اسپیکر قومی اسمبلی کی حکومت، اپوزیشن مذاکرات میں پُل کا کردار ادا کرنے کی پیشکش

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے لیے اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اختلافات ختم کرنے کے لیے بات چیت ضروری ہے اور اس کے لیے میرا دفتر ہر وقت حاضر ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق ایاز صادق نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ میں مصروفیت کی وجہ سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک نہیں ہورہا ہوں، گزشتہ روز بھی بہت مختصر وقت کے لیے ایوان میں گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ میں آج بھی مصروف ہوں کیونکہ سعودی شوریٰ کے اسپیکر اور ان کے ہمراہ ایک وفد دورہ پاکستان پر موجود ہیں، جو چاہتے ہیں ہمارے پارلیمنٹ ٹو پارلیمنٹ تعلقات مزید بہتر ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ کل جو ماحول بنا، جس طرح پی ٹی آئی کے شیر افضل مروت اور مسلم لیگ (ن) کے رانا ثنااللہ اور خواجہ آصف نے جس طرح بات کی، وہ میں نے دیکھی۔

ایاز صادق نے کہا کہ اسپیکر کا دفتر اور گھر حکومت اور اپوزیشن کا ہوتا ہے، اسپیکر کے دروازے ہر وقت اپنے اراکین کے لیے کھلے رہتے ہیں، چاہے ایوان کی کارروائی چل رہی ہو یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسپیکر کا گھر اور دفتر 24 گھنٹے کھلا ہے، حکومت اور اپوزیشن تلخی ختم کرنے، ملکی مفاد پر بات کرنے یا لا اینڈ آرڈر کے معاملات پر گفتگو کرنا چاہیں تو آجائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلی، صوبوں کی خود مختاری سمیت بے شمار دیگر مسائل ہیں، جن پر حکومت اور اپوزیشن کو بات کرنی چاہیے تو میں اس کے لیے تیار ہوں، آئیں اور بیٹھ کر بات کریں۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ جب تک میں اس عہدے پر ہوں، میں کوئی کمی نہیں آنے دوں گا، سب اراکین چاہے ان کا تعلق حکومت سے ہو یا اپوزیشن سے، میرے لیے سب برابر اور قابل احترام ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی ایشوز سمیت کسی بھی معاملے پر مذاکرات میں کردار ادا کرنے کو تیار ہوں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران شیر افضل مروت نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ میڈیا مذاکرات کی بات کرتا ہے اور یہاں کہتے ہیں مذاکرات نہیں ہو رہے، قوم کے سامنے جھوٹ بولا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کل خواجہ آصف نے کہا تھا کہ مذاکرات کے لیے پی ٹی آئی کو پہل کرنا پڑے گی لیکن اس کے لیے حکومت کو بھی پہلے انا کے خول سے باہر آنا ہوگا، مذاکرات کے لیے سیاستدانوں میں ٹی او آرز طے ہی نہیں کیے جاتے کیا۔

بعد ازاں، خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے دوران کہا کہ شیر افضل مروت نے جو بات کی، یہ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا محسوس ہوا ہے، ہماری اس جنگ میں نقصان ملک کو ہو رہا ہے، معاملات افہام و تفہیم سے حل ہوتے ہیں، دھمکیوں سے نہیں، سیاستدان معاملات کے حل اور مذاکرات کے لیے سیاسی زبان استعمال کرتے ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ میں مذاکرات کا ماہر نہیں ہوں لیکن ہماری جماعت اور پیپلزپارٹی میں بھی ایسے لوگ ہیں جو اس کی قابلیت رکھتے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ تبدیلی ایسی آنی چاہیے کہ ماحول بن سکے لیکن اگر آپ اپنی زبان سے کشیدگی بڑھا رہے ہوں اور یہ توقع رکھیں کہ مذاکرات ہوجائیں تو یہ ممکن نہیں۔

وزیراعظم کے مشیر رانا ثناللہ نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات تک سسٹم آگے نہیں چل سکتا، سیاسی استحکام سمیت اس کے سوا کوئی حل نہیں کہ سیاسی لوگ بیٹھ کر جمہوری انداز میں مسائل حل کریں۔

مشہور خبریں۔

نیتن یاہو کی کابینہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتی: بینی گینٹز

?️ 14 اگست 2024سچ خبریں: صہیونی اخبار معاریو  نے مقبوضہ علاقوں میں بلیو اینڈ وائٹ

جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد وارفیئر چلنا شروع ہوگئی جس کو بھارتی میڈیا لیڈ کر رہا تھا، ترجمان فوج

?️ 14 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل

خیبرپختونخوا: مخصوص نشستوں پر حلف برداری کا کیس، اسپیکر کو ممبران سے حلف لینے کا حکم

?️ 27 مارچ 2024پشاور: (سچ خبریں) پشاور ہائی کورٹ نے مخصوص نشستوں پر حلف برداری

صہیونی فوج کا فلسطینی قیدی رہنما کو قتل کرنے کا منصوبہ

?️ 28 اکتوبر 2024سچ خبریں:صہیونی فوجیوں نے فتح تحریک کے قید رہنما مروان البرغوثی کو

اتحادی حکومت کا آئندہ انتخابات سےقبل ووٹ پکے کرنے کا ایک اور منصوبہ سامنے آ گیا

?️ 11 فروری 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت نے ووٹ بینک بڑھانے کے لیے نوکریاں

گیلنٹ کی برطرفی کی وجوہات

?️ 7 نومبر 2024سچ خبریں: اگرچہ امریکی انتخابات صیہونی حکومت کے پرنٹ اخبارات کی اہم

اقوام متحدہ نے غزہ پر اسرائیلی دہشت گردی کی تحقیقات کے لیئے اہم قدم اٹھا لیا

?️ 28 مئی 2021جنیوا (سچ خبریں) اقوام متحدہ نے غزہ پر اسرائیلی دہشت گردی کی تحقیقات

پاکستانی اور سعودی وزراے خارجہ کا ٹیلفونک رابطہ 

?️ 27 فروری 2026پاکستانی اور سعودی وزراے خارجہ کا ٹیلفونک رابطہ پاکستان کے وزیرِ خارجہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے