’آپریشن رجیم چینج‘ کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں 52 فیصد اضافہ ہوا، فواد چوہدری

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے سینئر نائب صدر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ملک میں ’آپریشن رجیم چینج‘(اپریل میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے حکومت میں تبدیلی) کے بعد سے دہشت گردی کے واقعات میں 52 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

 کوئٹہ کے قریب بدھ کو ہونے والے خودکش حملے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپریشن رجیم چینج ’ایک اچھی کارکردگی دکھانے والی پی ٹی آئی حکومت‘ کو گرانے اور اس کی جگہ ’امپورٹیڈ حکومت‘ کو لانے کے لیے کیا گیا تھا۔

پی ٹی آئی رہنما نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت کے دور میں دہشت گردی سے متعلق واقعات میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 270 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافے کی بڑی وجہ اسلام آباد میں ایک ’سنجیدہ اور قابل‘ حکومت کا نہ ہونا ہے، انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے گورننس کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ ’تیزی سے پھلتی پھولتی معیشت‘ کو بھی تباہ کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغان پالیسی بھی زبوں حالی کا شکار ہے کیونکہ کوئی بھی انسداد دہشت گردی پر توجہ نہیں دے رہا ہے جس کے بعد ڈر ہے کہ ہم 2018 کے بعد محنت سے حاصل کی گئی کامیابیوں سے محروم ہو جائیں گے۔

دوسری جانب اسلام آباد میں قائم ایک تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز نے دعویٰ کیا ہے کہ اس سال اکتوبر کے مقابلے میں نومبر میں عسکریت پسندوں کے حملوں کی تعداد میں 12 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

نومبر میں عسکریت پسندوں نے 34 حملے کیے جن میں 42 افراد مارے گئے جن میں 17 سیکیورٹی فورسز کے اہلکار اور 25 عام شہری شامل تھے اور انسٹیٹیوٹ نے رپورٹ میں بتایا کہ ان حملوں میں 49 افراد زخمی بھی ہوئے جن میں 35 سیکیورٹی فورسز کے اہلکار اور 14 شہری شامل ہیں۔

اکتوبر میں عسکریت پسندوں نے 39 حملے کیے جن میں 33 افراد ہلاک اور 41 زخمی ہوئے، نومبر کے آخر میں کالعدم عسکریت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے سیز فائر ختم اور حملے تیز کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس اعلان کے 48 گھنٹوں کے اندر کوئٹہ میں خودکش حملہ کیا۔

نومبر میں دو خودکش حملے ہوئے جن میں سے ایک فاٹا جبکہ دوسرا کوئٹہ میں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ رواں سال کے ابتدائی 11 مہینوں کے دوران عسکریت پسندوں نے 330 حملے کیے جن میں 483 افراد ہلاک اور 755 زخمی ہوئے، اگر 2021 کے ابتدائی گیارہ مہینوں سے موازنہ کیا جائے تو عسکریت پسندوں کے حملوں میں 24 فیصد اضافہ ہوا ہے، اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات میں 35 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد میں 32 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

مشہور خبریں۔

اسرائیل شام میں اپنا قبضہ مضبوط کرنا چاہتا ہے: انصار اللہ

?️ 10 جنوری 2025سچ خبریں: یمن کے انصار اللہ کے رہنما عبدالملک الحوثی نے علاقائی

لبنان آنے والے ڈالروں سے بھرے امریکی بیگ کہاں جاتے تھے؟

?️ 21 اگست 2023سچ خبریں: الیمیادین چینل کی رپورٹ کے مطابق برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز

زیلنسکی کو عدالت کے چکر لگانا ہوں گے:روس

?️ 13 اگست 2022سچ خبریں:روسی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ دمتری میدویدیف نے کہا کہ

حزب اللہ کا اسرائیل کو نیا جھٹکا

?️ 13 مئی 2024سچ خبریں: لبنان کی حزب اللہ تحریک، جو حال ہی میں مقداری اور

جنرل فیض حمید کابل گئے ہیں تو بھارت کو کیا تکلیف ہے

?️ 5 ستمبر 2021پشاور (سچ خبریں)  تفصیلات کے مطابق طورخم بارڈر پر میڈیا نمائندگان سے

حماس 15 ماہ کی جنگ کے بعد بھی دفاع کے لیے تیار

?️ 21 جنوری 2025سچ خبریں: غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کے بارے

خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردوں کی اتحادی، آپریشن کا فیصلہ کابینہ نے کرنا ہے۔ خواجہ آصف

?️ 8 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ

سپریم کورٹ: غیرقانونی تارکین وطن کی بے دخلی کا کیس کھلی عدالت میں لگانے کا حکم

?️ 20 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے غیرقانونی طور پر پاکستان میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے