آئندہ بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئندہ بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے، غریب اور متوسط طبقے کی مالی مشکلات میں کمی کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جمعہ کو جاری بیان کے مطابق وفاقی بجٹ 26۔2025 کی تیاری کے حوالے سے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں نجی شعبے سے تعلق رکھنے والی ممتاز کاروباری شخصیات اور ماہرین سے بجٹ پر مشاورت کی گئی۔

وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملکی ترقی و خوشحالی کے لئے حکومت اور نجی شعبے کو مل کر کام کرنا ہے، آئندہ بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف دینا اولین ترجیح ہے، غریب اور متوسط طبقے کی مالی مشکلات میں کمی کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

وزیراعظم نے وفاقی بجٹ کی تیاری میں برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ صنعتوں کے فروغ اور پیداوار میں اضافے کے لئے منصوبوں پر کام کیا جائے، نوجوانوں کو پیشہ وارانہ تربیت دے کر عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہماری حکومت کی ترجیح ہے۔

شہباز شریف نے وفاقی بجٹ تیار کرتے ہوئے نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی بھی ہدایت کی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں اور ہاؤسنگ کے شعبوں پر بھرپور توجہ دی جائے کیونکہ ان تمام شعبوں میں بے حد استعداد موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت منصوبوں کا فروغ آئندہ بجٹ میں حکومتی ترجیح ہو گی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاور سیکٹر میں حکومتی اصلاحات کے مثبت نتائج آرہے ہیں، صنعتوں کے لئے بجلی کی قیمتوں میں کمی صنعت و پیداوار کے فروغ کی جانب ایک اہم اقدام ہے، حکومتی نظام کو شفاف بنانے، کاروباری برادری ، سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے آٹومیشن اور ڈیجیٹایزیشن کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت کے حجم کو کم کرنے کے حوالے سے رائٹ سائزنگ کا عمل آئندہ مالی سال میں بھی جاری رکھا جائے گا۔

اس موقع پر وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ بجٹ تیاری کے حوالے سے نجی شعبے سے مشاورت کا عمل گزشتہ تین ماہ سے جاری ہے، بجٹ کی تیاری کے حوالے سے معیشت کے مختلف شعبوں سے سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورتی سیشنز کئے گئے ہیں ، 30۔2025 تک کا پانچ سالہ ٹریڈ پالیسی فریم ورک جلد مکمل کر لیا جائے گا، ای کامرس 2.0 فریم ورک بھی تکمیل کے قریب ہے۔ اس کے علاوہ ٹیرف ریشنلائزیشن کے حوالے سے بھی لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے، کاروباری شخصیات اور ماہرین کے وفد نے حکومتی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپنی اپنی تجاویز دیں ۔

وزیراعظم نے نجی شعبے سے تعلق رکھنے والی ممتاز کاروباری شخصیات اور ماہرین کی تجاویز کا خیر مقدم کیا اور ان کی قابل عمل تجاویز کو بجٹ میں شامل کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب ، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزہ فاطمہ ، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس احمد لغاری ، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک ، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

مشہور خبریں۔

اوباما کی خاموشی ٹوٹ گئی۔ "ٹرمپ کے دعوے مضحکہ خیز اور خلفشار ہیں”

?️ 23 جولائی 2025سچ خبریں: سابق امریکی صدر کے دفتر نے ملک کے موجودہ صدر

مسجد اقصی میں نماز جمعہ کا بے مثال اجتماع

?️ 14 مئی 2021سچ خبریں:یروشلم اور مغربی کنارے میں شدید کشیدگی کے باوجود ہزاروں فلسطینیوں

ملک میں تمام امتحان منسوخ کر دئے:وزیر تعلیم

?️ 27 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے ڈاکٹر فیصل سلطان

شام میں داعشی سرغنہ ہلاک

?️ 11 اگست 2022سچ خبریں:شام کے صوبے درعا میں اس ملک کی فوج کے ساتھ

واشنگٹن کا مقصد ہے سوڈان میں بحران کو بڑھانا

?️ 20 نومبر 2021سچ خبریں: سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سوڈان میں فوج اور

برطانیہ کا یوکرین کے لیے دو سال تک جوہری ایندھن کی فراہمی کا اعلان 

?️ 16 جون 2026سچ خبریں: برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے دفتر نے اعلان کیا

عراق میں امریکی اڈوں کی شامت؛دودن سے لگاتا حملوں کی زد میں

?️ 6 جنوری 2022سچ خبریں:عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر دو دن سے لگاتار حملے

صہیونی جلادوں کے ہاتھوں صحافیوں کا ٹارگٹڈ قتل اور بین الاقوامی برادری کے ردعمل کی ضرورت

?️ 14 مئی 2025سچ خبریں: فلسطینی صحافی حسن اسلیح کی ہسپتال میں قابضین کے ہاتھوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے