?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) ججز ٹرانسفر و سنیارٹی کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز کا سپریم کورٹ میں تحریری معروضات میں مؤقف سامنے آگیا۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ ججز ٹرانسفر اور سنیارٹی کیس میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق جہانگیری، جسٹس باہر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق اور جسٹس ثمن رفعت نے تحریری بیان میں کہا ہے کہ ہم نے وکیل کی حیثیت سے اپنے پیشے میں عزت، شہرت اور مالی کامیابی حاصل کی لیکن جب ہم نے جج کا عہدہ قبول کیا تو ہمیں تنخواہ میں کمی کا سامنا کرنا پڑا، پھر بھی یہ ہمارے لیے ایک اعزاز تھا کیوں کہ ہمیں عوام کی خدمت اور اس معاشرے کو کچھ لوٹانے کا موقع ملا، ہم نے یہ آئینی عہدے عاجزی کے ساتھ قبول کیے، یہ جانتے ہوئے کہ انصاف کرنا ایک مقدس ذمہ داری ہے، جو ایک امانت ہے اور جس کے بارے میں ہمیں دنیا اور آخرت میں جواب دینا ہوگا۔
5 ججز کا مزید کہنا ہے کہ ہم نے جو حلف لیا اس میں وعدہ کیا کہ ہم بغیر کسی خوف، رعایت یا جانبداری کے انصاف کریں گے، آئین اور قانون کے مطابق ایمانداری سے اپنے فرائض ادا کرنا صرف اسی صورت ممکن ہے جب عدلیہ آزاد ہو، ہمارا یقین ہے کہ اگر کوئی جج اپنی یا اپنے ادارے کی آزادی چھوڑ دے تو وہ نہ انصاف کی امانت کا حق ادا کر سکتا ہے اور نہ ہی عدلیہ کی حرمت کو قائم رکھ سکتا ہے اور جب عدلیہ کی اخلاقی طاقت ختم ہو جائے تو اس کے فیصلوں کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔
ججز کا مؤقف ہے ک ہم اس مقدمے سے نہ کوئی ذاتی فائدہ چاہتے ہیں اور نہ ہی ہمیں کوئی شہرت چاہیئے، اگر یہ صرف ہماری سنیارٹی کا مسئلہ ہوتا تو شاید برداشت کیا جا سکتا تھا لیکن جو کچھ ہوا وہ اسلام آباد ہائیکورٹ پر قبضے اور اس کی آزادی کو ختم کرنے کے مترادف ہے اور یہ ناقابلِ قبول ہے، آئین کے مطابق ہائیکورٹ صرف چیف جسٹس کا نام نہیں بلکہ تمام ججوں پر مشتمل ہوتی ہے، ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ جج ہونے کا مطلب ہے کہ جو کچھ آپ کے دور میں ہو رہا ہے، اس کی ذمہ داری آپ پر بھی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5ججز نے کہا کہ ہم نے عدالتی آزادی کو بچانے اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے کے لیے انتظامی کوششیں کیں لیکن جب وہ کامیاب نہ ہو سکیں تو یہ درخواست دائر کرنا ہماری آخری کوشش بن گئی، ہم جانتے ہیں کہ بطور جج ہمیں اس ملک کے عوام، تاریخ اور بالآخر اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دینا ہے، ہم دعا کرتے ہیں کہ ہمیں اچھے الفاظ میں یاد رکھا جائے اور لوگ یہ یاد رکھیں کہ جب حالات مشکل تھے تو ہم آئین، قانون اور عدلیہ کی آزادی کے دفاع میں ڈٹ کر کھڑے ہوئے۔


مشہور خبریں۔
2023 مغربی کنارے میں بچوں کے لیے کیسا رہا؟ یونیسیف کی زبانی
?️ 30 دسمبر 2023سچ خبریں: اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) نے 2023 کو
دسمبر
شعلے اگلتی زبانوں کے ساتھ ہم سے سیز فائر کی امید کیسے رکھ سکتے ہیں؟ عظمی بخاری
?️ 7 اکتوبر 2025لاہور (سچ خبریں) وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری کا پیپلز پارٹی کے
اکتوبر
ٹِک ٹاک کا صارفین کو ملازمت کی تلاش میں مدد دینے کا اعلان
?️ 9 جولائی 2021بیجنگ(سچ خبریں) ٹک ٹاک نے ملازمتوں میں مددکی تلاش شروع کر دی
جولائی
ہندوستان پاکستان کشیدگی؛ دو ایٹمی طاقتیں کس طرف جا رہی ہیں؟
?️ 1 مئی 2025سچ خبریں: پہلگام کے قریب ہونے والے خونریز حملے، جس میں 26
مئی
سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائیاں، دہشتگردوں کو دہائی کی بدترین شکست
?️ 3 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) سکیورٹی فورسز کی مؤثر اور بروقت کارروائیوں کے
نومبر
بی جے پی حکومت نے کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق سلب کررکھے ہیں:حریت کانفرنس
?️ 22 دسمبر 2025سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کل
دسمبر
کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو راغب کرنے میں سعودی عرب کی ناکامی
?️ 17 اپریل 2022سچ خبریں: بلومبرگ نیوز نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے
اپریل
آئی ایم ایف کو وقت پر انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے تحفظات تھے، سلیم مانڈوی والا
?️ 23 جولائی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر سلیم مانڈوی
جولائی