?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی اعتماد کا ووٹ لینے کے فوری بعد پنجاب اسمبلی تحلیل کر دیں گے۔
عمران خان کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کے درمیان اس حوالے سے صلاح مشورے جاری ہیں کہ اتحادی مسلم لیگ (ق) کے صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل میں تاخیر کے مشورے پر جو کہ بظاہر اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے آرہا ہے سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
عمران خان نے لاہور کے زمان پارک میں واقع اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد صاحب اختیار لوگ انتخابات کرانے پر مجبور ہوں گے اور میں اپریل میں انتخابات ہوتے دیکھ رہا ہوں۔
انہوں نے اسی سانس میں واضح طور پر دعویٰ کیا کہ میں نئی فوجی اسٹیبلشمنٹ سے رابطے میں ہوں ۔
پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ وزیر اعلیٰ 11 جنوری سے قبل اعتماد کا ووٹ لے لیں جب کہ اسی تاریخ کو وزیر اعلیٰ اور ان کی کابینہ کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے گورنر کے ’غیر آئینی‘ حکم کے خلاف پنجاب حکومت کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ میں اگلی سماعت ہوگی۔
صرف ایک روز قبل عمران خان نے مارچ یا اپریل میں نئے انتخابات کی امید ظاہر جب کہ اس سے ایک روز قبل انہوں نے کہا تھا کہ سنگین معاشی صورتحال کے باعث نئے انتخابات فروری یا مارچ میں لازمی ہونے چاہییں۔
انہوں نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کو دہرایا کہ نئے انتخابات کیوں ضروری کیوں ہیں اور کس طرح سے نئے عوامی مینڈیٹ والی حکومت ڈوبتی ہوئی معیشت سنبھال سکتی ہے اور اسے دوبارہ ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔
اگرچہ عوام میں مسلم لیگ (ق) عمران خان کے فیصلے پر مکمل اعتماد اور حمایت کا اظہار کر رہی ہے، تاہم وزیراعلیٰ پرویز الٰہی پنجاب اسمبلی کی مدت پوری ہونے تک اس کی تحلیل میں تاخیر کے حامی ہیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کے صاحبزادے مونس الٰہی جو کہ عمران خان کے ساتھ براہ راست بات چیت کر رہے ہیں نے تحریک انصاف کو اعتماد کے ووٹ کے حصول تک اپنے اراکین اسمبلی کو پارٹی کے ساتھ جوڑ کر رکھنے کا مشورہ دیا ہے اور تجویز دی ہے کہ پہلے لاہور ہائی کورٹ کو فیصلہ کرنے دیں کہ گورنرکی جانب سے جاری اجلاس کے دوران اجلاس بلانے کا حکم دینا اور وزیر اعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کرنا درست ہے یا نہیں؟
پی ٹی آئی ذرائع نے بتایا کہ پارٹی اس بات پر بھی تبادلہ خیال کر رہی ہے کہ کیا وہ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے مطلوبہ تعداد یعنی 186 اراکین کو ایوان میں جمع کر سکتی ہے جب کہ کچھ ایم پی اے بیرون ملک ہیں، تاہم پارٹی پراعتماد ہے کہ بدترین صورت میں وہ پرویز الٰہی کو رن آف الیکشن میں دوبارہ وزیر اعلیٰ منتخب کرانے میں کامیاب ہو جائے گی۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ق) کی قیادت یہ خبردار کرنے میں حق بجانب ہے کہ عمران خان پہلے اس بات کو یقینی بنائیں کہ دونوں ایوانوں کے تحلیل ہونے کے 90 روز کے بعد پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کرا دیے جائیں گے۔
اس تناظر میں پی ٹی آئی چیئرمین نے میڈیا کو بتایا کہ اگر انتخابات میں تاخیر ہوتی ہے تو بھی ان کی پارٹی کو کوئی پروا نہیں کیونکہ موجودہ وفاقی حکومت کو عوامی غصے کا سامنا ہوگا۔
عمران خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پی ٹی آئی نے 17 دسمبر کو پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں اس لیے فوری طور پر تحلیل نہیں کیں کیونکہ اسے اپنے اتحادیوں کو اس حوالے سے اعتماد میں لینا تھا۔“
عمران خان کی جانب سے 23 دسمبر کو دونوں اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کا اعلان کرنے سے ایک دن قبل یعنی 16 دسمبر کو وزیر اعلیٰ پنجاب نے راولپنڈی کا دورہ کیا تھا اور پی ٹی آئی سربراہ کو اسمبلی تحلیل کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا مشورہ لے کر واپس آئے تھے۔
پرویز الٰہی اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد اسمبلی کو فوری تحلیل پر زور دیتے ہوئے عمران خان نے وزیر اعلیٰ کے ارادوں کے بارے میں سوال پر تحمل کا مظاہرہ کیا، انہوں نے کہا اچھا کھلاڑی وہ ہوتا ہے جو ہر گیند کا سامنا کرتا ہے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) سیٹ کے درمیان ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے مشاورت بھی جاری ہے جب کہ دونوں جماعتیں اپنے اتحاد کو جاری رکھنا چاہتی ہیں، تاہم سیٹوں کی تعداد کے بارے میں عمران خان نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔
اگرچہ اطلاعات ہیں کہ مسلم لیگ (ق) 2018 کے عام انتخابات میں حاصل ہونے والی سیٹوں کے مقابلے میں بڑا حصہ چاہتی ہے جب کہ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ق) کو نشستیں دی جائیں گی جہاں اس کی جیت کے امکانات ہیں۔
مونس الٰہی کہہ چکے ہیں کہ مسلم لیگ (ق) چاہتی ہے کہ دونوں اتحادی جماعتیں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ کریں جب کہ پنجاب اسمبلی جلد تحلیل ہونے والی ہے، ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی سربراہ نے پارٹی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی جس کی 3 ملاقات ہوئیں اور اس دوران سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر بات چیت ہوئی۔
دونوں اتحادیوں نے اب تک وسطی اور جنوبی پنجاب کی حلقہ بندیوں کے معاملات کو حتمی شکل دی ہے جب کہ مونس الہیٰ نے ان خبروں کو مسترد کر دیا کہ مسلم لیگ (ق) پنجاب میں 30 صوبائی اور 15 قومی اسمبلی کی نشستوں کا مطالبہ کر رہی ہے، مونس الٰہی کو امید ہے کہ مسلم لیگ (ق) کو نشستوں کا بڑا حصہ ملے گا جب کہ اس مرتبہ صرف سیاست دان مشاورت کر رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کے سینئر رہنما فواد چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی حمایت کے بغیر مسلم لیگ (ق) آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل نہیں کر سکے گی، انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ق) کو ایڈجسٹمنٹ کے تحت وہ سیٹیں ملیں گی جہاں اس نے جیتنے کی اپنی طاقت دکھائی۔
انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) کے درمیان اب تک گجرات اور گوجرانوالہ اضلاع میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر بات ہوئی ہے۔
قبل ازیں، پی ٹی آئی سربراہ عمران خان نے قائداعظم محمد علی جناح کے یوم پیدائش پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ قائد محمد علی جناح کے پاکستان کے وژن کو سمجھنے میں ناکام رہنے کی ایک بڑی وجہ قانون کی بالا دستی نہ ہونے ک باعث انصاف کی عدم فراہمی ہے۔


مشہور خبریں۔
قطر پر حملہ امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کیا جائے گا:ٹرمپ کا نیا حکم
?️ 1 اکتوبر 2025 قطر پر حملہ امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کیا
اکتوبر
اگر پاکستان کو بچانا ہے تو کیا کرنا ہوگا؟ عمران خان کی زبانی
?️ 10 جولائی 2024سچ خبریں: پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کا کہنا ہے
جولائی
امریکہ میں بائیں بازو کی سوچ دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ کا باعث: امریکی تھنک ٹینک
?️ 1 اکتوبر 2025امریکی بین الاقوامی اور اسٹراٹیجک مطالعاتی مرکز کی جانب سے جاری کردہ
اکتوبر
عرب رہنما فلسطین کو کوئی اہمیت نہیں دیتے: سابق صیہونی وزیر اعظم
?️ 24 جون 2026سچ خبریں:سابق صیہونی وزیر اعظم نفتالی بینیت نے اپنے ایک بیان میں
جون
وفاقی حکومت نے بجٹ کے ساتھ اہم قوانین متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا
?️ 9 جون 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی حکومت نے بجٹ کے ساتھ اہم قوانین متعارف کرانے
جون
گل پلازہ میں ریسکیو اینڈ سرچ آپریشن مکمل، مزید 2 لاشیں برآمد، ہلاکتیں 73 ہوگئیں
?️ 25 جنوری 2026کراچی (سچ خبریں) گل پلازہ میں ریسکیو اینڈ سرچ آپریشن 9 ویں
جنوری
صہیونی میڈیا وال اسٹریٹ جرنل میں سنسر شدہ جنگی معلومات کی اشاعت کی عکاسی کرتا ہے
?️ 16 جولائی 2025سچ خبریں: مسلط کردہ 12 روزہ جنگ میں ایران کے کامیاب اور
جولائی
سندھ : فائیو جی ٹیکنالوجی پر پابندی لگانے کی درخواست مسترد، درخواست گزارپر جرمانہ عائد
?️ 9 اکتوبر 2021کراچی (سچ خبریں) سندھ ہائی کورٹ میں فائیوجی ٹیکنالوجی اور کوروناویکسین کیخلاف
اکتوبر