی خصوصی بینچ کے سامنے عمران خان کی جانب سے 2022 میں اس وقت کے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر قیادت سابق حکومت کی متعارف کردہ نیب ترامیم کو چیلنج کیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے کی گئی ترامیم میں سے اکثر کو آئین کے منافی قرار دے کر کالعدم دے دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں عوامی عہدوں پر فائز شخصیات کے خلاف کرپشن کیسز بحال کردیے تھے جبکہ نیب کو 50 کروڑ روپے سے کم مالیت کے کرپشن کیسز کی تحقیقات کی اجازت دے دی گئی۔
فیصلے کے مطابق صرف کیسز نہیں، انکوائریز اور انویسٹی گیشنز بھی بحال کردی گئی ہیں اور فیصلے میں نیب عدالتوں سے ترمیم کے بعد کالعدم قرار دیے گئے کیسز بھی بحال کردیے گئے ہیں۔
اس فیصلے نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو 50 کروڑ روپے سے کم کے وائٹ کالر جرائم میں ملوث سیاستدانوں اور بااثر شخصیات پر ہاتھ ڈالنے کا دوبارہ اختیار دے دیا ہے اور تقریباً ایک ہزار 800 بند کیسز اب دوبارہ کھل جائیں گے۔
بظاہر سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں سابق وزرائے اعظم نواز شریف، عمران خان، شہباز شریف، یوسف رضا گیلانی، راجا پرویز اشرف، شاہد خاقان عباسی اور شوکت عزیز کے علاوہ سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف کیسز بھی دوبارہ کھولے جائیں گے۔
دیگر بڑی شخصیات جن کے مقدمات دوبارہ کھولے گئے ہیں، ان میں سابق وزرا خواجہ سعد رفیق، خواجہ آصف، رانا ثنا اللہ، جاوید لطیف، اکرم درانی، سلیم مانڈوی والا، شوکت ترین، پرویز خٹک، عامر محمود کیانی، خسرو بختیار اور فریال تالپور کے علاوہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اور سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ بھی شامل ہیں۔
نیب ذرائع نے بتایا کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے سے نیب میں نئی جان آگئی ہے اور دوبارہ کھلنے والے کیسز کی تعداد کا جائزہ لینے اور دوبارہ عدالتوں کو بھیجنے کے لیے کام شروع کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ہم دوبارہ کھولے جانے والے کیسز کی صحیح تعداد کا اندازہ لگا رہے ہیں لیکن یہ تقریباً ایک ہزار 600 سے ایک ہزار 800 کے لگ بھگ ہوں گے۔


مشہور خبریں۔
موسیقی کے معروف فنکار استاد دلشاد حسین انتقال کرگئے
?️ 11 اپریل 2021استنبول (سچ خبریں)دنیائے موسیقی کے نامور فنکار اُستاد دلشاد حسین خان دل
اپریل
نیتن یاہو کو اب معلوم ہوا ہے اسرائیل کہاں جا رہا ہے
?️ 15 اگست 2023سچ خبریں: صیہونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنی کابینہ کو درپیش
اگست
اسلام آباد: وزیراعظم سے چینی سفیر کی ملاقات، موجودہ حالات میں حمایت پر اظہار تشکر
?️ 1 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہبازشریف سے عوامی جمہوریہ چین کے سفیر
مئی
بین الاقوامی اداروں میں ایران کے فعال کردار پر اجلاس کا انعقاد
?️ 5 اکتوبر 2026سچ خبریں: ایران کی وزارت خارجہ کے معاون نے علاقائی اور بین
اکتوبر
ڈالر کی قدر میں مسلسل کمی، انٹربینک میں روپیہ کی قدر میں بہتری
?️ 3 اکتوبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) روپے کے مقابلے ڈالر کی قدر میں کمی
اکتوبر
محمد اورنگزیب کی زیر صدارت پیٹرول پرائسز مانیٹرنگ کمیٹی کا اجلاس، ذخائر تسلی بخش قرار
?️ 14 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت
مارچ
صیہونی وزیر جنگ کا سعودی عرب کا خفیہ دورہ
?️ 30 اکتوبر 2021سچ خبریں:ایک فلسطینی ویب سائٹ نے عبرانی زبان کے ذرائع کے حوالے
اکتوبر
ملک میں مہنگائی کی شرح میں کمی ہو رہی ہے: فرخ حبیب
?️ 11 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب نے
دسمبر