الیکشن کمیشن کی سیاسی جماعتوں کو انتخابی نشانات کے لیے درخواستیں جمع کرانے کی ہدایت

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سیاسی جماعتوں کو اس سال کے آخر میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل انتخابی نشانات کی الاٹمنٹ کے لیے درخواستیں جمع کرانے کے لیے دعوت دی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتہ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں الیکشن کمیشن نے فریقین سے کہا کہ وہ 19 جولائی تک کمیشن کے اسلام آباد سیکریٹریٹ میں پارٹی سربراہ کی دستخط شدہ درخواستیں جمع کرائیں۔

سیاسی جماعتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی ایکٹ 2017 کے سیکشن 216 کے مطابق انتخابی نشانات کے لیے درخواستیں جمع کرائیں۔

سیکشن کے مطابق درخواستوں میں ترجیح کی بنیاد پر درخواست کردہ علامتوں کی فہرست ہونی چاہیے، جیسے کہ پچھلے عام انتخابات کے دوران سیاسی جماعت کو اگر کوئی نشان یا نشانات مختص کیا گیا تھا اور پارٹی کے ہیڈ آفس کا پتہ وغیرہ تھا، تو اس کا بھی اندراج کریں۔

سیکشن کے مطابق اس کے علاوہ اس طرح کی ہر درخواست پر جو بھی نام دیا گیا ہو، اس پر پارٹی سربراہ کے دستخط کیے جائیں گے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ جن سیاسی جماعتوں نے فروری اور مارچ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات کے لیے انتخابی نشانات کے لیے درخواستیں جمع کرائی تھیں، انہیں نئے سرے سے درخواستیں دینا ہوں گی۔

الیکشن کمیشن نے مزید کہا کہ فیکس کے ذریعے نامکمل درخواستوں پر غور نہیں کیا جائے گا، اس پریس ریلیز کے اجرا سے قبل موصول ہونے والی درخواستوں پر بھی غور نہیں کیا جائے گا، اس طرح، ایسی تمام جماعتوں سے جنہوں نے اس پریس ریلیز کے اجرا سے قبل درخواستیں بھیجی تھیں، ان سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ نئی درخواستیں دیں۔

اسی طرح مقررہ تاریخ 19 جولائی کے بعد موصول ہونے والی درخواستوں پر بھی غور نہیں کیا جائے گا۔

سیاسی جماعتوں سے درخواستیں موصول ہونے کے بعد کمیشن الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 215 کی روشنی میں ان کی اہلیت کا تعین کرے گا۔

سیکشن 215، جس کا عنوان ’انتخابی نشان حاصل کرنے کے لیے پارٹی کی اہلیت‘ ہے، میں کہا گیا ہے کہ الیکشن ایکٹ کے تحت اندراج شدہ سیاسی جماعت پارلیمان، صوبائی اسمبلیوں یا مقامی حکومتوں کے لیے الیکشن لڑنے کے لیے انتخابی نشان حاصل کرنے کی اہل ہے۔

اس کے علاوہ، فہرست میں شامل سیاسی جماعتوں کا ایک مجموعہ انتخاب کے لیے صرف ایک انتخابی نشان حاصل کرنے کا حقدار ہو گا اور یہ اس وقت ممکن ہو گا جب اس طرح کے امتزاج کی تشکیل کرنے والی ہر جماعت متعلقہ سیکشنز میں بتائے گئے سرٹیفکیٹس اور گوشوارے جمع کرائے گی۔

سیکشن یہ بھی نوٹ کرتا ہے کہ سیاسی جماعت کو پہلے سے مختص کردہ انتخابی نشان دوسروں کو الاٹ نہیں کیا جائے گا۔

مزید برآں، اگر کوئی سیاسی جماعت سیکشن 209(سیاسی پارٹی کی طرف سے تصدیق) یا سیکشن 210 (فنڈز کے ذرائع کے بارے میں معلومات) کی فراہمی میں ناکام رہتی ہے تو الیکشن کمیشن ایسی جماعت کو شوکاز نوٹس جاری کرے گا کہ اسے کیوں انتخابی نشان حاصل کرنے کے لیے اہل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

مشہور خبریں۔

الجزیرہ چینل کا دفتر بند کرنے کے صیہونی مقاصد

?️ 12 مئی 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت نے حال ہی میں اپنے جرائم پر پردہ

عمان کی یمنی انصار اللہ کو دہشت گرد کہنے کی مخالفت

?️ 3 فروری 2022سچ خبریں:   ایک انٹرویو میں عمانی وزیر خارجہ نے یمن کی انصار

پانی سے وبا تک؛ غزہ جنگ میں اسرائیل کے ہتھیار

?️ 11 دسمبر 2023سچ خبریں:برطانوی ماہرین تعلیم، سیاسیات، سیاسی فلسفہ، تاریخ، جغرافیہ، قانون اور مشرق

اشپیگل: ایران کے معاملے میں ٹرمپ کے اختیارات ختم ہو چکے ہیں

?️ 29 مارچ 2026سچ خبریں: جرمن کے اشپیگل اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ

رفح میں مشکوک سکیورٹی حادثہ ہوا یا کروایا گیا؟

?️ 29 اکتوبر 2025سچ خبریں:لبنانی اخبار نے غزہ پر اسرائیل کے حملوں کے دوبارہ آغاز

پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ بڑھ کر 26 کھرب روپے سے تجاوزکر گیا

?️ 20 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ مالی سال کے

بنگلہ دیش میں بھارتی انتہاپسند وزیراعظم مودی کے متوقع دورے کے خلاف شدید مظاہرے شروع ہوگئے

?️ 20 مارچ 2021ڈھاکا (سچ خبریں) بھارتی انتہاپسند وزیراعظم نریندر مودی 26 مارچ کو بنگلہ

اسلاموفوبیا کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے: وزیر اعظم

?️ 4 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) دنیا میں اسلاموفوبیا میں اضافہ ہو رہا ہے  اس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے