آصف زرداری کا چیف جسٹس کی جانب سے الیکشن مذاکرات کے مشورے کا خیرمقدم

?️

لاہور: (سچ خبریں) سابق صدر آصف زرداری کا چیف جسٹس سپریم کورٹ کی جانب سے سیاسی جماعتوں کو انتخابات کے بارے میں مذاکرات کے مشورے کا خیرمقدم کیا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق شریک چیئرمین پیپلزپارٹی سابق صدر آصف زرداری نے چیف جسٹس سپریم کورٹ کے انتخابات کیلئے مذاکرات کے مشورے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ اس کیلئے ہمیں تھوڑا ٹائم بھی چاہیئے۔
سابق صدر آصف زرداری نے کہا کہ ہم نے آپس میں مذاکرات شروع کردیئے ہیں، تاکہ حکومت کی تمام جماعتیں ایک مئوقف پر آجائیں۔باہمی مذاکرات کے بعد سیاسی مخالفین سے بھی بات کریں گے۔چیف جسٹس ہمیں تھوڑا ٹائم دے دیں، ہم بھی ایک ہی دن الیکشن چاہتے ہیں۔ یاد رہے کہ چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے وزارت دفاع کی ایک دن الیکشن کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔
3رکنی بینچ میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل ہیں۔عدالت نے فنڈز کی فراہمی سے متعلق وفاقی حکومت سے دوبارہ جواب طلب کر لیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ اگر فنڈز فراہم نہ کیے گئے تو سنگین نتائج آ سکتے ہیں،حکومت نے اپنا ایگزیکٹیو کام پارلیمان کو دیا ہے یا نہیں؟معاملہ بہت لمبا ہوتا جارہا ہے،اللہ تعالٰی ہمیں ہمت دے کہ صیح فیصلے کریں اور ہمیں نیک لوگوں میں شامل کرے۔
چیف جسٹس نے قرار دیا کہ انتظامی امور قائمہ کمیٹی کو بھجوانے کی مثال نہیں ملتی،انتخابی اخراجات ضروری نوعیت کے ہیں غیر اہم نہیں۔ حکومت کا گرانٹ مسترد ہونے کا خدشہ اسمبلی کے وجود کیخلاف ہے،توقع ہے حکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے گی۔ حکومت فیصلہ کرے یا اسمبلی کو واپس بھجوائے،جواب دے،اس معاملے کے نتائج غیر معمولی ہو سکتے ہیں،فی الحال غیر معمولی نتائج پر نہیں جانا چاہیے،جب ہم چلے جائیں تو ہمیں اچھے الفاظ میں یاد کیا جائے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ گرانٹ کی بعد میں منظوری لینا رسکی تھا،جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا حکومت کی بجٹ کے وقت اکثریت نہیں ہونی تھی؟جو بات آپ کر رہے ہیں وہ مشکوک لگ رہی ہے،مالی معاملات میں تو حکومت کی اکثریت لازمی ہے۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ قومی اسمبلی کی قرار داد کی روشنی میں معاملہ پہلے منظوری کیلئے بھیجا۔ جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ آئین حکومت کو اختیار دیتا ہے تو اسمبلی قرارداد کیسے پاس کر سکتی ہے؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے عدالت کو کہا گیا تھا سپلیمنٹری گرانٹ کے بعد منظوری لی جائے گی،اس کے برعکس معاملہ ہی پارلیمنٹ کو بھجوا دیا گیا،کیا الیکشن کیلئے ہی ایسا ہوتا ہے یا عام حالات میں بھی ایسا ہوتا ہے؟ دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا وزارت دفاع ایک ساتھ الیکشن کرنے کی استدعا کر سکتی ہے؟۔
سیاسی جماعتیں کچھ کرنا چاہتی ہیں تو ہم ان کے ساتھ ہیں، وزارت دفاع کی درخواست ناقابلِ سماعت ہے۔ الیکشن کمیشن نے پہلے کہا وسائل دیں الیکشن کروالیں گے،اب کہتے ہیں ملک میں انارکی پھیل جائے گی، الیکشن کمیشن پورا مقدمہ دوبارہ کھولنا چاہتا ہے،وزارت دفاع کی رپورٹ میں ایک ساتھ الیکشن کرانے کی عجیب سی استدعا ہے، نگران حکومت کے 90 دن سے زیادہ برقرار رہنے پر بھی سوال اٹھتا ہے۔
اگر سیاسی جماعتیں کچھ کرنا چاہتی ہیں تو ہم ان کے ساتھ ہیں،ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ پانچ دن عید کی چھٹیاں ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ سیاسی جماعتیں ایک مؤقف پر آ جائیں تو عدالت گنجائش نکال سکتی ہے۔عدالت نے ایک دن انتحابات کرانے کی درخواستوں پر سیاسی جماعتوں کو کل کا نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت صبح ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی۔

مشہور خبریں۔

بائیڈن کا ریاض کا دورہ

?️ 11 جولائی 2022سچ خبریں:    چار باخبر ذرائع کے مطابق بائیڈن انتظامیہ سعودی عرب

امریکہ کا افغانستان میں رہنے کا بہانہ

?️ 11 جولائی 2021سچ خبریں:امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان جان کربی نے حال ہی میں

یمنی مزاحمت کیوں نہیں رک سکی؟

?️ 25 دسمبر 2023سچ خبریں:غزہ پر آخری حملے میں اسرائیلی اور امریکی حکومت کا ہدف

مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی قدم، فلسطینی مزاحمتی تنظیم کا سخت ردعمل

?️ 26 فروری 2026مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی قدم، فلسطینی مزاحمتی تنظیم کا سخت ردعمل

حزب اللہ: مزاحمت کی قیمت ہتھیار ڈالنے سے بہت کم ہے

?️ 9 دسمبر 2025سچ خبریں: حزب اللہ کے نمائندے رائد برو نے یہ بیان کرتے

آزاد کشمیر میں بھی تحریک انصاف سب سے مقبول جماعت

?️ 23 جولائی 2021مظفرآباد (سچ خبریں)تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر انتخابات کے انعقاد کے میں

مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے مذاکرات کی اندرونی کہانی منظر عام پر آگئی

?️ 20 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے مذاکرات کی اندرونی کہانی منظرعام

حکومت ملکی اور معاشی ترقی کے لئے انسانی وسائل پر  توجہ دے رہی ہے: صدر مملکت

?️ 19 مئی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے