غزہ کو 15 سال کیلئے مصر کے حوالے کرنے کا صیہونی منصوبہ

غزہ کو 15 سال کیلئے مصر کے حوالے کرنے کا صیہونی منصوبہ

?️

سچ خبریں:سابق اسرائیلی وزیر اعظم لاپید نے غزہ کے مستقبل کیلئے ۱۵ سالہ مصری سرپرستی کی تجویز پیش کی، اس منصوبے کے پسِ منظر، اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ کے خدشات اور صہیونی ریاست کے حقیقی اہداف کی مکمل وضاحت اس تجزیے میں پڑھئے۔

معروف ماہرِ مشرق وسطیٰ محسن فائضی نے ایک تجزیہ میں سابق صیہونی وزیراعظم یائیر لاپید کے اس نئے تصور پر روشنی ڈالی ہے جو انہوں نے برطانیہ کی پارلیمنٹ میں غزہ کے مستقبل کے بارے میں پیش کیا,اسرائیل کیلئے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جنگ کے بعد غزہ کا سیاسی اور انتظامی مستقبل کیا ہوگا؟
نیتن یاہو اور صہیونی اسٹیبلشمنٹ کا پسندیدہ منظرنامہ حماس کا مکمل خاتمہ اور غزہ پر براہ راست فوجی قبضہ ہے، لیکن یہ نہ صرف مہنگا اور ناممکن ہے بلکہ خود اسرائیلی فوج بھی اس کی مخالفت کرتی ہے، جیسا کہ بیت حانون میں حالیہ چھ فوجیوں کی ہلاکت سے ظاہر ہوا۔
لاپید کی تجویز یہ ہے کہ اگلے 15 سال تک غزہ کو مصر کے حوالے کر دیا جائے، جیسا کہ 1948ء سے 1967ء کے درمیان تھا۔ ان کے مطابق مصر کو دہشت گردی اور اخوان المسلمون سے نمٹنے کا تجربہ ہے، اور مصر اسرائیل کا علاقائی اتحادی بھی ہے,لاپید کے خیال میں ایک علامتی فلسطینی اتھارٹی بھی انتظامی لحاظ سے شامل ہو سکتی ہے، لیکن حقیقی کنٹرول مصر کے ہاتھ میں ہو۔
لاپید اس منصوبے کی بنیادی دلیل کے طور پر مصر کی معاشی مشکلات اور بین الاقوامی برادری کی مالی امداد کو پیش کرتے ہیں۔ ان کے بقول، غزہ کی سرپرستی کے بدلے عالمی برادری مصر کی اندرونی معاشی مشکلات حل کرنے میں مدد دے سکتی ہے,تاہم اسرائیل کی انٹیلی جنس اس منصوبے کو ناقابلِ عمل سمجھتی ہے، کیونکہ کوئی بھی غیر حماس قوت غزہ میں اقتدار سنبھالے، عملی طور پر وہ حماس کی باقیات کے ساتھ سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہوگی۔
تجزیہ نگار کے مطابق، لاپید کا یہ منصوبہ صہیونی ریاست کے مقاصد کے لیے مطلوب نہیں، اور نہ ہی اسے اسرائیلی سلامتی اسٹیبلشمنٹ قبول کرے گی۔
نیتن یاہو کا موقف ہے کہ واحد راستہ غزہ میں براہِ راست صہیونی تسلط ہے، ورنہ ہر دوسرا فیصلہ دوبارہ نقطہ آغاز کی طرف لوٹنا ہے۔
اسی طرح ڈونلڈ ٹرمپ بھی مسئلہ فلسطین کا "آخری حل” صرف فلسطینی آبادی کی جبری ہجرت اور اسرائیل کی علاقائی قوت تسلیم کرنے کو قرار دیتے ہیں۔
یعنی مزاحمت کو ختم کرنے کا اور کوئی حل صہیونی ریاست کے نزدیک قابل قبول نہیں۔

مشہور خبریں۔

عراق سے نکلنے کے امریکی وعدہ ڈاما ڈول

?️ 16 دسمبر 2021سچ خبریں:   الفتح اتحاد نے اس بات پر زور دیا کہ عراق

بنوں میں پولیو ٹیموں پر حملوں کے بعد پولیس کی ہڑتال

?️ 12 ستمبر 2024بنوں: (سچ خبریں) خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیو کے قطرے

اڈیالہ جیل میں پرویز الہیٰ کی طبعیت بگڑ گئی، چیک اپ کیلئے پمز ہسپتال منتقل

?️ 27 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعلیٰ

کرونا وائرس کی چوتھی لہر سے 24 گھنٹوں میں 39 اموات ہوئیں

?️ 17 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں)  ملک بھر میں کورونا وائرس کی چوتھی لہر

سرکاری اراضی قبضہ کیس: محمود خان اچکزئی کے وارنٹ گرفتاری جاری

?️ 26 اپریل 2024کوئٹہ: (سچ خبریں) سرکاری اراضی قبضہ کیس میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی

حکومت کا پن بجلی منافع ٹیرف سے الگ کرنے پرغور، صارفین کو ریلیف ملے گا

?️ 20 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت نے پن بجلی منافع ٹیرف سے الگ

آذربائیجان کا مسافر طیارہ حادثے کا شکار؛درجنوں افراد جاں بحق

?️ 25 دسمبر 2024سچ خبریں:آذربائیجان کا مسافر طیارہ قزاقستان میں گر کر تباہ ہوگا جس

افغان طالبان عبوری حکومت میں پاکستان مخالف لابی سرگرم ہے، وزارت خارجہ

?️ 10 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ افغان طالبان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے