بھارت کے متنازع بیانات: دشمن کا مقابلہ کرنے کیلئے ’ہمہ وقت‘ تیار ہیں، آرمی چیف عاصم منیر

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے بھارتی عہدیدار کی جانب سے گلگت بلتستان اور آزاد جموں اور کشمیر پر قبضے کے حوالے سے دیے گئے متنازع بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاک فوج دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے ’ہمہ وقت‘ تیار ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ نئے آرمی چیف نے بھارتی عہدیدار کے بیانات پر ردعمل دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے لائن آف کنٹرول کا دورہ کیا اور فرنٹ لائن پر تعینات جوانوں سے ملاقات کی اور کہا کہ فوج نے بھارتی قیادت کی جانب سے حال ہی میں گلگت بلتستان اور آزاد جموں اور کشمیر کے حوالے سے دیے گئے انتہائی غیرذمہ دارانہ بیان کا نوٹس لیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ ’میں یہ واضح کردوں کہ اگر ہمارے اوپر جنگ مسلط کی گئی تو پاکستان کی مسلح افواج نہ صرف اپنے مادر وطن کے ہر چپے کے دفاع کے لیے بلکہ دشمن کو بھرپور جواب دینے کے لیے بھی تیار ہے‘۔

چیف آف آرمی اسٹاف نے کہا کہ ’بہادر قوم کی مدد سے ہماری مسلح افواج دشمن کی کسی قسم کی مہم جوئی کا پوری قوت کے ساتھ جواب دیں گی‘۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی ریاست کبھی اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوگی۔

آرمی چیف نے دنیا سے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمیریوں کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے کرے اور انصاف کو یقینی بنایا جائے۔

اس موقع پر آرمی چیف کو ایل او سی کی صورت حال اور فارمیشنز کی تیاریوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ’آرمی چیف نے افسران اور جوانوں سے ملاقات کی اور مشکل حالات میں فرائض کی انجام دہی کے دوران ان کے اعلیٰ حوصلے، پیشہ ورانہ صلاحیت اور تیاریوں کو سراہا‘۔

یاد رہے کہ ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے بھارتی فوج کی شمالی کمان کے جنرل آفیسر کمانڈنگ انچیف اپیندر دویدی نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم اس کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔

خیال رہے کہ 28 اکتوبر کو ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ گلگت بلتستان جلد بھارت کا حصہ ہوگا تاکہ نریندر مودی کے اس خواب کی تکمیل ہوسکے جس کا آغاز اگست 2019 میں مقبوضہ کشمیر کے بھارت میں انضمام سے ہوا تھا۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ 27 اکتوبر کو کشمیر پہنچے تھے جہاں انہوں نے 27 اکتوبر 1947 کو جموں اور کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی یاد میں تقریب سے خطاب کیا تھا۔

یاد رہے کہ بھارت نے جموں و کشمیر کے اُس وقت کے حکمران مہاراجا ہری سنگھ کے ساتھ الحاق کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

واضح رہے کہ 29 اکتوبر کو دفتر خارجہ نے بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی جانب سے گلگت بلتستان کے بارے میں بیان کو مضحکہ خیز قرار دے کر مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ بیان بھارت کی ’توسیع پسندانہ ذہنیت‘ کا عکاس ہے۔

دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ پاکستان بھارتی وزیر دفاع کے انتہائی غیر ذمہ دارانہ، اشتعال انگیز اور بے جا ریمارکس مسترد کرتا ہے اور اس کی شدید مذمت کرتا ہے، یہ ریمارکس نہ صرف مضحکہ خیز ہیں بلکہ پاکستان کے خلاف بھارت کی مخصوص دشمنی کا عکاس ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو حق خودارادیت دینا چاہیے لیکن وہ اپنی توسیع پسندانہ ذہنیت کو پروان چڑھانے کے لیے اب آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی جانب دیکھ رہا ہے

مشہور خبریں۔

علاقائی روابط کا فروغ معاشی و تجارتی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگا، وزیر اعظم

?️ 24 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے کہا ہے

شام میں جولانی حکومت کے عناصر کے خلاف داعش کا حملہ

?️ 23 فروری 2026 سچ خبریں:سوریہ میں مقامی ذرائع کے مطابق داعش کے دہشت گرد

داعشی کیمپوں کے ذریعے عراق کے خلاف امریکہ کا منصوبہ

?️ 13 دسمبر 2025سچ خبریں: قطری السمرمد، سیکیورٹی امور کے ماہر نے زور دیا کہ

واشنگٹن میں صیہونی سفارت کے اہلکاروں کی ہلاکت پر عالمی رہنماؤں اور امریکی حکام کا ردعمل

?️ 22 مئی 2025 سچ خبریں:واشنگٹن میں صیہونی سفارت خانے کے دو اہلکاروں کی فائرنگ

اردوغان نے ترک انتخابات کے انعقاد کے حکم نامے پر دستخط کئے

?️ 16 مارچ 2023سچ خبریں:ترکی میں گزشتہ ماہ آنے والے تباہ کن زلزلے کے باوجود

واٹس ایپ کا میسیجز ایڈٹ کرنے کا فیچر متعارف

?️ 23 مئی 2023واٹس ایپ انتطامیہ کا کہنا ہے کہ جلد ہی ایپلی کیشن پر

وفاقی بجٹ کی راہ ہموار، حکومت نے پیپلز پارٹی کے چار بڑے مطالبات مان لیے

?️ 19 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت نے اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے چار

سمرقند شنگھائی تنظیم کے ممالک کے صدور کے اجلاس کا میزبان

?️ 9 ستمبر 2022سچ خبریں:     شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے صدور کا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے