?️
اسلام آباد(سچ خبریں) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے لیے شرح نمو 4 فیصد کے ساتھ ساتھ رواں مالی سال کے دوران مہنگائی اور بیروزگاری کی بلند ترین شرح کی پیش گوئی کی ہے یہ شرح نمو بالکل ویسی ہی ہے جیسا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے تقریباً دو ہفتے قبل بتائی تھی۔
اس کے علاوہ چند روز قبل عالمی بینک کی جانب سے 3.4 فیصد شرح نمو کی پیش گوئی کی گئی تھی جو حکومت نے غیر حقیقی قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔فِچ سلوشنز نے پاکستان کی شرح نمو 4.2 فیصد بتائی تھی جو کہ 4.8 فیصد کے بجٹ کے ہدف سے نمایاں طور پر کم تھی۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا تھا کہ جی ڈی پی کی شرح نمو 5.4 فیصد سے زائد متوقع ہے۔
اپنے ورلڈ اکنامک آؤٹ لک (ڈبلیو ای او) میں واشنگٹن میں مقیم قرض دینے والی ایجنسی نے رواں مالی سال کے دوران افراط زر کی اوسط شرح 8.5 فیصد، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 3.1 فیصد اور بے روزگاری کی شرح 4.8 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا ہے۔
آئی ایم ایف نے مالی سال 2026 تک اقتصادی ترقی کی شرح آہستہ آہستہ جی ڈی پی کے 5 فیصد تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا تھا جس کا اندازہ رواں سال اپریل میں لگایا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ افراط زر کی شرح گزشتہ مالی سال کے 8.9 فیصد کے مقابلے میں رواں سال 8.5 فیصد تک کم ہوجائے گی تاہم اگلے سال کے آخر تک دوبارہ بڑھ کر 9.2 فیصد ہو جائے گی آئی ایم ایف کو توقع تھی کہ کنزیومر پرائز انڈیکس مالی سال 2026 تک آہستہ آہستہ کم ہو کر 6.5 فیصد ہو جائے گا۔
انہوں نے اندازہ لگایا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مالی سال 2021 میں جی ڈی پی کے 0.6 فیصد سے بڑھ کر اگلے سال (مالی سال 2022) 3.1 فیصد ہو جائے گا اور پھر مالی سال 2026 تک کم ہو کر 2.8 فیصد ہو جائے گی۔
ڈبلیو ای او نے 2021 میں عالمی شرح نمو 5.9 فیصد اور 2022 میں 4.9 فیصد کی پیش گوئی کی ہے۔ڈبلیو ای او نے نشاندہی کی کہ ’عالمی معاشی بحالی جاری ہے، کووڈ 19 کی وجہ سے سامنے آئے فالٹ لائنز زیادہ پائیدار نظر آرہے ہیں، توقع کی جاتی ہے کہ قریبی دورانیے میں درمیانی مدت کی کارکردگی پر یہ دیرپا نقوش چھوڑ جائیں گے‘۔
تاہم آئی ایم ایف کی چیف اکانومسٹ گیتا گوپی ناتھ نے کہا کہ معاشی امکانات کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں اور پالیسیوں کی تجارت زیادہ پیچیدہ ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری جولائی کی پیش گوئی کے مقابلے میں 2021 کے لیے عالمی نمو کا تخمینہ معمولی طور پر کم ہو کر 5.9 فیصد رہ گیا ہے اور 2022 کے لیے 4.9 فیصد پر کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’کم آمدنی والے ترقی پذیر ملک کے گروپ کا نقطہ نظر وبائی امراض کی خرابی کی وجہ سے کافی تاریک ہو گیا ہے‘۔
انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ترقی یافتہ معاشی گروپ کی مجموعی پیداوار 2022 میں دوبارہ وبا سے پہلے کے رجحان کو دوبارہ حاصل کرلیں گے۔
ابھرتی ہوئی مارکیٹ اور ترقی پذیر اکانومی گروپ (چین کو چھوڑ کر) کی پیداوار 2024 میں وبائی امراض سے پہلے کی پیش گوئی سے 5.5 فیصد کم رہنے کی توقع ہے جس کے نتیجے میں ان کے معیار زندگی میں بہتری کو بڑا دھچکا لگے گا۔
اگرچہ ترقی یافتہ معیشتوں میں 60 فیصد سے زائد آبادی کو مکمل طور پر ویکسین لگادی گئی ہے اور چند کو اب بوسٹر شاٹس مل رہے ہیں، وہیں کم آمدنی والے ممالک میں تقریبا 96 فیصد آبادی کو ویکسین نہیں لگی ہے۔
آئی ایم ایف نے ممبر ممالک کو یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ وبائی امراض کے بعد کی معاشی چیلنجز سے نمٹیں جن میں انسانی سرمایہ کو اکٹھا کرنا، گرین ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق ترقی کے نئے مواقع کو آسان بنانا، عدم مساوات کو کم کرنا وغیرہ شامل ہیں۔


مشہور خبریں۔
سویلین کا ملٹری ٹرائل: میری تجویز مان لی جائے تو قانون نہیں ٹرائل کالعدم ہوگا، وکیل فیصل صدیق
?️ 3 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں فوجی عدالتوں
مارچ
پاکستان کو آئندہ ماہ آئی ایم ایف سے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی قسط ملنے کی توقع
?️ 13 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان
نومبر
لیکود ایک مجرمانہ تنظیم ہے
?️ 12 مئی 2025سچ خبریں: لیکود (نیتن یاہو کی پارٹی) کے رویے نے اس تحریک
مئی
امریکی صدارتی انتخابات کے بارے میں بائیڈن کا بیان
?️ 9 نومبر 2024سچ خبریں:امریکی صدر جو بائیڈن نے ملک میں ہونے والے انتخابات میں
نومبر
برطانیہ کا یوکرین کو 200 کلومیٹر کی دوری تک مار کرنے والے ڈرون دینے کا اعلان
?️ 17 مئی 2023سچ خبریں:برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ چند ماہ میں
مئی
نصراللہ نے صیہونیوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا
?️ 9 جون 2021سچ خبریں:رائے الیوم نے اپنے اداریے میں لکھاکہ لبنان میں حزب اللہ
جون
امریکہ کی زلنسکی کو آخری وارننگ
?️ 21 اپریل 2025 سچ خبریں:امریکہ نے یوکرینی صدر ولودیمیر زلنسکی کو ایک آخری وارننگ
اپریل
صدر مملکت کی سیاسی گرما گرمی کم کرنے کیلئے ایک بارپھر ثالثی کی پیشکش
?️ 15 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) شدید سیاسی بے یقینی کی صورتحال کے درمیان صدر
مارچ