ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن کیس: پرویز الٰہی کے شریک ملزم کا 7 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

?️

لاہور: (سچ خبریں) لاہور کی احتساب عدالت نے ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کرپشن کیس میں سابق وزیر اعلٰی پنجاب پرویز الٰہی کے شریک ملزم آصف محمود کا 7 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا ہے۔

میڈیا کے مطابق احتساب عدالت کے جج زبیر شہزاد کیانی نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (نیب) کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے 16 جنوری کو نیب سے تفتیشی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے، نیب نے استدعا کی کہ ملزم آصف محمود سے تفتیش درکار ہے لہذا عدالت جسمانی ریمانڈ فراہم کرے۔

نیب نے شریک ملزم آصف محمود چوہدری کو گرفتار کیا تھا۔

یاد رہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب و صدر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چوہدری پرویز الہٰی اور مونس الہٰی سمیت دیگر کے خلاف گجرات میں تعمیراتی ٹھیکوں میں کرپشن و کک بیکس کے الزامات کی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد نیب نے 2 دسمبر کو ایک ارب 23 کروڑ روپے سے زائد کا کرپشن ریفرنس احتساب عدالت لاہور میں دائر کر دیا تھا۔

نیب لاہور کی جانب سے دائر ریفرنس میں پرویز الہٰی اور ان کے بیٹے مونس الہٰی کو مرکزی ملزم نامزد کیا گیا ہے جنہوں نے ریفرنس کے مطابق 74 کروڑ 45 لاکھ روپے کے کک بیکس حاصل کیے، پرویز الہٰی سمیت 14 ملزمان کے خلاف دائر ریفرنس کے مندرجات ’ڈان نیوز‘ نے حاصل کر لیے۔

ریفرنس میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ پرویز الہٰی اور مونس الہٰی سمیت دیگر ملزمان قومی خزانے کو نقصان پہنچانے میں ملوث پائے گئے ہیں، پرویز الہٰی نے اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے کک بیکس اور رشوت وصول کی۔

پرویز الہٰی پی ٹی آئی کے ان متعدد رہنماؤں اور کارکنوں میں شامل ہیں جنہیں 9 مئی کو ہونے والے ہنگاموں کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

انہیں پہلی بار یکم جون کو اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (اے سی ای) نے ان کی لاہور رہائش گاہ کے باہر سے ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ طور پر رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

اگلے ہی روز لاہور کی ایک عدالت نے انہیں مقدمے سے ڈسچارج کر دیا تھا لیکن اے سی ای نے انہیں گوجرانوالہ کے علاقے میں درج اسی طرح کے ایک مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا۔

اس کے بعد گوجرانوالہ کی ایک عدالت نے انہیں 3 جون کو فنڈز کے غبن سے متعلق بدعنوانی کے دو مقدمات میں بری کر دیا تھا۔

مقدمے سے ڈسچارج ہونے کے باوجود اینٹی کرپشن اسٹیبلمشنٹ نے پھر پرویز الہٰی کو پنجاب اسمبلی میں ’غیر قانونی بھرتیوں‘ کے الزام میں دوبارہ گرفتار کر لیا۔

9 جون کو ایک خصوصی انسداد بدعنوانی عدالت نے اے سی ای کو غیر قانونی تعیناتیوں کے کیس کا ریکارڈ پیش کرنے کا ’آخری موقع‘ دیا تھا۔

اسی روز قومی احتساب بیورو حرکت میں آیا اور گجرات اور منڈی بہاؤالدین میں ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ طور پر غبن میں ملوث ہونے پر صدر پی ٹی آئی کے خلاف ایک اور انکوائری شروع کردی گئی۔

12 جون کو سیشن عدالت نے غبن کیس میں جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے پرویز الہٰی کی بریت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا جس کے اگلے روز لاہور ہائی کورٹ نے سیشن کورٹ کے مذکورہ حکم کو معطل کردیا اور جوڈیشل مجسٹریٹ نے انہیں دوبارہ جوڈیشل لاک اپ بھیج دیا۔

20 جون کو سابق وزیر اعلٰی  نے بالآخر لاہور کی انسداد بدعنوانی عدالت سے ریلیف حاصل کر لیا لیکن جیل سے رہا نہ ہو سکے کیونکہ ان کی رہائی کے احکامات جیل انتظامیہ کو نہیں پہنچائے گئے تھے۔

اسی روز ایف آئی اے نے سابق وزیر اعلٰی، ان کے بیٹے مونس الہٰی اور تین دیگر افراد کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزام میں مقدمہ درج کیا۔

جس کے اگلے روز ایف آئی اے نے انہیں جیل سے حراست میں لے لیا اور منی لانڈرنگ کیس میں انہیں روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔

24 جون کو لاہور کی اسپیشل کورٹ سینٹرل نے سابق وزیراعلیٰ کی منی لانڈرنگ کیس ضمانت منظورکی تھی۔

تاہم 26 جون کو لاہور کی ایک ضلعی عدالت نے منی لانڈرنگ کیس کے سلسلے میں انہیں دوبارہ 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا، جس کے فوراً بعد ایف آئی اے نے انہیں کیمپ جیل کے باہر سے گرفتار کیا۔

پھر 4 جولائی کو لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پرویز الہٰی کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست کو ان کے گھر پر چھاپہ مارنے والی پولیس ٹیم پر حملہ کرنے کے کیس میں ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔

تقریباً ایک ہفتے بعد لاہور ہائی کورٹ نے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کے آئی جی میاں فاروق کو ہدایت کی کہ وہ جیل میں فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات کے فقدان سے متعلق پی ٹی آئی صدر کی شکایات کا ازالہ کریں۔

12 جولائی کو لاہور کی سیشن عدالت نے غیر وضاحتی بینکنگ ٹرانزیکشنز کے کیس میں پرویز الہٰی کے جسمانی ریمانڈ سے انکار کے خلاف ایف آئی اے کی درخواست خارج کردی۔

اس کے دو روز بعد لاہور ہائی کورٹ نے پولیس اور اے سی ای کو پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ کو کسی بھی نامعلوم کیس میں گرفتار کرنے سے روک دیا تھا۔

بعد ازاں 15 جولائی کو بینکنگ جرائم کی ایک عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں چوہدری پرویز الہٰی کی کیمپ جیل سے رہائی کے احکامات جاری کیے تھے۔

تاہم انہیں رہا نہیں کیا گیا تھا اور پولیس نے بتایا کہ پی ٹی آئی رہنما کے خلاف غالب مارکیٹ تھانے میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

14 اگست کو نیب نے پرویز الہٰی کو اڈیالہ جیل سے رہا ہوتے ہی آمدن سے زائد اثاثوں اور سرکاری ٹھیکوں میں مبینہ گھپلوں کے الزام میں دوبارہ گرفتار کرلیا تھا، جبکہ راولپنڈی کی مقامی عدالت نے نیب کی درخواست منظور کرتے ہوئے چوہدری پرویز الہٰی کا راہداری ریمانڈ منظور کیا تھا۔

مشہور خبریں۔

یورپ-بحیرۂ روم ہیومن رائٹس واچ کا صیہونی حکام کو شدید انتباہ

?️ 19 اکتوبر 2025سچ خبریں:یورپ-بحیرۂ روم ہیومن رائٹس واچ نے صیہونیوں کی جانب سے غزہ

پرویز مشرف کی واپسی پر سینٹ میں بحث

?️ 15 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی جانب

کائلی جینر کا گھر میں پرُاسرار آوازیں آنے کا انکشاف، مداح پریشان

?️ 20 دسمبر 2025 واشنگٹن: (سچ خبریں) امریکی میڈیا سٹار اور بزنس وومن کائلی جینر

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کردی گئی

?️ 31 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کردی

ایران کے اسلامی انقلاب نے ثابت کر دیا کہ امریکہ کی ناک خاک میں رگڑنا ممکن ہے

?️ 9 فروری 2023سچ خبریں:اسلامی انقلاب سے پہلے ایران خلیج فارس کے علاقے میں امریکہ

بھارت نے پھر کھلی جارحیت کی، 12 ڈرونز گرا دیے، ایک شہری شہید، 4 جوان زخمی ہوئے، ترجمان پاک فوج

?️ 8 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف

فلسطینی مسئلہ میں امریکی سفارت کاری کی موت

?️ 6 فروری 2023سچ خبریں:امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن کے مقبوضہ علاقوں کے حالیہ دورے

دارفور میں حمیدتی کے مشیر اور اس کے ساتھیوں کا قتل

?️ 2 جنوری 2026سچ خبریں: فوری ردعمل ظاہر کرنے والے سودانی فورسز کے ترجمان نے تصدیق

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے