بجلی کے تعطل پر سندھ ہائیکورٹ میں سماعت، سربراہ کے-الیکٹرک کے وارنٹ گرفتاری جاری

?️

کراچی: (سچ خبریں) سندھ ہائی کورٹ نے سربراہ کراچی الیکٹرک (کے الیکٹرک) کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔بجلی کے تعطل پر سندھ ہائی کورٹ میں کے الیکٹرک کے خلاف متفرق درخواستوں پر سماعت کے دوران جسٹس صلاح الدین پنہور نے 50 ہزار کے عوض سربراہ کے الیکڑک کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

عدالت کی جانب سے ایڈیشنل آئی جی کو وارنٹ کی ایک گھنٹے میں تعمیل کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا کہ پولیس کو کہیں سربراہ کے الیکٹرک کو ایک گھنٹے میں لے آئیں۔

دوران سماعت سندھ ہائی کورٹ میں اچانک بجلی بند ہونے سے عدالتیں اندھیرے میں ڈوب گئی جس کے سبب سندھ ہائی کورٹ میں کیسز کی سماعتیں متاثر ہوگئیں اور ججز اندھیرے میں کیسز کی سماعت کرنے پر مجبور ہوگئے۔

سندھ ہائی کورٹ کی بجلی منقطع ہونے کے معاملے پر رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو جسٹس صلاح الدین پنہور کی عدالت میں طلب کرلیا گیا۔

جسٹس صلاح الدین پنہور نے استفسار کیا کہ جنریٹر سے عدالتوں کے آدھے حصے کو بجلی سپلائی ہو رہی ہے، کیا آپ کے پاس متبادل ذرائع نہیں؟

رجسڑار سندھ ہائی کورٹ نے جواب دیا کہ ہمارے پاس متبادل جنریٹر موجود ہے جس سے مرکزی عمارت کو بجلی دی جاتی ہے۔

عدالت نے استسفار کیا کہ کیا آپ نے سولر سسٹم کا انتظام نہیں کیا؟ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ نے جواب دیا کہ ہمارے پاس سولر سسٹم موجود نہیں۔

جسٹس صلاح الدین پنہور نے رجسٹرار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ پرانے دور میں رہ رہے ہیں، ہمارا کام متاثر ہو رہا ہے یہ بوجھ تو آپ پر پڑے گا، آپ سولر سسٹم لگائیں، غور کریں، فائدہ ہوگا، پارکنگ ایریا میں شیلڈ لگائے جا سکتے ہیں، نیچے گاڑیاں کھڑی ہوں گی اور اوپر سولر سسٹم چل سکتا ہے،

عدالت کی جانب سے مزید کہا گیا کہ ہم نے سربراہ کے الیکٹرک کے وارنٹ جاری کیے ہیں، معاملہ کو دیکھیں، ایڈووکیٹ جنرل سے بات کری۔

بعد ازاں سربراہ کے الیکٹرک کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے پر کے الیکٹرک حکام عدالت میں پیش ہوئے۔

کے الیکٹرک حکام کی جانب سے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ بجلی کے الیکٹرک کی وجہ سے بند نہیں ہے، پورے ملک کا نظام بیٹھا ہوا ہے۔

جسٹس صلاح الدین پہنور نے ریمارکس دیے کہ سندھ ہائیکورٹ کے الیکٹرک کو ماہانہ 60 لاکھ روپے بجلی کا بل دیتا ہے، بجلی نہیں پوگی تو عدالتیں کیسے چلائیں؟ بجلی نہیں ہے تو موبائل جنریٹر سے بجلی فراہم کرنا کے الیکٹرک کی ذمہ داری ہے۔

عدالت کی جانب سے مزید ریمارکس دیے گئے کہ عدالتوں میں بجلی نہ ہونے کی وجہ کیسز کی سماعت نہیں ہوپارہی، لوگ چیخ رہے ہیں، ایسی صورتحال میں ججز کیسے کام کریں؟

جسٹس صلاح الدین پہنور نے مزید کہا کہ اس سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں کہ پورے ملک میں بجلی ہے تو ہمیں بھی نہیں ملے گی، متبادل ذرائع سے بجلی فراہم کرنا بھی کے-الیکٹرک کی ذمہ داری ہے، ہم وارنٹ گرفتاری تب واپس لیں گے، ہمیں کسی چیز سے لینا دینا نہیں ہے۔

جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا کہ ہم سندھ حکومت پر انحصار نہیں کرسکتے، سندھ ہائیکورٹ بل دے رہا ہے تو بجلی کیوں نہیں دے رہے؟ کم از کم کام کے دنوں میں تو عدالتوں کو بجلی بند نہیں ہونی چاہیے۔

عدالت کی جانب سے کے-الیکٹرک حکام کو حکم دیا گیا کہ لکھ کر دیں کہ عدالتوں کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی کیسے یقینی بنائیں گے۔

دوسری جانب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں عدم شرکت پر سربراہ کراچی الیکٹرک (کے-الیکٹرک) کو آئندہ اجلاس میں گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دے دیا گیا۔

چیئرمین سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں سیپکو حکام نے کہا کہ سیپکو اور حیسکو کمپنیوں میں بجلی نہیں ہے، 500 کے وی کی ترسیلی لائن ٹرپ کر گئی ہے، 9 بج کر 35 منٹ پر ٹرپنگ ہوئی ہے اور متعلقہ علاقے اندھیرے میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

سی ای او کے الیکٹرک کی اجلاس میں عدم شرکت پر قائمہ کمیٹی نے سربراہ کے-الیکٹرک کو سمن جاری کرنے کا فیصلہ کیا اور آئندہ اجلاس میں ان کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

چیئرمین قائمہ کمیٹی نے استفسار کیا کہ یہ غنڈہ ہے، داداگیر ہے یا کیا ہے؟ کے-الیکٹرک کا وقت گزر گیا بجلی کی خریدو فروخت کا معاہدہ نہیں ہوپایا۔

اجلاس میں وفاقی وزیر کی عدم شرکت پر بھی قائمہ کمیٹی کی جانب سے اظہارِ برہمی کیا گیا۔

آج ہونے والے بریک ڈاؤن کے حوالے سے وزارت بجلی کے حکام نے اجلاس میں بتایا کہ ملک کے جنوبی حصے اندھیرے میں ڈوب چکے ہیں، تفصیلات فراہم کرنے سے زیادہ افراتفری پھیلے گی۔

اجلاس میں نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) سے استفسار کیا گیا کہ جنوبی علاقوں میں بجلی کہاں اور کیوں ٹرپ ہوئی، تاہم این ٹی ڈی سی حکام وجوہات بتانے میں ناکام رہے۔

این ٹی ڈی سی حکام نے بتایا کہ لائن ٹرپ کر گئی ہے، اس پر سینٹر سیف اللہ ابڑو نے سوال کیا کہ کس علاقے میں ٹرپ ہوئی کوئی خاص مقام تو ہوگا؟

این ٹی ڈی سی حکام نے کہا کہ فیسکو کے 2 گرڈ اسٹیشنز ٹرپ کر گئے ہیں، این ٹی ڈی سی کو صبح پتا چلا کہ بلیک آؤٹ ہوا ہے، 500 کے وی کی ترسیلی لائنوں میں خرابی پیدا ہوئی ہے، حیسکو، سیپکو اور کیسکو کو بجلی کی فراہمی بند کردی گئی۔

چیئرمین سیف اللہ ابڑو نے این ٹی ڈی سی حکام پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو کسی چیز کا پتا ہی نہیں، بادشاہ آدمی ہیں، آپ کو پتا ہی نہیں ایسے ہی بات کر رہے ہیں، ملک میں ٹرانسمیشن لائنوں کا جنازہ نکلا ہوا ہے۔

مشہور خبریں۔

اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، انڈیکس ساڑھے 6 سال بعد 53 ہزار کی بُلند ترین سطح پر

?️ 3 نومبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) صدر مملکت اور چیف الیکشن کمشنر کے درمیان عام

ہمارا مقصد یمن کا محاصرہ ختم کرنا ہے:انصاراللہ

?️ 9 اگست 2022سچ خبریں:یمن کی تحریک انصاراللہ کے سربراہ نے اس بات کی طرف

جنگ بندی کے بارے میں صیہونی تجویز کیسی ہے؟

?️ 5 مئی 2024سچ خبریں: تحریک حماس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے صیہونی حکومت کی

انصاراللہ کی سعودی عرب کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی تصدیق

?️ 8 اپریل 2023سچ خبریں:یمن کی تحریک انصاراللہ کے سیاسی دفتر کے ایک رکن نے

حماس کے پاس اب بھی 20,000 جنگجو موجود ہیں: امریکی میگزین

?️ 23 اگست 2025سچ خبریں: امریکی میگزین دی اٹلانٹک نے ایک صیہونی اہلکار کے حوالے سے

مغربی کنارے میں ہولناک جرم؛ جنین میں دو فلسطینی شہداء کے والد شہید

?️ 21 اگست 2026سچ خبریں:جنین میں صہیونی فوجیوں نے فلسطینی شہداء رعد خازم اور عبدالرحمن

میاں محمد نواز شریف کی حکومت سے فوری الگ نہ ہونے کے پارٹی فیصلے کی توثیق۔

?️ 23 مئی 2022لاہور(سچ خبریں)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد  میاں محمد نواز شریف نے

پنجاب حکومت کا قیمتوں پر قابو پانے کے لیے مجسٹریٹ نظام بحال کرنے کا فیصلہ

?️ 20 ستمبر 2022لاہور: (سچ خبریں) وزیراعلیٰ پنجاب  چوہدری پرویزالٰہی اور انتظامی سیکرٹریز نے ایگزیکٹو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے