آئی ٹی پارکس سمیت دیگر کمپنیوں کو بلاتعطل انٹرنیٹ فراہمی کیلئے پالیسی فریم ورک پر کام شروع

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) ملک بھر کے آئی ٹی پارکس، سافٹ ویئر ہاوسز، اسپیشل ٹیکنالوجی زون، ڈیٹا کال سینیٹرز کو بلا تعطل انٹرنیٹ سروس کی فراہمی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کام نے پالیسی فریم ورک پر کام کرنا شروع کردیا۔

وفاقی حکومت نے ملک بھر میں آئی ٹی پارکس، سافٹ ویئر ہاؤسز، اسپیشل ٹیکنالوجی زون کو بلا تعطل انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ذرائع کے مطابق وزارت آئی ٹی کی طرف سے بلا تعطل انٹرنیٹ سروسز کی فراہمی سے متعلق پالیسی فریم ورک پر کام کا آغاز کردیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں وزارت آئی ٹی متعلقہ اسٹیک ہولڈرز، پی ٹی اے کے ساتھ پالیسی پر مشاورت کرے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پالیسی کے تحت انکیوبیشن سینیٹر، ڈیٹا کال سینیٹرز کو بلا ہتعطل انٹرنیٹ فراہم کیا جائے گا، انٹرنیٹ کی بندش سے تمام آئی ٹی پارکس، ٹیکنالوجی زون کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔

ذرائع کے مطابق انٹرنیٹ بند ہونے کی صورت میں بھی آئی ٹی پارکس، ڈیٹا سینیٹرز کو انٹرنیٹ کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی، پی ٹی اے پالیسی پر عملدرآمد کے لیے لیے تکنیکی مدد فراہم کرے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) شزہ فاطمہ خواجہ نے اعتراف کیا تھا کہ پاکستان میں انٹرنیٹ کی ویسی رفتار دستیاب نہیں، جس طرح ہونی چاہیے، انٹرنیٹ آج ایک اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں کاروباری رہنماؤں اور ڈیجیٹل ماہرین نے کہا تھا کہ پاکستان کی حکومت انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا گلا گھونٹ رہی ہے جب کہ وہ اختلاف رائے کو کچلنے کے لیے نئے کنٹروزلز کی جانچ بھی کر رہی ہے اور اس عمل سے ملک کی معاشی بحالی خطرے میں پڑ رہی ہے۔

ایک انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) ایسوسی ایشن نے بتایا تھا کہ جولائی سے اب تک انٹرنیٹ نیٹ ورکس معمول سے 40 فیصد تک سست رہے ہیں، جب کہ لاکھوں افراد کی جانب سے استعمال کیے جانے والے واٹس ایپ پر دستاویزات، تصاویر اور وائس نوٹس بھی متاثر ہوئے ہیں۔

ڈیجیٹل حقوق کے ماہرین کا خیال تھا کہ ریاست ایک ’فائر وال‘ کی جانچ کر رہی ہے، یہ ایک سیکیورٹی سسٹم ہےجو نیٹ ورک ٹریفک کی نگرانی کرتا ہے لیکن اسے آن لائن جگہوں کو کنٹرول کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ڈیجیٹل حقوق کے ماہر اور کارکن اسامہ خلجی نے کہا تھا کہ انٹرنیٹ کی سست روی ریاست کی طرف سے قومی فائر وال اور مواد فلٹرنگ سسٹم کی تنصیب کی وجہ سے ہے جس کا مقصد نگرانی کو بڑھانا اور سیاسی اختلاف رائے کو سنسر کرنا ہے، بالخصوص سیاست میں مداخلت کے لیے سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ پر ہونے والی تنقید کو۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکام واٹس ایپ کو اس کی اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن صلاحیتوں کی وجہ سے نشانہ بنا رہے ہیں، جو صارفین کو معلومات کو محفوظ طریقے سے شیئر کرنے کے قابل بناتا ہے اور کوئی تیسرا فریق اس تک رسائی حاصل نہیں کرسکتا۔

مشہور خبریں۔

لیبیا کی قومی استحکام حکومت کے سربراہ کا دفاعی تعاون کے ایجنڈے کے ساتھ پاکستان کا دورہ

?️ 18 جولائی 2025سچ خبریں: مشرقی لیبیا میں قومی استحکام کی حکومت کے سربراہ "خلیفہ

ایران مخالف منصوبہ جسے نیتن یاہو پورا نہ کر سکا؛ سابق صیہونی وزیر اعظم کا انکشاف

?️ 1 جولائی 2026سچ خبریں:صہیونی حکومت کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے دعویٰ کیا

توہین عدالت کیس میں کل عمران خان پر فرد جرم عائد کرنے کیلئے سماعت ہوگی

?️ 21 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)ایڈیشنل جج زیبا چوہدری سے متعلق دیے گئے بیان

زیادہ سے زیادہ دباؤ سے زیادہ سے زیادہ پابندیوں تک؛ ایران پر امریکی پابندیاں کیوں ناکام ہوتی ہیں؟

?️ 29 اگست 2026سچ خبریں:ایران کے خلاف امریکی پابندیوں، چین اور روس کے کردار، 2018

طالبان کا لڑکیوں کے اسکول دوبارہ کھولنے کا منصوبہ

?️ 27 مارچ 2022سچ خبریں:طالبان کی وزارت تعلیم کے ترجمان نے اعلان کیا کہ چھٹی

صہییونی فوج مین نفسیاتی بیماری کا نمایاں اضافہ 

?️ 18 فروری 2026صہییونی فوج مین نفسیاتی بیماری کا نمایاں اضافہ مقبوضہ علاقوں میں گزشتہ

شام کے بحران کو سبوتاژ کرنے کے ذمہ دار مغربی ممالک ہیں:شام

?️ 24 نومبر 2021سچ خبریں:شام کے وزیر خارجہ فیصل المقداد نے منگل کی رات کہا

پاکستان نے افغانستان کے الزامات کو مسترد کر دیا

?️ 16 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستانی دفتر خارجہ نے افغان نائب صدر امر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے