تین اہم علاقوں میں پولیو کے بڑھتے کیسز پر ماہرین کو تشویش

?️

 کراچی: (سچ خبریں) پاکستان اور افغانستان کے تین اہم علاقوں میں پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز پر ماہرین صحت نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کراچی، کوئٹہ اور خیبر کے علاقوں میں پولیو وائرس کے کیسز سامنے آنے پر ماہرین صحت میں تشویش پائی جاتی ہے اور اس حوالے سے پولیو کے خاتمے کے لیے بنائے گئے ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ (ٹی اے جی)، قطر کے دارالحکومت دوحہ میں پاک افغان حکام سے ملاقات کریں گے۔

نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی) میں اہم عہدے پر کام کرنے والے پولیو ماہر کا کہنا تھا کہ کراچی، کوئٹہ بلاک (کوئٹہ، پشین، قلعہ عبداللہ، چمن) اور پشاور – خیبر کے علاقے پاکستان اور افغانستان کے دیگر علاقوں میں پولیو وائرس کی منتقلی کا مرکز بن چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مارچ 2021 تک عالمی وباء کورونا کے دوران غیر معمولی کوششوں (گھر گھر میں پولیو کی مہم سمیت باقاعدگی سے حفاظتی ٹیکوں کی کوریج) کی وجہ سے ان تینوں متاثرہ مقامات پر پولیو کا مکمل خاتمہ ہوچکا تھا۔

پولیو ماہرین کے مطابق پروگرام کے شراکت داروں کی جانب سے عدم توجہ اور نوزائیدہ بچوں تک رسائی میں ناکامی کے سبب یہ وائرس پھر سے سر اٹھا رہا ہے اور پاکستان اس وقت 2019 کی صورتحال میں آگیا ہے جہاں ملک کے بیشتر علاقوں میں پولیو کیسز پائے جاتے تھے، جب کہ اس پروگرام کے احتساب سے ہی پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ ممکن ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دوحہ میں ٹی اے جی کی پاک افغان حکام سے ملاقات 22 سے 25 مئی کے دوران ہوں گی جس میں پولیو پروگرام کی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا، تاہم عموماً ان ملاقاتوں میں حالیہ کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے اور شراکت داروں سے مزید اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ ٹی اے جی ایک آزاد باڈی ہے جو وزارت صحت اور شراکت داروں کو پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے سفارشات پیش کرتی ہے۔

ڈان کو دستیاب وزارت نیشنل ہیلتھ سروس کے ایک دستاویز میں بھی اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ اس معاملے میں حکومت ناکام ہوگئی ہے یا پھر احتساب کو یقینی بنانے سے گریز کررہی ہے۔

وزارت صحت کی پروگرام ڈائریکٹر ڈاکٹر مریم سرفراز کے دستخط شدہ دفتری یادداشت کی ایک کاپی این ای او سی کے نیشنل کوآرڈینیٹر ڈاکٹر شہزاد بیگ اور کئی دیگر اسٹیک ہولڈرز کو بھیجی گئی تھی، جس میں کہا گیا کہ وزارت ترقی ومنصوبہ بندی اور خصوصی اقدامات نے ہماری توجہ اس طرف دلائی ہے کہ ایک میٹنگ کے دوران این ای او سی کے نیشنل کوارڈینیٹر کا رویہ اور برتاؤ فورم کے لیے نامناسب تھا۔

دستاویز میں قومی اقتصادی کونسل (ایکنک) کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ نیشنل کوارڈینیٹر نے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دینے والے فورم کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور پولیو کے خاتمے کے منصوبے میں ایکنک کے اختیارات پر سوال اٹھایا۔

دستایویز میں کہا گیا کہ این ایچ ایس سیکریٹری نے اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیا اور قومی رابطہ کار کی بدتمیزی پر ناراضگی کا اظہار کیا، سیکرٹری نے اہلکار کو خبردار کیا ہے کہ وہ مستقبل میں محتاط رہیں اور پیشہ ورانہ رویہ اختیار کریں۔

مشہور خبریں۔

ائر کنڈیشنگ کے بغیر تنہائی میں قید، فلسطینی خاتون کا بیان

?️ 12 ستمبر 2024سچ خبریں: غزہ جنگ کے آغاز سے ہی فلسطینی قیدیوں کے خلاف

روسی نائب وزیر خارجہ کا امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت کا اعتراف، یوکرین جنگ پر ممکنہ حل کی تلاش جاری

?️ 22 نومبر 2025 روسی نائب وزیر خارجہ کا امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت

سعودی عرب کی اپنے ہی کرائے کے فوجیوں پر بمباری

?️ 6 فروری 2022سچ خبریں:یمنی انقلابیوں کے ہاتھوں بھاری شکست کے بعد سعودی اتحاد سے

صیہونیوں نے جبالیا کیمپ پر کتنے وزنی بم گرائے ہیں؛ نیویارک کی زبانی

?️ 5 نومبر 2023سچ خبریں: نیویارک ٹائمز نے ماہرین ،تصاویر، ویڈیوز اور سیٹلائٹ امیجز کا

نیٹ میٹرنگ کو ونٹر پیکیج سے نکالنے پر حکومت کو تنقید کا سامنا

?️ 27 نومبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) کاروباری اور صنعتی گروپس نے بجلی کے نیٹ

افغان خواتین کے امور کے لیے امریکی نمائندہ مقرر

?️ 31 دسمبر 2021سچ خبریں:افغان نژاد امریکی سفارت کار رینا امیری کو امریکی محکمہ خارجہ

شہریار آفریدی اور دیگر کی نظر بندی کیخلاف درخواستوں پر تحریری حکم نامہ جاری

?️ 30 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہریار آفریدی اور دیگر

غزہ میں نسل کشی کی فضا میں واپسی بہت مہنگی ثابت ہوگی:ترکی کا اسرائیل کو انتباہ

?️ 11 اکتوبر 2025غزہ میں نسل کشی کی فضا میں واپسی بہت مہنگی ثابت ہوگی:ترکی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے