ایران اور چین مغرب کی حمایت پر بھروسہ نہیں کرتے:پاکستانی دانشور

پاکستانی

?️

سچ خبریں:پاکستانی تھنک ٹینک پیس اسٹڈیز اینڈ فارن پالیسی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے ایرانی صدر کے دورہ چین کو خطے اور دنیا کے لیے اہم پیغامات کا حامل قرار دیا اور پڑوسیوں کے لیے دونوں ممالک کے تعاون کے ثمرات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور چین تعلقات کو فروغ دینے اور ایک دوسرے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کبھی بھی مغرب پر انحصار نہیں کرتے۔

پیس اسٹڈیز اینڈ فارن پالیسی تھنک ٹینک کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر محمد آصف نور نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں IRNA کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ایرانی صدر سید ابراہیم رئیسی کا چین کا سرکاری دورہ، مغرب یا یکطرفہ پابندیوں سے قطع نظر جامع تعاون کو فروغ دینے کے لیے ان دونوں اتحادی ممالک کی مضبوط خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ سفر مغربی طاقتوں بالخصوص امریکہ کو یہ پیغام دیتا ہے کہ تہران اور بیجنگ مغرب کی سیاسی اور اقتصادی حمایت پر بھروسہ نہیں کرتے بلکہ مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہیں۔

اس اسٹریٹجک امور کے محقق نے کہا کہ جناب رئیسی کا چین کا اہم دورہ خطے میں بیجنگ کے اثر و رسوخ میں توسیع اور علاقائی ممالک کے ساتھ ایک بلاک بنانے کا طریقہ بھی ظاہر کرتا ہے،یہ چیز خاص طور پر عالمی امور میں ایک بڑے کھلاڑی کے طور پر چین کے کردار اور بڑھتے ہوئے علاقائی اثر و رسوخ میں امریکہ کے ساتھ مقابلہ کرنے کے میدان میں بھی اہم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چیلنجوں کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران اپنے سفارتی تعلقات کو وسعت دے رہا ہے،اس سے مغربی فریق کے ساتھ تمام مسائل حل کرنے کے لیے ایران کے سیاستدانوں کی آمادگی بھی ظاہر ہوتی ہے اور یہ ایران کے جوہری معاہدے پر مذاکرات کی بحالی اور دیگر تعطل سے نکلنے کی راہ بھی ہموار کر سکتا ہے۔

آصف نور نے ایران اور چین کے درمیان 25 سالہ تعاون معاہدے کی اہمیت پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسٹریٹجک معاہدہ ایران کو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا حصہ بناتا ہے اور دونوں شراکت داروں کے لیے وسیع تجارتی مواقع فراہم کرتا ہے،اس سے ایران کی خطے اور اس سے باہر کے ساتھ بات چیت کرنے کی صلاحیت بڑھے گی، خاص طور پر جب اسے امریکی پابندیوں کا سامنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین کے مشترکہ اقتصادی راہداری منصوبے کے ساتھ ایران اور چین کے درمیان اسٹریٹجک معاہدہ(SIPEC)ان 3 اہم ممالک کے مشترکہ مفادات فراہم کر سکتا ہے تاکہ وہ باہمی طور پر اس کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔

مشہور خبریں۔

جرمنی کا سیاہ ریکارڈ: صدام کو اسلحہ فراہمی سے لے کر اسرائیلی جارحیت کی سفاکی تک

?️ 12 جولائی 2025سچ خبریں: جب بین الاقوامی برادری کو صیہونی ریاست کے ایران پر حملے

اسرائیلی فوڈ انڈسٹری کے مصنوعات میں خراب خام مال کے استعمال کا انکشاف

?️ 5 اگست 2025سچ خبریں: ہیکنگ گروپ "سائبر سپورٹ فرنٹ” نے اپنے ٹیلی گرام چینل

لکی مروت سے 2 فوجی اغوا، بنوں میں فائرنگ کے تبادلے میں پولیس اہلکار شہید ہوگیا

?️ 4 جنوری 2025 لکی مروت: (سچ خبریں) خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت کے

MI6 یوکرین کے فوجیوں کو افریقہ کیوں بھیج رہا ہے؟

?️ 17 اگست 2023سچ خبریں:برطانوی فارن انٹیلی جنس سروس، MI6 یوکرینی کرائے کے فوجیوں کے

آزاد فلسطی ریاست کے قیام کے لیے عالمی تحریک؛ صیہونیت اسٹریٹجک تنہائی میں

?️ 14 مئی 2024سچ خبریں: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ارکان کی اکثریت کی

مغربی کنارے کے حالات 2005 کے بعد سے سب سے زیادہ خطرناک:صیہونی فوجی عہدہ دار

?️ 16 اکتوبر 2022سچ خبریں:صہیونی فوج کے جوائنٹ اسٹاف کے سابق سربراہ نے خبردار کیا

اسرائیل-فلسطین تنازع ظالم اور مظلوم کی جنگ ہے، وزیراعظم

?️ 11 اکتوبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان کے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے

امریکہ کا سعودی حکام پر قید شہزادوں کو رہا کرنے کے لیے دباؤ

?️ 11 فروری 2021سچ خبریں:سعودی ذرائع نے بتایا ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ سعودی ولی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے