?️
واشنگٹن(سچ خبریں) امریکی ایوان نمائندگان نے کابل پر طالبان کے قبضے پر پاکستان کے کردار سے متعلق تمام منفی حوالہ جات خارج کردیے، مذکوہ حوالوں میں ملک کو سقوطِ کابل کا موردالزام ٹھہرایا گیا تھا تاہم اس کے ساتھ منفی پیشرفت بھی دیکھی گئی ہے جو سری لنکن فیکٹری منیجرکی المناک ہلاکت پر سامنے آئی ہے، اس واقعے سے ملک میں سلامتی کی صورتحال پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے جس کے بعد امریکی پاکستان کے دورے کے حوالے سے زیادہ محتاط ہوگئے ہیں.
امریکا کے قومی سلامتی ایکٹ 2022 کے متن میں امریکا کے سیکرٹری برائے دفاع و ریاست کو کانگریس کی کمیٹی کے سامنے تصدیق کرنی تھی کہ پاکستان کو حمایت فراہم کرنا امریکا کے قومی سلامتی کے مفاد میں ضروری ہے. بل کے ترمیمی ورژن سے لفظ ”پاکستان“ کو نکال کر متن تبدیل کرتے ہوئے”افغانستان کے قریب کوئی بھی ملک“ لکھ دیا گیا ایک اور حوالہ جس کے حقیقی متن میں طالبان کے کابل پر قبضے میں پاکستان کے کردار کی وضاحت طلب کی گئی تھی اسے بھی حذف کردیا گیا اور اس ریفرنس میں مزید کچھ شامل نہیں کیا گیا.
ایکٹ میں امریکا کے انخلا کی وجوہات اور اثرات کی تحقیقات کی شرط برقرار رکھتے ہوئے تجویز دی گئی کہ اس عمل کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو افغانستان کے قریب اور دور دراز پڑوسیوں کے کردار کا جائزہ لے امریکی مفادات کے لیے پاکستان کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کا ایک اشارہ گزشتہ ہفتے سامنا آیا جب جوبائیڈن انتظامیہ نے اسلام آباد کو پہلے جمہوری اجلاس میں مدعو کیا جو 9 سے 10 دسمبر تک جاری رہا.
دعوت پر تبصرہ کرتے ہوئے واشنگٹن کے بااثر تھنک ٹینک بروکنگز انسٹی ٹیوشن نے پاکستان کو مدعو کرنے اوربنگلہ دیش کو دعوت نہ دینے پر دو وجوہات کا حوالہ دیا ایک یہ کہ امریکی فہرست میں کس کا اسکور قدرے بہتر ہے بروکنگز انسٹی ٹیوشن نے وضاحت دی کہ 2015 سے پاکستان کے جمہوری اسکور میں قدرے بہتری دیکھی جارہی ہے جبکہ بنگلہ دیش میں جمہوری نظام خرابی کا شکار ہے .
انہوں نے دوسری وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ امریکا خطے میں جمہوری حریف کے ساتھ بھارت کی شمولیت متوازن کرنا چاہتا ہے بروکنگز انسٹی ٹیوشن نے رپورٹ میں کہا کہ امریکا کی درجہ بندی میں بھارت درمیانے درجے پر موجود ہے سال 2020 سے 2021 تک حکومتی اختیارات میں رکاوٹ، بدعنوانی اور بنیادی حقوق کی فراہمی میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے. علاوہ ازیں 3 دسمبر کو سری لنکن فیکٹری منیجر پریانتھا کمار کے قتل کے بعد پاکستان کے تشخص پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں واقعے کے بعد امریکی سینیٹ وفد نے پاکستان کا دورہ کیا تھا وفد میں سینیٹر انگس کنک، ریچرڈ بر، جوہن کورنین اور بینجامن سس شامل تھے، انہوں نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران پاکستان کے ساتھ بہترین تعلقات برقرار رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا.
تاہم ان کی آمد اور اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کی خبر وفد کی روانگی کے بعد جاری کی گئی، بظاہر یہ امریکا کی ہدایات پر کیا گیا تھا یاد رہے کہ 9/11 کے بعد امریکا اور مغربی اقوام پاکستان کے حوالے سے تشویش کا شکار ہیں، لیکن آہستہ آہستہ امریکا کی پابندیاں کم ہوتی جارہی ہیں. امریکی عہدیداران نے سرکاری بریفنگز کے دوران مستقبل میں پاکستان کے دورے کی باتیں شروع کردی تھیں البتہ ان دوروں کے شیڈول کا اعلان نہیں کیا گیا .


مشہور خبریں۔
مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فورسز کی محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کا سلسلہ جاری
?️ 22 ستمبر 2025سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں
ستمبر
انتخابات میں مشیل اوباما جو بائیڈن کی جگہ لے سکتی ہیں
?️ 26 جنوری 2024سچ خبریں:امریکی میڈیا کے مطابق امریکہ کے سابق صدر کی اہلیہ مشیل
جنوری
ترکی میں طالبان: حلال تجارت کو فروغ دینا اور اقتصادی تعاون کو بڑھانا ہماری ترجیح ہے
?️ 27 نومبر 2025سچ خبریں: طالبان حکومت کے وزیر صنعت و تجارت نے ترک حکومت
نومبر
بلوچستان حکومت نے ملازمین سے بات چیت کے لئے کمیٹی تشکیل دے دی
?️ 5 اپریل 2021بلوچستان(سچ خبریں)وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے اپنے مطالبات کے حق
اپریل
یورپی انتخابات کے موقع پر فرانس کا میکرون کو زبردست تھپڑ
?️ 2 جون 2024سچ خبریں: جرمن اخبار ہینڈلزبلاٹ نے اپنے ایک مضمون میں یورپی پارلیمنٹ کے
جون
پشاور میں دہشت گردوں کا تھانے پر حملہ، جوابی کارروائی میں 2 جہنم واصل
?️ 11 اکتوبر 2025پشاور (سچ خبریں) پشاور میں پولیس سٹیشن پر دہشت گردوں نے حملہ
اکتوبر
ٹک ٹاک نے انسٹاگرام طرز کے نئے فیچر ’بلٹن بورڈز‘ کی آزمائش شروع کردی
?️ 30 جون 2025سچ خبریں: شارٹ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک نے سوشل شیئرنگ
جون
صدر آزاد کشمیر اسمبلی بیرسٹر سلطان محمود چودھری انتقال کرگئے
?️ 31 جنوری 2026مظفرآباد (سچ خبریں) صدر آزاد جموں و کشمیر اسمبلی بیرسٹر سلطان محمود
جنوری