بندرگاہ کے اثاثوں کی متحدہ عرب امارات منتقلی کا معاہدہ منظور کرنے کیلئے کابینہ کمیٹی کو سفارش

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) حکومت نے وفاقی کابینہ سے درخواست کی ہے کہ وہ بندرگاہ کے اثاثوں کی منتقلی کے لیے بین الحکومتی بنیاد پر متحدہ عرب امارات کے ابوظبی پورٹس کے ساتھ فریم ورک معاہدے کا مسودہ منظور کرے۔

ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کابینہ کمیٹی برائے بین الحکومتی تجارتی لین دین نے وزیر خزانہ کی سربراہی میں ایک ہفتے کے دوران اپنے دوسرے اجلاس کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر دوبارہ اجلاس کیا اور فریم ورک معاہدے کے مسودے کی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو سفارش کی۔

کابینہ کمیٹی برائے بین الحکومتی تجارتی لین دین نے متحدہ عرب امارات اور پاکستان کی حکومتوں کے درمیان ’انٹر گورنمنٹل کمرشل ٹرانزیکشن ایکٹ 2022‘ کے تحت معاہدے کے مسودے پر بات چیت کے لیے ایک 4 رکنی بین الوزارتی ’فریم ورک ایگریمنٹ کمیٹی‘ تشکیل دی ہے، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان میری ٹائم شعبے میں تعلقات کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔

سیکریٹری قانون و انصاف راجا نعیم اکبر کی زیر سربراہی سیکریٹری وزارت بحری امور غفران میمن اور وزارت خزانہ و خارجہ امور کے ایک ایک ایڈیشنل سیکریٹری پر مشتمل فریم ورک معاہدے کی کمیٹی نے گزشتہ روز صبح ملاقات کی۔

ملاقات میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے ابوظبی پورٹس کے چیف ایگزیکٹو عبدالعزیز البلوشی، جنرل مینیجر لیگل صبور کرامت اور شیخ احمد المکتوم کے مشیر مصطفیٰ احمد اور ایمریٹس ایئرلائنز، دبئی ایوی ایشن سٹی، دبئی ورلڈ اور فلائی دبئی چیئرمین سمیت دیگر نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں فریم ورک معاہدے کی تمام شقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا اور معاہدے کی شرائط پر اتفاق کیا گیا، اسے فوری طور پر اسحٰق ڈار کی زیر قیادت کابینہ کمیٹی برائے بین الحکومتی تجارتی لین دین کے پاس لے جایا گیا تاکہ اس پر غور کیا جائے اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے لیے سفارش کی جائے۔

معاہدے کے مسودے کی شرائط کے تحت اس کا مقصد کے پی ٹی میں برتھ 6 سے 9، ایسٹ وارف پر کنٹینر ٹرمینل کے آپریشنز، دیکھ بھال، اپ گریڈیشن، سرمایہ کاری، ترقی اور پیش رفت کے لیے سازگار حالات پیدا کرنا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی حکومت ابوظبی پورٹس کمپنی ’جے ایس سی‘ کو اپنا ادارہ نامزد کرے گی جبکہ پاکستان کے پی ٹی کا ہم منصب نامزد ادارے کے طور پر اعلان کرے گا، دونوں نامزد ادارے لین دین کی تکنیکی، اقتصادی اور تجارتی شرائط کے پابند اور ان پر متفق ہوں گے۔

وزیر برائے بحری امور فیصل علی سبزواری کی سربراہی میں ایک اور کمیٹی ان شرائط کو حتمی شکل دینے کے لیے آئندہ ہفتے کے اوائل میں اجلاس کا اہتمام کرے گی تاکہ اسے نئے رعایت دہندہ کو سونپا جاسکے۔

مشہور خبریں۔

نکی ہیلی کا 2024 کے امریکی انتخابات میں حصہ لینے کا امکان

?️ 2 فروری 2023سچ خبریں:مختلف رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ اقوام متحدہ میں امریکہ

مغربی کنارے میں صہیونی فوجی فلسطینیوں سے فرار ہوتے ہوئے

?️ 23 جون 2022سچ خبریں:    فلسطینی میڈیا نے مغربی کنارے میں صیہونی جنگجوؤں کے

اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ کو بہلانے کی کوشش؛ نیتن یاہو کی فریب کاری

?️ 26 اکتوبر 2024سچ خبریں:عبرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق موساد کے سربراہ دیوید بارنیا عوامی

نواز شریف 4 سالہ خود ساختہ جلا وطنی کے بعد وطن واپس پہنچ گئے۔

?️ 21 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) قائد مسلم لیگ (ن) اور سابق وزیراعظم نواز

’ کردار’ کو بنیاد بناکر شخصیت کا اندازہ لگانا غلط ہے، گوہر رشید

?️ 5 فروری 2025کراچی: (سچ خبریں) مرزا گوہر رشید کا شمار پاکستان کے معروف اداکاروں

العدیسہ میں لبنانی مزاحمت کاروں کا حملہ؛ 15 صیہونی ہلاک اور زخمی

?️ 6 اکتوبر 2024سچ خبریں: اسلامی مزاحمتی آپریشنز روم کے ایک فیلڈ افسر نے جنوبی

لانگ مارچ کے حوالے سے سپریم کورٹ میں سماعت مقرر

?️ 24 مئی 2022اسلام آباد(سچ خبریں)سپریم کورٹ نے لانگ مارچ روکنے کیلئے راستوں کی بندش اور چھاپوں کیخلاف

عطوان: "استحکام کارواں” قابضین کی رسوائی ہے/غزہ کے باشندوں کو واضح پیغام پہنچا رہا ہے

?️ 12 جون 2025سچ خبریں: عرب دنیا کے تجزیہ کار "عبدالباری عطوان” نے مراکش سے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے