الیکشن کمیشن کا قومی اسمبلی کی 33 نشستوں پر 16 مارچ کو انتخابات کرانے کا اعلان

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان  نے قومی اسمبلی کی 33 نشستوں پر ضمنی انتخابات کرانے کا شیڈول جاری کردیا۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اسمبلی کے 33 حلقوں پر 16 مارچ 2023 کو  ضمنی انتخابات ہوں گے جن کے لیے 6 فروری سے 8 فروری تک کاغذات نامزدگی وصول کیے جائیں گے۔

جن اراکین کے استعفے منظور کیے گئے ہیں ان میں مراد سعید، عمر ایوب خان، اسد قیصر، پرویز خٹک، عمران خٹک، شہریار آفریدی، علی امین خان، نور الحق قادری، راجا خرم شہزاد نواز، علی نواز اعوان، اسد عمر، صداقت علی خان، غلام سرور خان، شیخ راشد شفیق، شیخ رشید احمد، منصور حیات خان، فواد احمد، ثنااللہ خان مستی خیل، محمد حماد اظہر، شفقت محمود خان، ملک محمد عامر ڈوگر، شاہ محمود قریشی، زرتاج گل، فہیم خان، سیف الرحمٰن، عالمگیر خان، علی حیدر زیدی، آفتاب حسین صادق، عطااللہ، آفتاب جہانگیر، محمد اسلم خان، نجیب ہارون اور محمد قاسم خان سوری شامل تھے۔

اس کے علاوہ خواتین کی مخصوص نشستوں پر منتخب عالیہ حمزہ ملک اور کنول شوزب کے استعفے بھی منظور کر لیے گئے تھے۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے جن حلقوں پر انتخابات کرانے کا نوٹی فکیشن جاری کیا گیا ہے ان میں یہ شامل ہیں۔

  • این اے 04 سوات 3
  • این اے 17 ہری پور 1
  • این اے 18 سوابی 1
  • این اے 25 نوشہرہ 1
  • این اے 26 نوشہرہ 2
  • این اے 32 کوہاٹ
  • این اے 38 ڈی آئی خان 1
  • این اے 43 خیبر 1
  • این اے 52 اسلام آباد 1
  • این اے 53 اسلام آباد 2
  • این اے 54 اسلام آباد 3
  • این اے 57 راولپنڈی 1
  • این اے 59 راولپنڈی 3
  • این اے 60 راولپنڈی 4
  • این اے 62 راولپنڈی 6
  • این اے 63 راولپنڈی7
  • این اے 76 جہلم 2
  • این اے 97 بھکر 1
  • این اے 126 لاہور 4
  • این اے 130 لاہور 8
  • این اے 155 ملتان 2
  • این اے 156 ملتان 3
  • این اے 191 ڈیرہ غازی خان 3
  • این اے 241 کورنگی کراچی 3
  • این اے 242 کراچی ایسٹ 1
  • این اے 243 کراچی ایسٹ 2
  • این اے 244 کراچی ایسٹ 3
  • این اے 247 کراچی ساؤتھ 2
  • این اے 250 کراچی ویسٹ 3
  • این اے 252 کراچی ویسٹ 5
  • این اے 254 کراچی سینٹرل 2
  • این اے 256 کراچی سینٹرل 4
  • این اے 265 کوئیٹہ 2

خیال رہے کہ 17 جنوری کو اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے تحریک انصاف کے 34 اراکین اسمبلی کے استعفے منظور کیے تھے۔

اسپیکر کی جانب سے جن اراکین کے استعفے منظور کیے گئے تھے ان میں 33 ارکان کے ساتھ ساتھ خواتین کی مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین بھی شامل تھیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کی جانب سے استعفے منظوری کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 35 اراکین قومی اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کر دیا تھا۔

بعدازاں اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے پاکستان تحریک انصاف کے مزید 34 اراکین اسمبلی کے استعفے منظور کرنے کے تین روز بعد ہی 20 جنوری کو پی ٹی آئی کے مزید 35 اراکین کے استعفے منظور کرلیے جب کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے فوری طور پر انہیں ڈی نوٹیفائی کردیا گیا تھا۔

پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی نے 11 اپریل 2022 کو پارلیمنٹ میں اعتماد کے ووٹ کے ذریعے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد اپنے استعفے جمع کرائے تھے۔

اسمبلی سے بڑے پیمانے پر مستعفی ہونے کے فیصلے کا اعلان پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے 11 اپریل کو وزیر اعظم شہباز شریف کے انتخاب سے چند منٹ قبل اسمبلی کے فلور پر کیا تھا۔

مشہور خبریں۔

خدا کی قسم یمن میں سعودیوں اور اماراتی عوام کا غرور کچل دیا گیا: سید عبدالملک الحوثی

?️ 16 جون 2022سچ خبریں:  یمن کی تحریک انصار اللہ کے سربراہ سید عبدالملک الحوثی

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان

?️ 13 جولائی 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں

پاکستان فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے عالمی فیصلوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔ اسحاق ڈار

?️ 23 ستمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے

ہیروشیما کے 80 سال بعد؛ امریکہ اب بھی دنیا کا نمبر ایک جوہری خطرہ ہے

?️ 7 اگست 2025سچ خبریں: ہیروشیما اور ناگاساکی کے بم دھماکوں کی 80 ویں برسی

امریکہ سے کسی خیر کی توقع کرنا خود فریبی ہے. حافظ نعیم الرحمان

?️ 20 جون 2025لاہور (سچ خبریں) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے

رمضان کے مقدس مہینے میں ضرورت مندوں کی مدد کے لیے سید حسن نصر اللہ کی سفارشات

?️ 26 مارچ 2023سچ خبریں:رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی آمد کے موقع پر اپنے

امریکی ہتھیار غزہ میں کہاں کہاں استعمال ہوتے ہیں؟امریکی میڈیا کا اعتراف

?️ 8 جون 2024سچ خبریں: ایک امریکی چینل نے غزہ میں ایک اسکول پر اسرائیلی

جنوبی سوڈان، مغربی ترقیاتی امداد کی آڑ میں ساختی بدعنوانی کی تولید کی ایک مثال

?️ 26 دسمبر 2025سچ خبریں: ترقیاتی امداد فطری طور پر بدعنوان نہیں ہے۔ لیکن کمزور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے