?️
اسلام آباد: (سچ خبریں)وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ جمہوری نظام کو ہموار اور مؤثر طریقے سے چلانے کے لیے ضروری ہے کہ تمام ریاستی ادارے آئین کے متعین دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے کام کریں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں کیے گئے اپنے خطاب سے متعلق ایک ٹوئٹ میں کہا کہ قومی اسمبلی میں میرے خطاب کا محور یہ خیال تھا کہ جمہوری نظام کو ہموار اور اسے مؤثر انداز میں کام کرنے دیا جائے۔
انہوں نے لکھا کہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ریاست کے تمام ادارے اپنی متعین کردہ آئینی حدود میں رہ کر کام کریں، اس چیز کو سمجھے بغیر ہم محض ایک دائرے میں گھومتے رہیں گے اور کہیں نہیں پہنچ سکیں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز اسپیکر راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے، وہی مالک اور خالق ہے اس نے جو اختیار انسانوں کو دیا ہے اور 22 کروڑ عوام نے اس منتخب ایوان کو دیا ہے، یہ وہ اختیار ہے جسے مقدس امانت جان کر یہ ایوان اس کو استعمال کرتا ہے، مقننہ، عدلیہ، انتظامیہ ہو، آئین نے ان کے اختیارات متعین کر دیے ہیں، آئین بتاتا ہے کہ اپنے دائرے میں رہ کر پاکستان کی خدمت کرنی ہے اور پاکستان کو آگے بڑھانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 75 سال گزرنے کے باوجود آئین کے ساتھ کھلواڑ ہوتا رہا، ملک میں ایک سے زائد بار مارشل لا آئے، جو کئی دہائیوں تک ملک پر مسلط رہے، جس کے نتیجے میں پاکستان دولخت ہوا، اور جمہوریت کا پودا اتنا طاقتور نہ ہوسکا جتنا ہونا چاہیے تھا، پارلیمان کی طاقت اس طرح ابھر کر سامنے نہ آسکی جس طرح اس کو آنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا تھا کہ قرب و جوار میں نظر دوڑائیں تو وہ ممالک جو بہت پیچھے تھے، آج ترقی کی دوڑ میں وہ آگے نکل چکے ہیں، اغیار نے آئی ایم ایف کو کبھی کا خیرباد کہہ دیا، غربت اور بیروزگاری کو انہوں نے دفن کردیا۔
شہباز شریف نے کہا تھا کہ میں ایوان کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ آج ہم نے سچ کو سچ نہ کہا تو مملکت خداداد شدید مشکلات میں گھر جائے گا، میرے منہ میں خاک، پھر جب مؤرخ اس ملک کی تاریخ لکھے گا تو پھر آئندہ آنے والی نسلیں اس پر فیصلے دیں گی، ایک لاڈلے کو 15 سال دودھ پلایا گیا اور اس کو لاکر بٹھایا گیا، ادارے دن رات اس کے لیے وہ کام کرتے تھے کہ آج ہم سوچتے ہیں تو عقل حیران ہوتی ہے، 75 سال میں کسی کو ایسی سپورٹ نہیں ملی اور نہ کبھی کسی کو ملے گی۔
وزیر اعظم نے کہا تھا کہ مارچ میں ڈپٹی اسپیکر، صدر پاکستان اور عمران نیازی نے مل کر دھوکے سے اسمبلی تحلیل کرنے کی کوشش کی، عدالت عظمیٰ نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے آئین شکنی کی لیکن انہیں کسی نے نہیں بلایا، پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کارروائی کرتے ہیں، ان کو بلایا جاتا ہے، اگر اس طرح معاملات چلتے رہے تو قائد کی روح ہمیشہ کے لیے تڑپتی رہے گی۔
انہوں نے کہا تھا کہ اگر تقدس، مساوات، قانون، آئین اور انصاف کو آگے نہ بڑھایا تو ہمیں تاریخ میں کوئی یاد نہیں رکھے گا، خدانخواستہ تاریخ کے اوراق سے ہمارا نام مٹ جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ میں دہرے معیار کی بات کر رہا ہوں، میں ایوان کو گواہ بنا کر کہنا چاہتا ہوں کہ دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے، ہم پاکستان کو عظیم تر بنائیں گے، ہم اس کی فسطائیت کا مقابلہ کریں گے لیکن جھکیں گے نہیں، جو ذمہ داری مجھے ملی ہے، جب تک پارٹی قائد اور اتحادی جماعتوں کے قائدین کا اعتماد ہے، میں اپنی کوشش کرتا رہوں گا۔
انہوں نے کہا تھا کہ نتائج اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، اگر ہم میں اتحاد اور یکسوئی رہی اور اگر ہم میں یہ جذبہ رہا کہ لڑیں گے لیکن شکست نہیں مانیں گے تو اللہ تعالیٰ کشتی کو پار لگائے گا۔


مشہور خبریں۔
انسٹاگرام نے ازخود صارفین کی اے آئی تصاویر بنانا شروع کردیں
?️ 10 جنوری 2025 سچ خبریں: سوشل شیئرنگ ایپلی کیشن انسٹاگرام نے باقی پلیٹ فارم
جنوری
زرداری اور فواد چوہدری کیخلاف درخواست، اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ سے رائے طلب
?️ 1 مارچ 2021اسلام آباد {سچ خبریں} اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق صدر آصف علی
مارچ
مشرق وسطیٰ کیلئے پاکستان کی برآمدات میں 5.57 فیصد کمی
?️ 25 دسمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) رواں مالی سال کے ابتدائی 5 ماہ میں
دسمبر
امریکہ میں ایک نئی میڈیا سلطنت کا ظہور ایلیسن کون ہیں اور کیا کر رہے ہیں؟
?️ 5 اکتوبر 2025امریکہ میں ایک نئی میڈیا سلطنت کا ظہور ایلیسن کون ہیں اور
اکتوبر
اسرائیلی میڈیا کا یمن کے خلاف ایک نیا دعویٰ
?️ 14 اپریل 2025سچ خبریں: عبرانی رپورٹ کے مطابق یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومت نے
اپریل
سپریم کورٹ کی دوسری خاتون جج جسٹس مسرت ہلالی نے عہدے کا حلف اٹھا لیا
?️ 7 جولائی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) جسٹس مسرت ہلالی حلف اٹھانے کے بعد سپریم کورٹ
جولائی
برطانیہ میں غزہ پر اجلاس, تعمیرِ نو یا سیاسی دکھاوا؟
?️ 15 اکتوبر 2025برطانیہ میں غزہ پر اجلاس, تعمیرِ نو یا سیاسی دکھاوا؟ برطانیہ کی
اکتوبر
صدر پاکسان کسی اور کو نو منتخب وزیراعلیٰ پنجاب سے حلف لینے کے لئے نامزد کریں
?️ 22 اپریل 2022لاہور (سچ خبریں)لاہور ہائیکورٹ نے نو منتخب وزیراعلیٰ پنجاب کے حلف کیلئے
اپریل