?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) انٹربینک مارکیٹ میں ایک بار پھر ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی دیکھی جا رہی ہے، ماہرین نے اس کی وجہ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی میں بےیقینی کی صورتحال اور حکومت پر عدم اعتماد کو قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق انٹربینک میں دن کے اختتام پر روپے کی قدر میں 0.82 فیصد یا 2 روپے 32 پیسے کی کمی ہوئی اور ڈالر 284 روپے 3 پیسے کی سطح پر بند ہوا۔
مالیاتی ڈیٹا اور تجزیاتی پورٹل میٹس گلوبل کے ڈائریکٹر سعد بن نصیر نے کہا کہ گراوٹ کی بنیادی وجہ حکومت کے بیانات پر عدم اعتماد ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود، آئی ایم ایف کے وفد کے دورہ پاکستان کو ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور اسٹاف کی سطح کے معاہدے پر دستخط نہیں ہوسکے ہیں۔
سعد بن نصیر نے کہا کہ جیسے ہی آئی ایم ایف کا قرض پروگرام بحال ہوگا روپے کی قدر میں اضافہ ہونا شروع ہو جائے گا، مزید کہا کہ رمضان میں زیادہ ترسیلات زر آنے کی توقع ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ ہفتے سینیٹ میں یقین دہانی کروائی تھی کہ آئی ایم ایف کی تمام شدید کڑوی شرائط پوری کردی ہیں اور اس میں کوئی دو رائے نہیں جب شرائط پوری ہوچکی ہیں تو اگلے چند دنوں میں اسٹاف لیول معاہدہ اور پھر بورڈ میں یہ معاملہ جانا چاہیے جبکہ اسی سیشن میں وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر کے حوالے سے کہا تھا کہ دوست ممالک نے پاکستان کو سپورٹ کرنے کے وعدے کیے تھے، ہم سے ان کی تکمیل کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
تاہم ٹریس مارک کی ہیڈ آف اسٹرٹیجی کومل منصور نے اس حوالے سے آج تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ شاید سعودی عرب وعدے کی تکمیل نہ کرے یا ہو سکتا ہے کہ ہمیں مزید قرض نہ دے، چین کے علاوہ کسی بھی دوست ملک نے فنڈنگ کے حوالے سے یقین دہانی کا اعادہ نہیں کیا، پیغام یہ ہے کہ یہ ایک دن، ایک مہینے یا پھر ایک سال میں بھی ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اعتماد اتنا کم ہے کہ اس مہینے بانڈز یا ٹریژری بلز میں ایک ڈالر کی بھی سرمایہ کاری نہیں کی گئی۔
کومل منصور نے مزید کہا کہ ملک کی صورتحال بہت حوصلہ افزا نظر نہیں آرہی، بدقسمتی سے ایسا لگتا ہے کہ کسی کے پاس پلان بی نہیں ہے۔
میٹس گلوبل کے سعد بن نصیر نے روپے کی بے قدری کو ڈالر کی افغانستان میں اسمگلنگ کے ساتھ بھی جوڑا، جو ان کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قلت کی وجہ ہے۔
آئی ایم ایف معاہدے میں تاخیر کی وجہ سے مقامی کرنسی کی قدر میں کمی جمعرات (16 مارچ) سے جاری ہے، جس کے تحت پاکستان کو بیل آؤٹ معاشی پیکیج کے تحت ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کی قسط ملے گی۔


مشہور خبریں۔
آئینی ترمیم کیلئے قانون سازی کا معاملہ، حکومتی اتحادیوں کی ملاقات
?️ 10 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومتی اتحادی جماعتوں نے چیف جسٹس آف پاکستان
ستمبر
عورت مارچ کی وجہ سے خلع کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے، نازش جہانگیر
?️ 3 جون 2023کراچی: (سچ خبریں) پاکستان کی نوجوان اداکارہ نازش جہانگیر کا خیال ہے
جون
صیہونی حکومت کی غنڈہ گردی کے خلاف حزب اللہ کی مقاومت جائز
?️ 25 نومبر 2021سچ خبریں: اسلامی مقاومتی تحریک حماس کے ترجمان عبداللطیف القانو نے آسٹریلیا
نومبر
صیہونیوں کی عارضی حکومت کا خاتمہ
?️ 28 ستمبر 2023سچ خبریں: بہت سی صہیونی شخصیات اور مصنفین نے صیہونی عارضی حکومت
ستمبر
سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن میں کوئی کمی نہیں آنی چاہیے۔ مریم نواز
?️ 30 اگست 2025لاہور (سچ خبریں) وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے انتظامیہ کو ہدایت کی
اگست
صیہونی حکومت کے ساتھ مستقبل کی جنگ مختلف ہوگی: صنعا
?️ 7 جنوری 2026 سچ خبریں:یمن کی صنعا میں قائم حکومت کے سربراہ محمد مفتاح
جنوری
یمن میں امارات کے کرائے کے فوجیوں کا سعودی سرحدوں کے قریب جمع ہونے کا مطالبہ
?️ 28 دسمبر 2025سچ خبریں: جنوبی یمن کی متحدہ عرب امارات سے وابستہ ٹرانزیشنل کونسل
دسمبر
بھارت بھر میں اسلاموفوبیا کے واقعات میں خطرناک اضافے پر گہری تشویش ہے، پاکستان
?️ 31 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کو
مئی