ایگزیکٹو عدلیہ کا کردار ادا نہیں کر سکتا، فوجی عدالتوں کے کیس میں بنیادی سوال آئینی ہے، سپریم کورٹ

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ وزارت دفاع ایگزیکٹو ادارہ ہے، آئین کے مطابق ایگزیکٹو عدلیہ کا کردار ادا نہیں کر سکتا، فوجی عدالتوں کے کیس میں بنیادی سوال آئینی ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت شروع ہوگئی۔

جسٹس امین الدین کی سربراہی میں آئینی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے، بینچ میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل ہیں۔

وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ماضی میں قرار دیا کہ فوج کے ماتحت سویلنزکا کورٹ مارشل ہو سکتا ہے۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ موجودہ کیس میں متاثرہ فریق اور اپیل دائر کرنے والا کون ہے؟

خواجہ حارث نے کہا کہ اپیل وزارت دفاع کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔

اس پر جسٹس جمال نے پوچھا کہ کیا وزارت دفاع ایگزیکٹو ادارہ ہے، ایگزیکٹو کیخلاف اگر کوئی جرم ہو تو کیا وہ خود جج بن کر فیصلہ کرسکتا ہے؟، آئین میں اختیارات کی تقسیم بالکل واضح ہے، آئین واضح ہے کہ ایگزیکٹو عدلیہ کا کردار ادا نہیں کر سکتا، فوجی عدالتوں کے کیس میں بنیادی آئینی سوال ہے۔

وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ کوئی اور فورم دستیاب نہ ہو تو ایگزیکٹو فیصلہ کرسکتا ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ قانون میں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کا فورم موجود ہے، قانونی فورم کے ہوتے ہوئے ایگزیکٹو خود کیسے جج بن سکتا ہے؟

وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ آپ کی بات درست ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 8(3) فوج کے ڈسپلن اور کارکردگی کے حوالے سے ہے، کیا فوجداری معاملے کو آرٹیکل8(3) میں شامل کیا جا سکتا ہے؟، آئین میں شہریوں کا نہیں پاکستان کے شہریوں کا ذکر ہے۔

وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ افواج پاکستان کے لوگ بھی اتنے ہی شہری ہیں، جتنے دوسرے شہری۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سوال ہی یہی ہے کہ فوج کے لوگوں کو بنیادی حقوق سے محروم کیسے کیا جا سکتا ہے؟۔

بعد ازاں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کےخلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی۔

وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کل بھی دلائل جاری رکھیں گے۔

مشہور خبریں۔

امریکہ کا سعودی عرب پر اسلحہ جاتی دباؤ؛ وال‌اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ

?️ 1 جولائی 2026سچ خبریں:وال‌اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے خلیج ہرمز سے

روس کا یوکرائن کے دو علاقوں کو آزاد تسلیم کرنے کا اعلان

?️ 23 فروری 2022سچ خبریں:روس کے صدر نے یوکرائن کے دو علاقوں ڈونٹسک اور لوہانسک

برطانیہ کی اکثریت ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے لیے اڈوں کے استعمال کی مخالف

?️ 22 فروری 2026برطانیہ کی اکثریت ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے لیے اڈوں

جرمن شہری جوہری توانائی کو ترک کرنےکے مخالف

?️ 15 اپریل 2023سچ خبریں:Frankfurter Allgemeine Zeitung کے تازہ ترین سروے سے پتہ چلتا ہے

مسافروں کے لیے کرنسی ڈیکلریشن فارم جمع کروانے کی شرط پرانی ہے، ایف بی آر

?️ 12 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) ایف بی آر  نے واضح کیا ہے کہ

پاکستان کا اصولی موقف دنیا اور افغانستان نے تسلیم کیا۔ طلال چودھری

?️ 1 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیرِ مملکت برائے امور داخلہ طلال چوہدری نے

واشنگٹن کی حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان 21 روزہ جنگ بندی کی تجویز

?️ 26 ستمبر 2024سچ خبریں: مغربی اور عرب ممالک کے ایک گروپ نے حزب اللہ

امریکی صدارتی دوڑ میں کون آگے ہے؟

?️ 28 اکتوبر 2024سچ خبریں:تازہ ترین سروے کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ امریکی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے