?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات وقت کی ضرورت ہیں لیکن جب تک بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اقتدار میں ہے اس وقت تک اچھے تعلقات قائم کرنا ناممکن ہے۔
برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کو انٹرویو دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ تجارتی تعلقات قائم ہونے سے دونوں ممالک کو معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے بے پناہ فوائد ہوں گے لیکن نئی دہلی کا جموں و کشمیر میں غیرقانونی قبضہ اس میں اہم رکاوٹ ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں یہ ممکن ہے لیکن بی جے پی کی حکومت بہت سخت گیر ہے، ان کا اس مسئلے پر قوم پرستی کا مؤقف ہے۔
سابق وزیر اعظم عمران خان نے دی ٹیلی گراف کو بتایا کہ یہ مایوس کن ہے کہ آپ کے پاس (قرارداد کے لیے) کوئی موقع نہیں ہے کیونکہ وہ قوم پرستی کے جذبات بھڑکاتے ہیں اور ایک بار قوم پرستی کا جن بوتل سے باہر آ جائے تو اسے واپس ڈالنا بہت مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ جانتے ہیں کہ ان کے پاس مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے روڈ میپ ہونا چاہیے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کرنا چاہئیں اور ہمسایہ ملک مقبوضہ جموں کشمیر پر اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹے۔
یاد رہے کہ بھارتی حکمران جماعت کی جانب سے 2019 میں مقبوضہ کشمیر کی خودمختار حیثیت ختم کرنے کے بعد پی ٹی آئی حکومت نے نئی دہلی کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کردیے تھے، مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت (آرٹیکل 370) کے خاتمے کے بعد پاکستان نے یہ فیصلہ کیا تھا۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین نے مزید کہا کہ اگر وہ دوبارہ وزیراعظم بنتے ہیں تو پڑوسی ممالک افغانستان، ایران، چین اور امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں دونوں ملکوں کے ساتھ تعلقات کی ضرورت ہے، میں نہیں چاہتا کہ دوبارہ سے سرد جنگ جیسی صورتحال پیدا ہو، جس طرح ہم آخری سرد جنگ میں امریکا کے اتحادی تھے۔
عمران خان نے بتایا کہ پورا وسطی ایشیا، افغانستان ہم سے دور ہو گیا ہے، اہم فکراس بات کی ہے کہ پاکستان کیسے 12 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کا بہترین راستہ یہ ہے کہ ہمارے ہر کسی کے ساتھ تعلقات ہوں اور ہم سب کے ساتھ تجارت کریں تاکہ اپنے لوگوں کی مدد کرسکیں۔


مشہور خبریں۔
اسرائیل جنوبی شام میں اوسلو معاہدے کو بحال کرنا چاہتا ہے۔ ابو مازن کی قسمت گولانی کا انتظار کر رہی ہے
?️ 25 ستمبر 2025سچ خبریں: بہت سے مبصرین سلامتی کے معاہدے کا موازنہ کرتے ہیں
ستمبر
پاکستان کے عوام کی مشکلات کا احساس رائیونڈ والوں سمیت کسی کو نہیں، بلاول
?️ 30 جنوری 2024ڈیرہ اسمٰعیل خان: (سچ خبریں) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو
جنوری
صیہونی وزیر خزانہ کا ٹرمپ کے متنازع غزہ منصوبے کی حمایت کا اعلان
?️ 7 فروری 2025سچ خبریں:صیہونی وزیر خزانہ بزالل اسموٹریچ نے غزہ کے خلاف جنگ دوبارہ
فروری
وینزویلا پر وائٹ ہاؤس اجلاس؛ ٹرمپ: فیصلہ ہو چکا ہے
?️ 15 نومبر 2025سچ خبریں: ایک مغربی میڈیا آؤٹ لیٹ نے وائٹ ہاؤس میں وینزویلا
نومبر
حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے خواہاں صیہونیوں کے نوکر ہیں:حزب اللہ
?️ 14 مارچ 2022سچ خبریں:حزب اللہ کی سیاسی کونسل کے سربراہ نے اعلان کیا کہ
مارچ
روس اور سعودی عرب کا ایران-اسرائیل جنگ بندی اور فلسطین کے مسئلہ پر اہم موقف
?️ 8 جولائی 2025 سچ خبریں:روس اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے ماسکو میں
جولائی
منی لانڈرنگ کیس: ایف آئی اے نے لاہور کے تاجرصابر مٹھو کو تفتیش کیلئے طلب کرلیا
?️ 22 اکتوبر 2023لاہور: (سچ خبریں) ایف آئی اے نے لاہور کے تاجر اور ایک
اکتوبر
خام مال کی درآمد پر پابندی سے صنعتی بےروزگاری ہوگی، صدر اوورسیز چیمبر
?️ 12 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) اوورسیز انوسٹرز چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی
اپریل