اسٹیبلشمنٹ سے اختلاف کی دو وجوہات عمران خان نے بتا دیں

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے دورِ حکومت میں اسٹیبلشمنٹ سے ہونے والے دو اختلافات بتا دئیے۔

نجی ٹی وی کو دئے گئے انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ میرے آرمی چیف سے کبھی تعلقات خراب نہیں ہوئے تھے،ہماری طاقت یہ تھی کہ ہم ایک پیج پر تھے،ایک پیج پر اس لیے تھے کیونکہ میرا کوئی پرسنل ایجنڈا نہیں تھا،ماضی میں نوازشریف اور آصف زرداری کے اسٹیبلشمنٹ سے اس لیے اختلافات ہوتے تھے کہ یہ پیسے چوری کرکے باہر بھیجتے تھے، آئی ایس آئی کے پاس ساری معلومات ہوتی تھیں اور فوج کو پتہ ہوتا تھا۔

میرا تو ایسا کوئی مسئلہ نہیں تھا لہذا آرمی چیف سے میرے تعلقات بالکل ٹھیک تھے۔تاہم ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری پر ہمارے درمیان ایشو ہوا تھا کیونکہ میں چاہتا تھا کہ سیکیورٹی مسائل کی وجہ سے جنرل فیض سردیوں تک رہیں۔

لیکن ان کا موقف تھا کہ فوج کے اندر اصولوں کے مطابق چلنا ہوتا ہے، ہر ایک کا ایک ٹایم پیریڈ ہوتا ہے۔لیکن میں تب پورے پاکستان کے لیے سوچ رہا تھا۔

عمران خان نے مزید کہا کہ دوسرا مسئلہ عثمان بزدار کے اوپر تھا لیکن میں نے بتایا کہ ہمارا پنجاب کا سیٹ اپ بہت نازک ہے۔عثمان بزدار کو ہٹا دیا تو اور کسی نام پر اتفاق نہیں ہو گا،جنرل باجوہ کو بتایا تھا کہ عثمان بزدار کو ہٹانے پر بہت مسائل کو سامنا ہوگا،ایک آدمی کا نام لیتے تھے لیکن وہ ممکن نہیں تھا کیونکہ ان کے زمینوں کے ایشو تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ میری طاقت عوام ہیں، میں 26سال قبل جب سیاست میں آیا تو میرے پاس کوئی الیکٹیبلز نہیں تھے، میں عوام کے ذریعے سیاست میں آیا اوراس کے ذریعے ہی واپس جاتا ہوں۔

عمران خان نے کہا کہ توشہ خانہ اور فارن فنڈنگ کیس احمقانہ کیسز ہیں، میں چاہتا تھا توشہ خانہ میں جن کو تحائف ملے ہم سب کا موازنہ کیا جائے کہ کون قانون پر چل رہا تھا اور کون نہیں چل رہا تھا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ایک ایسا الیکشن کمشنر آگیا ہے جو اخلاقی طور پر کرپٹ ہے، بزدل ہے پریشر نہیں لے سکتا، یہ کیسے آیا ؟ اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے اپنے اور ہم نے اپنے الیکشن کمشنر کیلئے نام دیے، جب ہمارے درمیان اتفاق نہیں ہوا تو نیوٹرلز نے نام دیے کہ اس کو رکھ لیں، نیوٹرلز یعنی اسٹیبلشمنٹ ،افسوس یہ ہے جس دن سے یہ آیا ہے ، حالانکہ الیکشن کمیشن ہمیشہ حکومت کے ساتھ چلتی ہے، لیکن اس میں کوئی شرم نہیں ، بڑی بے شرمی کے ساتھ فیصلے کرتا ہے،اس نے آٹھ بار ہمارے خلاف فیصلے دیے۔

مشہور خبریں۔

یمن کے واشنگٹن اور تل ابیب کے لیے چند پیغامات

?️ 26 دسمبر 2024سچ خبریں: یمن، جو لبنان کی حزب اللہ کے بعد مزاحمت کے

سلامتی کونسل کے اجلاس میں روس ،امریکہ اور انگلینڈ کے نمائندوں کے درمیان لفظی جنگ

?️ 29 اکتوبر 2022سچ خبریں:امریکہ اور برطانیہ کے نمائندوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل

بھارت مقبوضہ جموں وکشمیرمیں نوآبادیاتی ایجنڈے پر عملدرآمد تیز کررہا ہے

?️ 29 جنوری 2025سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کل

دمشق جنگ نہیں چاہتا، اسرائیل مقبوضہ شامی علاقوں سے پیچھے ہٹے

?️ 15 اکتوبر 2025دمشق جنگ نہیں چاہتا، اسرائیل مقبوضہ شامی علاقوں سے پیچھے ہٹے  شدت

امریکہ کے ساتھ مذکرات کرنے کے بارے میں ایران کا اعلان

?️ 19 اپریل 2021سچ خبریں:ایران کی وزارت خارجہ نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات

ہم ترکی اور شام کے زلزلہ متاثرین کے ساتھ ہیں:پوپ فرانسس

?️ 14 فروری 2023سچ خبریں:کیتھولک دنیا کے رہنما نے ایک تقریر میں اعلان کیا کہ

یورپی یونین کا مغربی کنارے میں صیہونی آبادکاروں کے تشدد اور غیرقانونی بستیوں کی توسیع پر اظہار تشویش

?️ 13 جون 2026سچ خبریں:یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ کاویہ کالاس نے

پاکستان اورعراقی فورسز کی انسدادِ دہشتگردی کی مشترکہ مشقیں کامیابی سے مکمل

?️ 30 نومبر 2025راولپنڈی (سچ خبریں) پاک فوج نے 24 ستمبر سے 29 نومبر 2025

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے