تربت لانگ مارچ کے شرکا کی گرفتاریوں کے خلاف درخواست، فریقین 4 بجے تک ذاتی حیثیت میں طلب

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف بلوچ خواتین کی قیادت میں گزشتہ روز وفاقی دارالحکومت پہنچنے والے لانگ مارچ کے گرفتار شرکا کی درخواست پر سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ نے تمام فریقین کو شام 4 بجے تک ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

لانگ مارچ کے منتظمین نے گرفتاریوں کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، درخواست میں سیکریٹری داخلہ،آئی جی اسلام آباد، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد درخواست میں فریق بنایا گیا ہے، اس میں تھانہ ترنول، رمنا، شالیمار، سیکریٹریٹ، ویمن تھانہ، مارگلہ کے ایس ایچ اوز کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

لانگ مارچ منتظمین سمی بلوچ اور عبد السلام نے وکیل ایمان مزاری کے ذریعے درخواست دائر کی، لانگ مارچ کے شرکا نے آج ہی اسلام آباد ہائیکورٹ سے درخواست پر سماعت کی استدعا کی۔

درخواست کے ساتھ مرد و خواتین ، یونیورسٹی طلبہ سمیت 68 گرفتار مظاہرین کے نام بھی شامل ہیں، اس میں کہا گیا ہے کہ چھ دسمبر تربت سے اسلام آباد کے لئے لانگ مارچ شروع ہوا ، بلوچ جبری لاپتہ افراد کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواستیں زیر التوا ہیں ، رات 86 کے قریب کے لانگ مارچ کے شرکا کو گرفتار کر لیا گیا۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ تمام احتجاجی مظاہرین کو فوری رہا کرنے کا حکم دیا جائے ، لانگ مارچ کے شرکا کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات طلب کی جائیں، لانگ مارچ کے شرکا کو ہراساں کرنے روکا جائے، احتجاج کے آئینی حق سے روکنے کے حکم کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔

لانگ مارچ کے منتظمین کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ نے آج ہی سماعت کے لیے مقرر کی جس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی، ایمان مزاری ایڈوکیٹ نے کہا کہ اسلام آباد پولیس کی جانب سے پر امن بلوچ مظاہرین کو گرفتار کرلیا گیا، پرامن احتجاجی مظاہرین پر واٹر کینن، لاٹھی چارج کا استعمال کیا گیا۔

اس دوران عدالت نے درخواست پر اعتراضات دور کرتے ہوئے فریقین کو چار بجے تک ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا، عدالت کی جانب سے آئی جی اسلام آباد اور ڈپٹی کمشنر کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف بلوچ خواتین کی قیادت میں گزشتہ روز وفاقی دارالحکومت پہنچنے والے لانگ مارچ میں شرکا کے خلاف اسلام آباد پولیس نے رات گئے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے تمام بلوچ مظاہرین کو گرفتار کرلیا تھا۔

لانگ مارچ گزشتہ روز وفاقی دارالحکومت کے مضافات میں پہنچا تھا تاہم اسلام آباد پولیس نے مظاہرین کو نیشنل پریس کلب تک پہنچنے سے روکنے کے لیے شہر کے داخلی راستوں سمیت اہم راستوں پر ناکہ بندی کر دی تھی۔

اسلام آباد پولیس نے بلوچ مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کیا، پولیس نے آپریشن 26 نمبر چونگی اور نیشنل پریس کلب کے باہر کیا، اس دوران مظاہرین کے لگائے گئے ٹینٹ اور ساونڈ سسٹم اکھاڑ دئیے گئے۔

پولیسں نے واٹر کنین سے مظاہرین پر پانی بھی پھینکا، سیکٹر ایف سکیس میں آنسو گیس کی شیلنگ سے گھر میں موجود لوگ شدید متاثر ہوئے، بلوچ مظاہرین کے خلاف پولیس نے کریک ڈاؤن رات کے پچھلے پہر کیا۔

کیپیٹل پولیس نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے تمام بلوچ مظاہرین کو گرفتار کرلیا، مجموعی طور پر 226 مظاہرین کو گرفتار کرکے تھانہ آبپارہ، کوہسار، سیکرٹریٹ اور مارگلہ منتقل کردیا گیا، خواتین مظاہرین کو تھانہ وومن منتقل کر دیا گیا۔

ترجمان اسلام آباد کیپیٹل پولیس نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین کے درمیان متعدد نقاب پوش اور ڈنڈہ بردار موجود ہیں، مظاہرین کو ہائی سیکیورٹی زون میں داخلے سے روکنے کےلیے غیر مہلک طریقہ اختیار کیا جارہا ہے۔

ترجمان اسلام آبادپولیس نے کہا کہ طاقت کے استعمال سے مکمل گریز کیا گیا ہے، بزرگوں، عورتوں اور بچوں سے گذارش ہے کہ پرتشدد ہجوم کا حصہ نہ بنیں اور کسی کے بہکاوے میں مت آئیں، اسلام آباد کے شہریوں کی جان اور املاک کی حفاظت اسلام آباد پولیس کی اولین ترجیح ہے۔

جاری بیان میں کہا گیا کہ کسی بھی ایمرجنسی میں پکار 15 یا آئی سی ٹی 15 ایپ پر اطلاع دیں، 26 نمبر چونگی پر مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا ہے، ایوب چوک پر بھی مظاہرین کی طرف سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا، پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے متعدد مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے۔

اسلام آباد پولیس نے خبردار کیا کہ راستہ روکنے اور سڑکیں بند کرنے والوں کے خلاف ضابطہ کے مطابق قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، آپ سے گذارش ہے کہ کسی بھی غیر قانونی اجتماع یا پر تشدد مظاہرے کا حصہ نہ بنیں، عورتوں اور بچوں کو پر تشدد مظاہروں سے دور رکھیں کسی بھی غیر معمولی سرگرمی کی اطلاع پکار 15 یا آئی سی ٹی 15 ایپ پر دیں۔

جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف بلوچ خواتین کی قیادت میں لانگ مارچ گزشتہ روز وفاقی دارالحکومت کے مضافات میں پہنچا تھا تاہم اسلام آباد پولیس نے مظاہرین کو نیشنل پریس کلب تک پہنچنے سے روکنے کے لیے شہر کے داخلی راستوں سمیت اہم راستوں پر ناکہ بندی کر دی تھی۔

ابتدائی طور پر پولیس نے جناح ایونیو اور پریس کلب جانے والے دیگر راستوں کی ناکہ بندی کی، بعد ازاں انہوں نے سری نگر ہائی وے کو بھی بلاک کر دیا، جس سے وفاقی دارالحکومت سے گزرنے والی مصروف سڑک پر شدید ٹریفک جام ہوگیا۔

پولیس اور انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ ناکہ بندی لانگ مارچ کو روکنے کے لیے کی گئی جوکہ 6 دسمبر کو تربت میں محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے اہلکاروں کے ہاتھوں ایک بلوچ نوجوان کے ’ماورائے عدالت قتل‘ کے چند روز بعد شروع ہوا۔

جناح ایونیو، ناظم الدین روڈ اور چائنہ چوک انڈر پاس سمیت پریس کلب کی طرف جانے والی سڑکوں پر پولیس کی نفری تعینات رہی۔

یہ سڑکیں عام لوگوں کے لیے بھی بند کر دی گئیں، اسی طرح پولیس نے اسلام آباد چوک اور چونگی نمبر 26 کی ناکہ بندی کی، ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ اس فیصلے کا مقصد مظاہرین کو شہر میں داخل ہونے سے روکنا تھا۔

ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کی قیادت میں مظاہرین سے مذاکرات بھی ناکام رہے کیونکہ بار بار کی درخواستوں کے باوجود پولیس نے ان کے مطالبات ماننے سے انکار کر دیا، بعدازاں مظاہرین نے اسلام آباد چوک کے قریب دھرنا دیا۔

حکام نے بتایا کہ مظاہرین سے کہا گیا تھا کہ وہ ایف-9 پارک میں احتجاج کرلیں، انتظامیہ کے اعلیٰ حکام پارک میں ان سے ملاقات کریں گے، تاہم مظاہرین نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا اور کہا کہ احتجاج کے لیے مقام کا فیصلہ پولیس نہیں مظاہرین کریں گے۔

دریں اثنا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ میں اے این پی کی سابق رہنما بشریٰ گوہر سمیت متعدد کارکنان کو پریس کلب کے باہر بلوچستان سے آنے والے مظاہرین سے ملاقات کے لیے انتظار کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ مظاہرین رات کے وقت موبائل کی فلیش لائٹس جلا کر سرد موسم میں نیشنل پریس کلب کے باہر سڑک پر دھرنا دے رہے ہیں، مظاہرین نے لانگ مارچ کے مطالبات کے حق میں نعرے لگائے۔

مشہور خبریں۔

پاکستان نے اسرائیلی وزیر اعظم کے گریٹر اسرائیل کے بیان کو مسترد کر دیا 

?️ 16 اگست 2025پاکستان نے اسرائیلی وزیر اعظم کے گریٹر اسرائیل کے بیان کو مسترد

رکن پنجاب اسمبلی بلال یاسین پر فائرنگ کیس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے

?️ 17 جنوری 2022لاہور (سچ خبریں) مسلم لیگ(ن) کے رکن پنجاب اسمبلی بلال یاسین پر

G-20 کے رکن ممالک مقبوضہ کشمیرمیں گروپ کے اجلاس میں شرکت کے بھارت کے دعوت نامہ کو مسترد کردیں

?️ 21 فروری 2023سرینگر:(سچ خبریں) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و

متاثرین کی بحالی اورمددکیلئےتمام وسائل بروئے کار لائے جائیں:آرمی چیف

?️ 8 اکتوبر 2021راولپنڈی (سچ خبریں) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بلوچستان میں

پاکستانی ذرائع کا ایران اور امریکہ کے ممکنہ معاہدے کے حوالے سے دعویٰ

?️ 29 مئی 2026 سچ خبریں:جہاں اب تک ایران اور امریکہ کے حکام نے ممکنہ

پاکستان کو ریڈ لسٹ میں ڈالنے کا معاملہ، برطانوی اراکین پارلیمنٹ نے اہم قدم اٹھا لیا

?️ 7 اپریل 2021لندن (سچ خبریں) پاکستان کو ریڈ لسٹ میں ڈالنے کو لے کر

کیا پاکستان میں کورونا وائرس کی چوتھی لہر سر اٹھانے لگی ہے؟

?️ 11 جولائی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پاکستان  میں کورونا کیسز کی شرح 4 فی صد

سپریم جوڈیشل کونسل سابق جج کیخلاف کارروائی نہیں کر سکتی، فیض حمید، عرفان رامے

?️ 15 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) انٹر سروس انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے